مشرقیات

مشرقیات


انبیا ء علیہم السلام سے زیادہ کون بزرگ ہے ، ان کی جوتیوں کے صدقے سے تو دنیا میں بزرگ بنتے ہیں ۔ انبیاء علیہم السلام آتے ہی بزرگی بانٹنے کے لئے ہیں ۔حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے بادشاہ ہیں اور تخت سلطنت پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے شاہی محلات کھڑے ہوئے ،ان کے نیچے نہریں اور دریا بہہ رہے ہیں اور ایک طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں کہ جو چیز بدن کے اوپر ہے ، اس کے سوا کوئی چیز ان کی ملکیت میں نہیں ہے اور اس میں بھی یہ کیفیت ہے کہ کل سامان ان کے پا س کیا تھا ؟ ایک لکڑی کاپیالہ تھا ، کھانے کا وقت آتا تو وہ کھانے کا برتن تھا ، وضو کا وقت آتا تو وہ پانی کا ظرف تھا ۔ اسی میں پانی لے لیتے ۔
اسی میں پی لیتے اور اسی میں کھالیتے ۔ زندگی کا سامان ایک لکڑی کا پیالہ تھا ۔ چمڑے کا تکیہ تھا کہ جہاں نیند آئی ، سر کے نیچے رکھا اور سو گئے ، چاہے زمین ہی پر ہو ۔ یہ کل مال ودولت تھا ۔ ایک دن تشریف لے جارہے تھے ، دیکھا کہ ایک شخص دریا کے کنارے پر کھڑا چلو سے پانی پی رہاہے ۔ فرمایا ''اللہ اکبر اتنی دنیا ہم نے اپنے پاس رکھی ہے کہ جس کے بغیر بھی گزارا ہو سکتا تھا ۔ یہ بغیر پیالے کے پانی پی رہا ہے ۔ '' یہ کہہ کر وہ پیالہ بھی پھینک کے چلے گئے کہ یہ بھی میرے پاس زائد تھا ، صرف تکیہ باقی رہ گیا تو دیکھا کہ ایک شخص کہنی سر کے نیچے رکھے ہوئے سو رہا ہے ۔ فرمایا ''اللہ اکبر ، یہ تکیہ دنیا کا ایک مستقل ساما ن ہے ، جو میں نے رکھ رکھا ہے ، اس کے بغیر بھی گزر بسر ہو سکتی ہے ، کہنی رکھ کے بھی سو سکتے ہیں ۔ '' اس دن سے وہ تکیہ بھی چھوڑ دیا ۔ اب اس کے بعد سوائے ستر ڈھانپنے کے کوئی چیز باقی نہ رہی ۔ یہ بھی خدا کے جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ سلیمان علیہ السلام بھی جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ یہاں شاہی ٹھاٹھ ہے ، وہاں انتہائی درویشی ہے اور دونوں میں بزرگی اور نبوت مشترک ہے ۔ تو لباس سے کسی کو پرکھنا یہ ٹھیک نہیں ہے ۔ ایک یہ کہ خلاف شرع لباس ہو ، اگر وہ پہنے ہوئے ہو تو ہر مسلمان کو تنقید کا حق ہے کہ یہ جائز نہیں ۔نبی کریم ۖنے فرمایا کہ قیامت کے دن تین شخص ہوں گے ، جن کی طرف حق تعالیٰ نظر رحمت نہیں فرمائیں گے ، ان میں سے ایک شخص ''المبل المنان ''ہے یعنی جس کے کپڑے اتنے لمبے ہوں ، جو ٹخنو ں سے اتنے نیچے ہوں کہ گھسٹے جارہے ہوں ۔ یہ تکبر کی علامت ہے اور متکبر پر رحمت کی نظر نہیں ڈالی جائے گی ، اس میں آپ اعتراض کر سکتے ہیں ۔ کوئی ریشم کا لباس پہنے ہوئے ہو یہ ناجائز ہے ،لیکن مطلقاً کوئی شخص قیمتی لباس پہنے ہوئے ہو اور آپ اس سے دلیل پکڑیں کہ ا س کے قلب میں بزرگی نہیں ہے تو ۔آپ اس کے قلب میں گھس کر دیکھ آئے ہیں کہ اس کے قلب میں بزرگی نہیں ہے ، لباس سے بزرگی پر استد لال نہیں کیا جاسکتا ۔ مکان کے اچھے ہونے سے بزرگی کی قلت یا بزرگی سے معدوم نہیں مانا جا سکتا ۔
(وعظ شعب الایمان جلد 4)

متعلقہ خبریں