عدم استحکا م کب تک

عدم استحکا م کب تک

امر یکا کی جا نب سے افغانستان میں مد ر بم پھاڑنے اور تباہی بکھرنے کے بعد سے افغانستان میں کئی شدید حملے ہو ئے ہیں جو نا معلو م طا قتوں کی جا نب سے کیے گئے ہیں، جن کے بارے میں گما ن ہے کہ مد ر بم جس تنظیم یعنی داعش کو ملیا میٹ کر نے کی غر ض سے پھینکا گیا تھا یہ شدید حملے اسی تنظیم کی جا نب سے ہو رہے ہیں کیو ں کہ طالبان نے ان حملو ں کی ذمہ داری رد کر دی ہے۔ افغان دارالحکومت کا بل میں 30مئی 2017ء کو سفارتی علاقے میں ہو لنا ک بم دھماکا ہو ا جس کے نتیجے میں نو ے افراد ہلا ک ہو ئے اور ساڑھے تین سو افرا د شد ید زخمی ہو ئے۔ دھماکے کے مقام پر غیر ملکی سفارتی دفاتر اور اس کے قریب ہی صدارتی محل ہے ، گویا یہ علا قہ سب سے زیا دہ حسا س ہے جہا ںانتہا ئی سخت سیکو رٹی کے لو ازما ت کئی میل پہلے شر وع ہو جا تے ہیں ۔ جس مقا م پر دھماکا ہو ا اس سے قبل دھماکا خیز ما دہ لے کر آنے والی گاڑی بھا رت کے سفارت خانے کے سامنے سے گزری تھی جہا ں امریکی دفاتر سے بھی زیا دہ سختی حفاظتی انتظاما ت کیے ہوئے ہیںاور کئی چیک پو سٹیں ہیں یہ دھما کا خیزمواد سے بھری گاڑی وہا ں سے گزر کرآئی گویا اس گاڑی کے گزرتے وقت لا زمی طورپر گاڑی کی چیکنگ کی گئی ہو گی۔ اس کے باوجود گاڑی پا ر ہو گئی تو یہ امر واضح ہے کہ حفاظتی انتظاما ت انتہائی نا قص ہیں یا پھر ان دھماکوں کو مضبوط ہا تھو ں کی پشت پنا ہی حاصل ہے جو اس آسانی سے گاڑی پا ر ہو تی چلی گئی۔ کا بل حکومت نے تو حسب معمول یا عادت اس دھما کے الزام حقانی گروپ ، پاکستان کی آئی ایس آئی پردھر دیا لیکن اپنی پارلیمنٹ کے ان سوالو ںکا کوئی جو اب نہیں دیا کہ سیکورٹی کے انتظاما ت مئو ثر کیو ں ثابت نہیںہو ئے ۔ جس تو اتر سے گزشتہ ما ہ سے افغانستان میں شدید ترین دھما کے یا خود کش حملے ہو رہے ہیں وہ اس امر کا ثبوت ہے کہ کا بل انتظامیہ پو ری طرح نا کا م ہو چکی ہے اور یہ ناکامی محض کا بل حکومت ہی کی نہیںہے بلکہ نیٹو اور امریکا بھی اس ناکامی کے ذمہ دارہیں جو براہ راست افغانستان میں امن واما ن قائم کرنے کی ذمہ داری اٹھائے ہو ئے ہیں۔ تازہ ترین اطلا ع یہ ہے کہ افغانستان کے ایک تہا ئی حصے پر طالبان کو مکمل کنٹرول ہے اور کا بل حکومت بالکل بے بس ہو کر رہ گئی ہے اور بار بار پا کستان پر بنا کسی ثبوت کے الزام جھڑ دیتی ہے ، جس کی ایک ہی وجہ نظر آتی ہے کہ وہا ں بھا رت کو گرفت حاصل ہے اور بھارتی لا بی اربو ںڈالر کی سرمایہ کاری محض اس لیے کر رہی ہے کہ افغان عوام کوپاکستا ن کے خلا ف اکسایا جائے ۔ افغانستا ن اور پاکستان کے تعلقات کا جا ئزہ لیا جا ئے تو یہ بات عیا ں ہو تی ہے کہ دنو ں ممالک کے درمیا ن رو ز اول سے کھکھیڑ پڑی رہی ہے سوائے طالبان کے دور میں جب تعلقات انتہا ئی خوشگو ار تھے مگر ایک بزدل پاکستانی حکمر ان نے اپنی غیر آئینی حکو مت کے استحکا م کے لا لچ میں امریکی تلّوے چانٹتے ہو ئے جس بزدلی کا مظاہر کیا وہ پا کستان کی تا ریخ کا اسی طر ح سیا ہ باب ہے جو سقوط مشرقی پاکستان کے وقت رقم ہو ا تھا۔ افغان حکمر انو ں کا رجحا ن ہمیشہ بھارت کی طر ف ہی رہا مگر دونو ں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ انتہا ئی معاشی ، سما جی ، اقتصادی ، نسلی ، لسانی ، مذہبی ، تہذیب و تمدنی رشتو ں میںنا قابل تسخیر بنیا د پرجڑے ہو ئے ہیں۔بھارت کے حکو متی سطح پر افغانستان کے ساتھ شروع دن سے انتہا ئی تعلقات کے باوجو د وہ کا میا بی حاصل نہ کر پایا جو اس کو مطلو ب رہی ہے چنانچہ اس مرتبہ بھارت نے سرمایہ کا ری اس بنیا د پر کی ہے کہ افغان عوا م کو پا کستان سے متنفر کیا جا ئے حال میں پاکستان کے کچھ سنئیر صحافیوں کا ایک وفد افغانستان کے دورے پر گیا تھا اس وفد میں منجھے ہو ئے تجزیہ کا ر طاہر فارو ق بھی شامل تھے انہو ں نے اپنی تجزیا تی رپورٹ میںبتا یا کہ افغان لیڈر ، اور حکمر ان ہر برائی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہر اتے ہیں جبکہ پاکستان افغانستان کی تعمیر میں اپنا بھر پورکر دار ادا کررہا ہے۔ اس وقت تین بڑے اسپتا ل پا کستان نے قائم کیے ہیں جلا ل آباد اورکابل میںشاہراہیںبنا کر دے رہا ہے مگر اس کے باوجو د پاکستان ان کی نظر میںکھٹک رہا ہے۔ ان کے بقول اس مرتبہ زیا دہ تر سرمایہ کا ری افغان میڈیا پر پا کستان کے خلاف کی جا رہی ہے اور پاکستان کے خلا ف زہر اگلنے میں افغانستان کا پر نٹ میڈ یا اور الیکٹرانک میڈیا کا خوب خوب استعمال کیا جارہا ہے ۔ گویا جہا ں افغانستان نے پاکستان پر الزامات کے حملے کررکھے ہیں وہا ں میڈیا وار کو بڑی شدت کے ساتھ استعمال کیا جارہا ہے۔ افغانستان کے پرنٹ میڈیا میں پا کستان کے بارے میں جو کچھ شائع ہو رہا ہے وہ اپنی جگہ مگر افغان الیکٹرانک میڈیا کا رویہ بعینہ ایسا ہے جس طرح بھارتی میڈیا کا پاکستان کے بارے میں ہے ۔ ان تما م کا وشو ں کے باوجو د دیکھا جا ئے تو یہ حیر ان کن بات ہو گی کہ عوام میں اس کا کوئی اثر نہیں پید اہو رہا ہے۔ حال ہی میں جو افغان مہاجر افغانستان رضاکا رانہ طورپر واپس اپنے گھرو ں کو گئے تھے ان میں سے ساٹھ فی صد پا کستان واپس آ گئے۔ پاکستان کے خلا ف سنگین الزاما ت اور پر وپیگنڈہ کا پس منظر صرف یہ ہے کہ دونو ں ملکو ں کے عوام میں دور ی اور نفر ت پید اکر دی جا ئے تو یہ عنا صر اپنے مقاصد کے حصول میں آسانی پا جا ئیں گے جو نا ممکن ہے پاکستان اور افغانستان کے عوام کا رشتہ اٹوٹ ہے جس کو ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے ختم نہیںکیا جاسکتا پاکستان افغانستان کی حکومت ہی کی نہیں بلکہ عوام کی بھی ضرورت ہے اور یہ آزمائش کئی بارہو چکی ہے اب کا بل حکومت کے ارباب حل وعقد سے استفسار کیا جا ئے کہ کابل میں دھماکے تو ان کے بقول پا کستان کر ارہا ہے پاکستان میں جو دھماکے ہو تے ہیں اس کے پیچھے کس قوت کا ہا تھ ہے ، اور تو اور حزب اسلا می کے سربراہ گلبدین حکمت یا ر کے سمدھی نہیں بلکہ ان کے سیا سی ، جہا دی دست راست استاد فرید کو پاکستان میں کس ہا تھ نے گولیو ں کا نشانہ بنایا جو ایک اہم پیغام لے کر آئے تھے ۔ حکمت یار تو شروع سے اس کا وش میں ہیں کہ پا کستان اور افغانستان کو ایک دوسرے کے قریب کیا جا ئے ۔

متعلقہ خبریں