ان کی نا پختگی سے ہماری معصومیت تک

ان کی نا پختگی سے ہماری معصومیت تک

ہمارے ملک کی سیاست نا پختہ رویوں کی بہتات سے بوجھل ہے ۔ مسلم لیگ (ن) پی ٹی آئی میں اس نا پختگی اور نادانی کو شاید صاف گوئی پرمحمول کیا جاتا ہے کیونکہ ایسے مظاہروں کے بعد چہروں کا تفاخر یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہیں یہ نادانیاں کمالات محسوس ہوتے ہیں ۔ ناپختگی کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کو ابھی اصولی سیاست کی سمجھ بوجھ بھی نہیں ۔ وہ ذاتی امیج کی پرداخت کے لیے کام کرتے ہیں ۔ اور انکے ارد گرد موجود لوگ بھی ان کی شخصیت پرستی میں مصروف عمل ہوتے ہیں ۔ اس شخصیت پرستی میں وہ اخلاقی حدود سے گزریں یا لوگوں کی دل آزاری کریں ، ملک کو نقصان پہنچائیں یا معاشرے کو تکلیف کا شکار کریں ، انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی ۔ اس لیے تو'' ہوتا ہے شب وروز تماشا میرے آگے ''۔ ان رویوں کے کئی نام ، کئی چہرے ہیں ۔ جو مسلسل ہمارے سامنے سرکس لگائے رکھتے ہیں اور لوگ انتہائی سنجید گی سے ان کی جانب دیکھتے ہیں ، ان کی بات سنتے ہیں اور پھر اپنے اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں ۔انہیں شاید ان لوگوں کی باتوں سے کوئی غرض نہیں یا شاید ان کی سوچ ، انکی سیاسی پسند اور وفاداری پران باتوں کا اثر ہی نہیں ہوتا تبھی تو وہ مانتے ہیں کہ ملک میں بد عنوانی بہت زیادہ ہے ، لیکن ووٹ پھر بھی نواز شریف کو ہی دینا ہے ۔ میں اس بات کو سمجھنے سے ابھی تک قاصر ہوں کہ لوگ مہنگائی سے ، لوڈ شیڈنگ سے ، بد عنوانی سے تنگ ہیں ، وہ اس سب کا الزام بھی سیاست دانوں کو دیتے ہیں لیکن پھر ووٹ بھی انہیں کو دیتے ہیں ، اور میں اس بات پر بھی بہت حیران ہوں کہ جب پڑھے لکھے اور سوچنے سمجھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ چلو جی کوئی کام تو کرتے ہیں وہ لوگ جو یہ جانتے ہیں کہ اس ملک کو اس وقت کن کاموں کی ضرورت ہے ؟ وہ لوگ جو یہ بھی جانتے ہیں کہ سڑکوں اور تعمیراتی کاموں کو ترجیح دینے کی اصل بنیاد کیا ہوتی ہے ؟ میں حیران رہتی ہوں کہ ہم کیسی قومی معصومیت کا شکار ہیں یا پھر یہ بے حسی ہے ۔ لیکن خیال آتا ہے کہ یہ سب معصومیت میں ہی کیا جاتا ہوگا ، بے حسی نہیں ہو سکتی کیونکہ جن کے آنگنوں میں اپنے بچے ، اپنا مستقبل کھیل رہا ہو ، وہ اس مستقبل کے حوالے سے بے حس نہیں ہو سکتے ، ہم جانتے ہیں کہ ہم سے زیادہ اب اس ملک کی بہتری ہمارے بچوں کے لیے ضروری ہے ۔ ہم اس بات سے بھی واقف ہیں کہ اگر ہم کسی برائی کی جانب سے آنکھیں بند کر لیں گے تو وہ گھوم پھر کر ہمارے بچوں کے سامنے آکھڑی ہوگی ، انہی بچوں کی بہتر زندگیوں کے لیے ہم اپنی زندگیاں جلا رہے ہیں ۔ ہم کام کرتے ہیں تاکہ ہمارے بچے آسودہ حال ہوں ہم درست فیصلے کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہمارے بچوں کو کبھی کوئی آزار نہ پہنچے تو وہ ملک جہاں ہمارے بچوں کی زندگیاں گزرنی ہیں اس ملک کے مستقبل کے حوالے سے ہم بے حس کیسے ہو سکتے ہیں ۔ سو معصومیت ہی ہوگی ، ہم نہ جانتے ہونگے کہ یہ ہمارے حکمران ہی ہمارے اصل دشمن ہیں جن کی بد عنوانی کی داستانیں سنتے سنتے شاید ہم بے حس ہو رہے ہیں یا اتنی بد عنوانی ہو بھی سکتی ہے ہم اس حیرانی میں یوں مبتلا ہوتے ہیں کہ اسکی موجودگی کے ہی منکر ہو جاتے ہیں ۔ ہمیں یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ حکمران ہمیں اس حد تک لوٹ نہیں سکتے ۔ اور پھر اس انکار سے اس معصومیت کا آغاز ہوتا ہے جو ہمیں آکاس بیل کی طرح اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔ ہم مرجھاتے چلے جارہے ہیں اور ہمیں اس سب کا احساس تک نہیں ۔ شاید سیاست دانوں کی ناپختگی سے لے کر ہماری معصومیت تک کا تعلق اتنا سیدھا ساد نہ ہو ، اس میں یقینا اور بھی بے شمار عناصر شامل ہیں جو معاملات کو وہ شکل دے رہے ہیں جو ہمیں آج دکھائی دیتی ہے ۔ لیکن پھر خیال آتا ہے کہ اگر سیاست دانوں کے رویے بھی ناپختہ ہیں اور لوگوں کے رد عمل بھی معصومانہ تو غلطی کس کی ہے ۔ اور آخر سب اس قدر بگڑ تا کیوں جار ہا ہے کیونکہ اگر کسی جانب بھی منفی جذبات نہیں تو پھر آخر ایسی بر بادی کیوں ہے جو چہارجانب دکھائی دیتی ہے ۔ اگر ساری دنیا میں ڈپریشن کے اعداد و شمار بیس فیصد سے آگے نہیں بڑھتے تو پاکستان میں یہ اعداد و شمار چونتیس فی صد تک کیوں ہیں ؟ یہ سیاست دانوں کی نا پختگی ہے جو ہمیں بار بار دکھائی دیتی ہے ۔ نہال ہاشمی نے حال ہی میں جو کچھ کیا وہ نا پختگی نہیں تو اور کیا ہے ۔ کئی حکومتی وزراء ، پی ٹی آئی کے جانب سے کی گئی باتوں کا جس طور جواب دیتے ہیں ۔ وہ بھی نا پختگی کی ہی صلاحیت ہے ۔ پختہ سوچ تو یہ ہے کہ اگر ایک اپوزیشن کی جماعت ، حکومت پرکسی قسم کا الزام لگائے تو اسے ثبوتوں کے ساتھ عدالت میں پیش کرے اور حکومت ثبوتوں سے اسکے بر خلاف اپنی معصومیت ثابت کرنے کی کوششیں کرے ۔ اور اصولی طورپر اس پر کوئی بات نہ کی جائے کیونکہ معاملہ عدالت میں ہے لیکن یہاں تو عدالتوں پر حملے سے لے کر الزام تراشیوں تک ہر بات ہی کرنے میں بہادری سمجھی جاتی ہے ۔ اور اس میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ بھی محسوس نہیں کی جاتی ۔ نہال ہاشمی جیسے لوگوں کی مسلم لیگ (ن) میں کمی نہیں ۔ اور پی ٹی آئی نے اس رویے کو مسلم لیگ (ن)میں مہمیز کر دیا ہے ۔ ان کی نا پختگی کو اب زبان بھی مسلسل بیان کر رہی ہے ۔ لیکن اب اس نا پختگی کو ختم ہونا چاہیے ۔اسے برداشت کر کر کے اب سوچ تھکنے لگی ہے ۔ اگر ہم بے حس ہیں تو اس بے حسی میں بھی بیزاری کی ایک نئی لہر جنم لے رہی ہے لیکن کیا یہ اس ملک کے لیے ، اس قوم کے لیے ، سیاست دانوں کے اپنے مستقبل کے لیے اچھا ہے ؟ کیونکہ اتنا تو ہمیں معلوم ہی ہے کہ سیاست دانوں کی موجودہ کھیپ کو اس ملک و قوم کی بھلائی اور بہتری سے کوئی سروکار نہیں اور اگر ہم معصوم ہیں تو اس معصومیت میں بھی ہم اس جانب سے نگاہ پھیر لینا چاہتے ہیں ۔ سواب نہال ہاشمی کی قسم کے رویوں کو سزادیئے جانے کی ضرورت ہے ۔ حکمرانوں کے مفادات کے لیے اب ایسے بکروں کی قربانی چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں