اب کون مرے پائوں کی زنجیر کو کھولے

اب کون مرے پائوں کی زنجیر کو کھولے

اردو کی کلاسیکی ادب میں دو کتابیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان میں سے ایک میرامن کی قصہ چہار درویش جو دبستان دلی کی نمائندہ کتاب ہے جبکہ دوسری رجب علی بیگ سرور کی فسانہ عجائب ہے جو دبستان لکھنو کی نمائندہ ہے۔ دونوں کتابوں میں قدر مشترک کہانی در کہانی کی کیفیت ہے یعنی ایک کہانی کے اندر سے دوسری کہانی جنم لیتی ہے اور پڑھنے والوں کے تجسس میں اضافہ کرتے ہوئے ایک اور کہانی کے تانے بانے سامنے لاتی ہے اور یہ سب کہانیاں بالآخر کتاب کے آخر میں اپنے منطقی انجام کو پہنچتی ہیں۔ یعنی بقول افتخار عارف
کہانی اپنی الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے
یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا
ہمارے ہاں بھی ان دنوں کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ سوشل میڈیا پر گزشتہ کچھ دنوں سے مہنگے فروٹ کے خلاف ایک مہم کا آغاز کرتے ہوئے عوام سے تین دن کے لئے ہر قسم کے فروٹ خریدنے سے اجتناب کی درخواست کی گئی ہے اور یہ مہم آناً فاناً پورے ملک میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک اس طرح پھیل گئی ہے کہ سندھ کے' جہاں سے اس مہم کا آغاز ہوا نہ صرف ایک صوبائی وزیر بلکہ کمشنر کراچی تک نے اس کی حمایت کا اعلان کیا۔ اس صورتحال ہی نے مجھے محولہ بالا دونوں کتابوں کی یاد دلا دی ہے کہ اس حوالے سے ماضی میں ایسی ہی تحریکوں نے کار آمد نتائج بھی معاشروں پر مرتب کئے تاہم بعض واقعات سے جنم لینے والے منفی اثرات بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اسی نوعیت کا ایک واقعہ کسی مغربی ملک کے حوالے سے یوں مشہور ہے کہ ایک شہر میں اچانک انڈوں کی قیمت بڑھ یا بڑھا دی گئی' لوگوں کے گھریلو بجٹ متاثر ہونے لگے۔سب نے فیصلہ کیا کہ صبح ناشتے میں انڈے کھانے اور گھر والوں کو کھلانے سے اجتناب کیا جائے۔ اس متفقہ فیصلے پر نہایت سختی سے عمل شروع کردیا گیا۔ صرف دس پندرہ دن ہی میں انڈوں کا کاروبار کرنے والوں کے ہوش ٹھکانے آگئے اور انہوں نے پرانے نرخوں پر ہی منتیں تر لے کر کے صارفین کو دوبارہ انڈے خریدنے پر آمادہ کرلیا۔
یہی معیار تجارت ہے تو کل کا تاجر
برف کے باٹ لئے دھوپ میں بیٹھا ہوگا
اس تحریک کے حوالے سے اخبارات میں ملی جلی خبریں چھپی ہیں۔ یعنی کہیں اس بائیکاٹ کو کامیاب قرار دیاگیا ہے اور ایک اخبار کے آخری صفحے پر فروٹ کی دکانوں پر ہو کا عالم دکھایا گیا ہے جبکہ اسی اخبار کے سٹی پیج پر ایک خبر کے مطابق یہ مہم جزوی طور پر کامیاب ہونے اور فروٹ فروشوں سے گفتگو میں یہ خبر دی گئی ہے کہ وہ کسی مہم کے بارے میں کچھ نہیں جانتے بلکہ ان کے مطابق تو فروٹ منڈی میں مہنگے داموں خرید کر لاتے ہیں تو مہنگے ہی فروخت کریں گے نا' البتہ جہاں تک فروٹ استعمال کرنے سے انکاری مہم کا تعلق ہے تو
ستم تو یہ کہ ہماری صفوں میں شامل ہیں
چراغ بجھتے ہی خیمہ بدلنے والے لوگ
بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے ہدایت بھیجی گئی کہ وہ سبت یعنی ہفتے کے روز مچھلی کے شکار سے ہاتھ کھینچ کر رکھیں۔ انہوں نے اپنی فطری نا فرمانی کو بروئے کار لاتے ہوئے اس حکم الٰہی کا توڑ یوں نکالا کہ جہاں دریا میں مچھلیاں وافر مقدار میں تھیں ادھر کنارے پر قریب ہی کھڈے کھود کر ان کا دریا سے تعلق پیدا کردیا اور جمعہ کی شام کو وہ راستے کھول دیتے جن کی وجہ سے دریا کے بہائو کی وجہ سے نہ صرف پانی ان کھڈوں کو بھر دیتا بلکہ مچھلیاں بھی پانی کے ساتھ آکر ان کھڈوں میں پھنس جاتیں اور یہ لوگ ان مچھلیوں کو پکڑ کر کھاتے ہوئے کہتے ہم نے شکار تو نہیں کیا۔ اس نا فرمانی پر بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے کیا سزا دی اس کا تذکرہ تاریخ کا حصہ ہے۔ جبکہ اس قصے کو یاد کرنے کا مقصد ان لوگوں کی نشاندہی کرنا ہے جو عوامی سطح پر پھلوں کے بائیکاٹ مہم میں کسی نہ کسی بہانے خود کو دور رکھ سکتے ہیں اور جوابی مہم کے طور پر فیس بک پر ہی ایک جوابی مہم بھی سامنے آگئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غریب ریڑھی فروشوں سے پھیل نہ خرید کر ان کے گھروں میں تین دن تک فاقوں کی نوبت لانے کا کیا جواز ہے۔ جو ایک لحاظ سے درست بات ضرور ہے مگر اس کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ جو لوگ پھلوں کی تجارت' آڑھت اور تھوک کاروبار کرتے ہیں کہیں اس مہم سے فائدہ اٹھا کر وہ یہ پھل زیادہ سے زیادہ مقدار میں برآمد کرکے تو اپنی تجوریاں بھرنا نہیں چاہتے اور پھر اس بات کا کیا جواز ہے کہ حکومت اس معاملے میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے وگرنہ یہ کام تو حکومتوں کا ہے کہ وہ عوام کو سستے داموں اشیائے ضروریہ پہنچانے کے لئے اقدام اٹھائیں جبکہ سندھ میں ایک صوبائی وزیر اور کمشنر کراچی کی جانب سے اس مہم کی حمایت کے بعد ان لوگوں کا اپنے مناصب پر رہنے کاکیا جواز بنتا ہے ۔ بہر حال ہڑتال کے پہلے ہی دن پھلوں کی قیمت میں کمی سے ایک بات تو سامنے آتی ہے کہ اگر عوام کے اندر اتفاق کا جذبہ پیدا ہو جائے تو بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں اس مہم کے بارے میں ہمارے ایک کرم فرما اور فی البدیہہ شاعر عتیق الرحمن نے بھی تازہ قطعہ کہا ہے کہ
پھر قوم نئے جذبے سے سرشار ہوئی ہے
مشکل سے سہی آج یہ بیدار ہوئی ہے
آغاز یہ طاقت کے دکھانے کا فقط ہے
ظالم سے نبٹنے کو یہ تیار ہوئی ہے
اب دیکھتے ہیں کہ یہی عوام زہر ملے ہوئے دودھ' مہنگے گوشت اور دیگر اشیائے ضروریہ کے بائیکاٹ کی مہم کب چلاتے ہیں' بقول محسن نقوی
اب کون مرے پائوں کی زنجیر کو کھولے
حاکم بھی مرے دیس کے محکوم ہیں سارے

متعلقہ خبریں