صارف کے حقوق اور کردار

صارف کے حقوق اور کردار

شاید پاکستان کے قیام کے بعد کے چار پانچ برسوں میں ماہ رمضان میں صارف کا یوں استحصال نہ ہوتا ہوگا جس طرح آج کل ہو رہا ہے کیونکہ اس وقت تحریک پاکستان کا جذبہ تازہ تھا اور پاکستانیوں کو ایک دوسرے سے ہمدردی اور غمخواری کااحساس بھی تھا۔ اس زمانے میں مادیت پرستی نے اتنا زور نہیں پکڑا تھا۔ پاکستان کا قیام رمضان کے مبارک مہینے کی مبارک رات لیلة القدر اور مبارک دن جمعہ کو ہوا تھا۔ اس کی الگ سے برکات تھیں۔ اس لئے رمضان کے مبارک مہینے میں مسلمانوں میں دینی جذبہ ایک نئے انداز میں اجاگر ہوتا تھا۔ صاحب ثروت حضرات کی کوشش ہوتی تھی کہ اللہ کے دئیے ہوئے مال کے ذریعے غریب غرباء کے افطار کا انتظام کر وا کر ان کے صیام کے اجر و ثواب میں شامل ہو جائیں۔تاجر حضرات کی بھی کوشش ہوتی تھی کہ رمضان کے مہینے میں کم سے کم منافع کمایا جائے تاکہ معاشرے کے غریب لوگ بھی افطار وسحر میں آسانی محسوس کریں۔ بڑے تجار اور آڑھتی منڈیوں میں نرخ ارزاں رکھنے کی کوشش کرتے اورخاص کر عام اور زیادہ استعمال ہونے والی کھانے پینے کی اشیاء کو بعض اوقات اپنی قیمت پر آگے بیچ دیتے تھے تاکہ پرچون دکانداروں کے مناسب نفع کی گنجائش کے ساتھ عام صارف کو بھی ضرورت کی اشیاء معقول و مناسب داموں پر دستیاب ہوسکیں۔لیکنپھر جب پاکستان میں ''سیاست'' شروع ہوئی۔ بانیان پاکستان اور تحریک پاکستان کے زعماء اور کارکنان ایک ایک کرکے آخرت کو سدھا ر گئے اور پیچھے وہ لوگ رہ گئے جو شریک سفر نہ تھے اور ببانگ دہل کہنا شروع کیا کہ پاکستان تو ہندوئوں کے معاشی غلبہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے حاصل کیا گیا تھا۔ تب سے پاکستان میں اہل اقتدار' سرمایہ داروں' جاگیر داروں اور دیگر بہت سی مافیاز نے پیسے کے حصول کو مقصد حیات بنا لیا اور سیاست جو شرفاء و عوام کی خدمت کے لئے اور نیک نامی کے لئے کرتے تھے تجارت اور جلب زر میں تبدیل ہوگئی۔ اس کا سب سے مضر اور تباہ کن اثر عوام پر پڑا۔ کیونکہ حصول پاکستان کے لئے سب سے بڑی قربانی ہی عوام نے دی تھی۔ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت قیام پاکستان کے لئے ہوئی تھی ' لاکھوں افراد جان و مال سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اب مختصراً موجودہ پاکستان میں ستر برس بعد جو صورتحال بنی ہے وہ مختلف لیکس کی صورت میں ساری دنیا کے سامنے ہے۔ اپنے قائدین' زعما' صاحبان اقتدار اور دولت کے پجاریوں کو دیکھ کر عوام جن کو جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے دال روٹی کی ضرورت تھی انہوں نے بھی اپنی توفیق و استطاعت کے مطابق ہاتھ پائوں مارنے شروع کئے۔ اس وقت وطن عزیز میں حلال حرام اور جائز و ناجائز کی تمیز و احساس کے بغیر دولت کی مارا ماری نے پاکستانی عوام کو پاگل بنا دیا ہے۔ مولانا طارق جمیل جیسا شخص یہ کہنے پر مجبور ہوا ہے کہ ایک کروڑ پاکستانیوں میں ایک سچے شخص کا ملنا مشکل ہوگیا ہے۔ امریکی وکیل نے ہماری اسی کمزوری (شوق زر) کے پیش نظر کہا تھا کہ اس قوم کے افراد ڈالر کے حصول کے لئے اپنی ماں بھی بیچ سکتے ہیں۔ ہماری دولت کی پوجا اور حصول کی دوڑ نے ہمارے پاک دین اور اس کے شعائر تک نہیں بخشا۔ کیا ہم نے حکومتی سطح ( وزارت حج) پر حاجیوں کے پیسے ہڑپ نہیں کئے تھے۔ کیا پرائیویٹ طور پر حج کرانے والے اور عوام کو اسلامی سرمایہ کاری کے نام پر لوٹنے والے مفتیان کرام نہ تھے۔ یہی وجہ ے کہ ہمارے رمضان مبارک کے مہینے میں عام دنوں سے خورد و نوش کی اشیاء کی قیمتیں غریب اور عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوجاتی ہیں۔ اب اس میں کس کا قصور و گناہ ہے یہ بات قابل بحث ہے۔ میرے خیال میں سب سے بڑی ذمہ داری حکومتوں کی ہوتی ہے۔ بازاروں اور اشیاء کی قیمتوں کی نگرانی کے لئے فلاحی ریاستوں میں مخصوص شعبے ہوتے ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنفس نفیس کبھی کبھی بازار کا احوال معلوم کرنے کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروق نے تو اشیاء کی قیمتوں کو معمول و اعتدال پر رکھنے کے لئے باقاعدہ نگران مقرر فرمائے تھے جو باقاعدگی کے ساتھ بازاروں کے گشت کیا کرتے تھے۔ آپ کسی تاجر کو منا پلی اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے تاکہ اس کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں کے اتار چڑھائو اس کے ہاتھ میں نہ رہے اور ذخیرہ اندوزی کا خطرہ پیدا نہ ہو۔ہمارے ہاں رمضان مبارک کی آمد سے ایک مہینہ قبل تجار باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ضروری اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کرلیتے ہیں (الا ماشاء اللہ) اور سال بھر کی کمائی اسی ایک مہینہ میں کرنا چاہتے ہیں۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ بہت دلچسپ رہی کہ ایک مسیحی باپ اپنے بچے سے کہہ رہا ہے کہ بیٹا! ذرا صبر کرو' مسلمانوں کا یہ رمضان کا مہینہ ہے لہٰذا مہنگائی ہے جب یہ گزر جائے گا تو پھر چیزیں سستی ہو جائیں گی اور ہم سودا سلف خریدیں گے۔رمضان کی مہنگائی کا کسی کے پاس توڑ نہیں' سوائے اس کے کہ ہم پاکستانیوں کے دلوں میں خوف خدا اور حصول حلال کا یقین پیدا ہو جائے۔

متعلقہ خبریں