نئے عہد کے آغاز کی نوید

نئے عہد کے آغاز کی نوید


وزیر اعظم نواز شریف نے کرم تنگی ڈیم کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فساد اور خوف کا دور ختم ہو چکا ہے۔ کرم تنگی ڈیم کی بنیاد نئے دور کا آغاز ہے۔ امن کے لئے دی گئی قربانیاں رنگ لائی ہیں۔ فاٹا کو پاکستان کے قومی دھارے میں شامل کرنے کا آغاز اور ایف سی آر کا خاتمہ کیا جا رہاہے۔ ادھر اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ دہشت گردی کو جڑ سے اجھاڑنے کے لئے تمام سیاسی جماعتیں پر عزم ہیں جبکہ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے آپریشن رد الفساد جاری رہے گا۔ فریقین کے اتفاق رائے سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جہاں تک کرم تنگی ڈیم کا تعلق ے اس منصوبے پر ایک عرصے سے نہ صرف کام ہو چکا تھا بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات بھی شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کی صورتحال کی وجہ سے التواء کاشکار چلے آرہے تھے۔ یہ ڈیم علاقے کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے اہمیت کا حامل ہے اور ڈیم میں بڑی مقدار میں پانی ذخیرہ کرکے علاقے کی آبی ضروریات کو پورا کیا جانا ہے جبکہ اس سے 83 اعشاریہ 4میگا واٹ بجلی بھی حاصل کی جاسکے گی جو ملک میں برقی ضروریات کو پورا کرنے میں ممد ثابت ہوگی۔ یہ ڈیم دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ اس کا پہلا مرحلہ 3سال کی مدت میں تکمیل تک پہنچے گا اور سیلاب کی روک تھام میں بھی اس ڈیم کی وجہ سے مدد ملے گی۔ تاہم جیسا کہ اوپر کی سطور میں عرض کیا جا چکا ہے کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کی صورتحال کی وجہ سے اس ڈیم کی تعمیر کا کام التواء میں پڑا ہوا تھا اور اب جبکہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کیا جا چکا ہے اور دہشت گرد یا تو دوسرے علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں یا پھر افغانستان بھاگ چکے ہیں۔ ان کے ٹھکانوں کو تباہ کیاجا چکا ہے اور افواج پاکستان کی بے پناہ قربانیوں کی وجہ سے اب انہیں دوبارہ علاقے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں شدید مشکلات کاسامنا ہے۔ اگرچہ اب بھی وہ اپنے وجود کااحساس دلانے کے لئے ملک کے اندر کہیں نہ کہیں دہشت گردی کے ذریعے بے گناہ عوام کاخون بہانے سے بازنہیں آتے تاہم افواج پاکستان کے عزم کے سامنے وہ کہیں جم کر ٹکنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور قبائلی علاقوں میں ان کا وجو د نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی ترقی کے اس منصوبے کرم تنگی ڈیم کے سنگ بنیاد کی تقریب میں وزیر اعظم نواز شریف نے شرکت کرکے واضح کردیا ہے کہ قوم کے عزم کے سامنے کسی بھی قسم کی دہشت گردی کی کامیابی مزید ممکن نہیں ہوسکے گی۔ سول اور فوجی قیادت کا ملک بھر میں آپریشن رد الفساد پر اتفاق رائے سے گزشتہ چند روز کے دوران جس طرح ملک کے مختلف حصوں میں کومبنگ آپریشن کے نتیجے میں درجنوں دہشت گردوں کا صفایا کرکے ان کے قبضے سے خطرناک اسلحہ برآمد کیا گیا اور بہت سے انتہاپسند گرفتار کئے گئے اس سے یہ امید پیدا ہوچلی ہے کہ انشاء اللہ دہشت گردی کو ملک بھر میں جڑ سے اکھاڑ کر امن و امان کی فضا پیدا کردی جائے گی۔ تاہم ضروری ہے کہ ہمسایہ ملک افغانستان بھی اس ضمن میں اپنی ذمہ داری ادا کرکے پاکستان سے بھاگ کر افغانستان میں پناہ لینے والے دہشت گردوں کوپکڑ کر پاکستان کے حوالے کرنے میں اپنا کردار ادا کرے یا پھر انہیں ٹھکانے لگانے کے لئے ان کے خلاف آپریشن کرے۔ بصورت دیگر انہیں افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے سے روکے تاکہ دونوں جانب امن و امان کی فضا برقرار رہے کیونکہ پاکستان کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ اس کے ہمسایہ افغانستان میں بھی حالات پر سکون رہیں اور دونوں ملکوں کے مابین دوستانہ اور پر امن فضا کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے جبکہ بد قسمتی سے ایسا ہو نہیں پا رہا۔ پاکستان سے بھاگے ہوئے انتہا پسند عناصر جن میں تحریک طالبان کے موجودہ رہنما ملا فضل اللہ سر فہرست ہے نے اپنے ساتھیوں سمیت افغانستان کے صوبہ کونڑ میں خفیہ ٹھکانے بنا رکھے ہیں جہاں سے وہ پاکستان میں حملہ آور ہوتے رہتے ہیں اور حالیہ دنوں میں جس طرح افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردوں نے پے در پے حملے کرکے پاکستان کے مختلف شہروں میں خود کش دھماکوں کے ذریعے سینکڑوں بے گناہ انسانوں کو قتل کیا اور پھر ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی اس کے نتیجے میں پاکستان نے طورخم اور چمن کے مقامات پر پاک افغان سرحد کو بند کرکے آمد ورفت پر پابندی عائد کردی۔ اس پر افغانستان کی حکومت نے پہلے تو احتجاج کیا اور پھر سرحد کھولنے کی درخواست کی تاہم پاکستان نے واضح کردیا کہ جب تک افغان سر زمین کو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوںکے لئے استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی نہیں کرائی جائے گی سرحدیں بند رہیں گی۔ بہر حال پاکستان میں سول اور فوجی قیادت پر عزم ہے کہ وہ اپنے ملک میں کسی کو بھی در اندازی کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

متعلقہ خبریں