فساد کے خاتمہ تک آپریشن رد الفساد

فساد کے خاتمہ تک آپریشن رد الفساد

اعلیٰ سویلین اور فوجی قیادت کے اجلاس میں ہفتہ کے روز آپریشن ردالفساد کو فساد کے خاتمے تک جاری رکھنے کے عزم اور دہشت گردوں کو علاقہ، رنگت اور فرقہ کے امتیاز کے بغیر ریاست کی پوری قوت سے کچلنے کا فیصلہ ساری قوم کے اس اعتمادکو تقویت دیتا ہے کہ آپریشن ردالفساد کے نتیجے میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ اب تک دہشت گردی کے خلاف جو آپریشن ہوئے اور کامیاب ہوئے وہ بعض علاقوں سے مخصوص تھے۔ ان کی کامیابی سے ان علاقوں میں امن آیا بھی لیکن دہشت گردی پوری طرح ختم نہیںہو سکی۔ اس کی ایک وجہ یہ شمار کی جا سکتی ہے کہ دہشت گردوں کے کچھ عناصر نے دوسرے علاقوں میں پناہ لی ہو جہاں یہ آپریشن نہیں ہوئے یا ان کی سختی کم رہی۔ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں شدت پسندوں کی ایک بڑی تعداد افغانستان فرار ہو گئی ہے جس میں سے بعض عناصر نے دوبارہ فاٹا کے علاقے میں در آنے کی کوشش کی۔ ایسی کوششوں کے تدارک کے لیے پاک افغان سرحد کے انتظام کا کام شروع کیا گیا ہے۔ یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ ان کے کچھ عناصر نے پنجاب میں بھی پناہ لی ہو جہاں ڈیڑھ کروڑ پشتو بولنے والے ایک عرصے سے آباد ہیں۔ اس کی دوسری مثال کراچی آپریشن ہے جس کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ اس آپریشن کی زد میں آنے سے بچنے کے لیے کچھ شدت پسند سندھ کے کچے کے علاقے اور پنجاب میں منتقل ہوئے اور بعض کے بارے میں خیال ہے کہ بیرون ملک چلے گئے۔ پنجاب میں فوج اور رینجرز کے آپریشن نہیں ہوئے لیکن آپریشن ردالفساد سارے ملک پر محیط ہے اور اس کے لیے کوئی عرصہ بھی طے نہیں کیا گیا۔ آپریشن کے لیے کوئی مدت مقرر کیے جانے سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو یہ حوصلہ ملتا ہے کہ اگر وہ اپنی کارروائیاں اس مدت تک محدود کر دیں گے تو اس مدت کے خاتمے کے بعد انہیں آپریشن کا خوف نہیں رہے گا۔ آپریشن رد الفساد کے فساد کے قطعی خاتمہ تک جاری رکھنے کا عزم نہ صرف آپریشن ضرب عضب ، کراچی آپریشن بلکہ ایک معاصر کے مطابق انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے جانے والے 26000آپریشنوں کے نتائج کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرے گا۔آپریشن ضرب عضب سے ایک نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ فاٹا کو آپریشن کے ذریعے خالی کرانے کے ذریعے امن قائم ہو جانے کے بعد دہشت گردوں کی طرف سے افغانستان کی ملحقہ سرحد سے دہشت گردحملوں کی منصوبہ بندی اور ان کے پر عمل درآمد شروع ہوا ۔ دوسرے یہ کہ امن قائم ہوجانے کے بعد پاک افغان سرحد سے دوبارہ شرپسند عناصر در آنے لگے کیونکہ یہ سرحد بہت طویل ہے اور اس کی ہمہ وقت نگرانی کا بندوبست نہیں ہے۔ ان دو وجوہ کی بنا پر جہاں ایک طرف پاک افغان سرحدی انتظام کا کام شروع کیا گیا وہاں طورخم سرحد بند بھی کی گئی ہے تاکہ بغیر مستند سفری دستاویزات کے کوئی سرحد پار نہ کر سکے۔ خیبر پختونخوا میں لاکھوں افغان مہاجرین جن میں لاکھوں افراد مہاجرین نہیں بلکہ تارکین وطن ہیں ان کی موجودگی ممکنہ دہشت گردوں کو آبادی میں تحلیل ہونے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ ان غیر رجسٹرڈ مہاجرین یعنی تارکین وطن افغانوں کو واپس بھیجنے کا فوری بندوبست کیا جائے اور رجسٹرڈ مہاجرین کی نقل و حرکت محدود کرکے ان پر واپسی تک کڑی نظر رکھی جائے۔ حالیہ دہشت گرد حملوں میں اگر چہ حملہ آور افغان تھے تاہم ان کے سہولت کار اور انہیں حملے کے مقامات تک پہنچانے والے تو مقامی لوگ ہی تھے۔ اس طرح پنجاب میں آپریشن نہ ہونے سے وہاں سلیپر سیل خاموش ہو گئے ۔ اور پنجاب پولیس کی رہنمائی میں آپریشن ردالفساد پشتو بولنے والوں کی طرف زیادہ متوجہ ہوا جس کی وجہ سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ پنجاب میں پنجابی طالبان کی اصطلاح میڈیا سے غائب ہو گئی۔ اور جماعت الاحرار کے دو سال پہلے کے اس دعوے کی طرف بھی توجہ نہ گئی کہ پنجاب میں ان کے عناصر کی اکثریت پڑھے لکھے نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ان کے پاس اسلحہ کے اس قدر ذخیرے ہیں کہ وہ کئی سال تک تحریک طالبان پاکستان کی مدد کے بغیر کارروائیاں جاری رکھ سکتے ہیں ۔ تقریباً دو ہفتے سے جاری آپریشن ردالفساد کے نتیجے میں سارے ملک سے اور پنجاب سے بھی سینکڑوں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ عوام کے لیے یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ ان کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے تیزی سے آپریشن جاری ہے۔ لیکن آپریشن کی کامیابی کا پیمانہ گرفتاریوں کی تعداد نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان گرفتاریوں کے نتیجے میں دہشت گردوں کے سلیپنگ سیلز تک کتنی رسائی حاصل ہوئی، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونوں اور سرپرستوں کے کتنے سراغ ملے اور ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی، یہ آپریشن کی کامیابی کی دلیل سمجھی جائے گی ایسے نتائج ، توقع کی جانی چاہیے کہ گرفتارہونے والوں سے پوچھ گچھ کے نتیجے میں سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ پنجاب میں جیسے کہ سطور بالا میں کہا جا چکا ہے کہ ڈیڑھ کروڑ پشتون آباد ہیں اور وہ عشروں سے وہاں کاروبار کرتے ہیں۔ جلد از جلد نتائج حاصل کرنے کے لیے پشتونوں کو ہراساں کرنا نامناسب ہے۔ اس پر خیبر پختونخوا میں جو احتجاج ہو وہ چشم کشا ہونا چاہیے۔ پنجاب میں دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور سرپرست پنجاب ہی کے لوگ ہو سکتے ہیں ، کوئی اور شناخت انہیں منفرد کر سکتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے چھپے رہنے کے لیے ان کا عام آبادی کا حصہ ہونا ضروری ہے ۔ اب جب سویلین اور فوجی قیادت نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ آپریشن رد الفساد کی کوئی آخری تاریخ نہیں یہ فساد کے ختم ہونے تک جاری رہے گا تو قابل اعتماد خفیہ کاری کے ذریعے پنجاب کے سلیپنگ سیلز ، سہولت کاروں اور سرپرستوں کی تلاش کی جانی چاہیے۔ نہ صرف پنجاب بلکہ دیگر علاقوں میں بھی مقامی سہولت کاروں اور سرپرستوں کی تلاش ضروری ہونی چاہیے۔

متعلقہ خبریں