سسٹم کی خرابی؟

سسٹم کی خرابی؟

گزشتہ سال اگست میں صوبائی حکومت نے پی ایچ ڈی اور ایم افل کی ڈگریوں کے حامل اساتذہ کے لئے وہ جو کہتے ہیں سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم کے مصداق کچھ الائونس دینے کا اعلان کیا تھا، ایک سال گزرنے کے بعد ابھی تک اس فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔ تمہید باندھنے کے بعد اس پر بھی عرض کریں گے پہلے بتاتے چلیں کہ جب سسٹم میں کسی خرابی بلکہ تباہی کی بات ہوتی ہے تو فوراً فیصلہ صادر کردیا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمیںنو آبادیاتی نظام سے ورثے میں ملا ہے۔ ہم ذاتی طور پر ہر نوع کی غلامی کے خلاف ہیں۔ پشتو محاورے کے مطابق ایمان کی جگہ پر اگر انگلی نہ رکھی جائے تو سسٹم کی خرابی کا نو و آبادیاتی نظام پر الزام دھرنے سے پہلے یہ بھی بتا دیا جائے کہ یہ جو ہم صدیوں تک مغلوں کی غلامی میں رہے انہوں نے اس طویل عرصے میں اس سر زمین پر ریشہ دوانیوں کے ذریعے اپنا اقتدار قائم رکھنے کے علاوہ کونسا کار نامہ انجام دیا تھا۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں کوئی ایسا قابل تقلید نظام تعلیم دیا جس پر آج ہم فخر کرسکیں۔ طبقاتی نظام کے خاتمے کے لئے کوئی قدم اٹھایا تھا جو ہماری تاریخ میں روشن باب کا درجہ رکھتا ہو کوئی ایسا عدالتی طریقہ کار واضع کیا تھا جسے مثال کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر صرف یہ بتا دیاجائے کہ انگریزوں نے ہمیں تعلیم کا جو نظام دیا تھا ہم اس میں کہاں تک بہتری لا سکے۔ کیا ان کے تعلیمی نظام میں اس شعبے کو تجارت میں تبدیل کرنے کی کوئی شق موجود تھی۔ ہم 70 سال کے بعد بھی دعوئوں کے باوجود ملک میںیکساں نصاب جاری کرنے کے فیصلے پر عمل کرنے میں ناکام رہے بلکہ تعلیمی اداروں کو تجارتی منڈیوں میں تبدیل کردیا نو آبادیاتی حکومت نے ہمیں زراعت کی بہتری کے لئے ایک نہری نظام دیا جس پر ہم ہر سال بھل صفائی کے نام سے زر خطیر خرچ کرنے کے باوجوداس میں کوئی بہتری پیدا نہ کرسکے۔انگریزوں کے دور میں بچھائی گئی ریلوے پٹڑیوں تک کو ہم اکھاڑ کر کھا گئے۔ ریلوے کی زمینوں پر قبضہ کرکے وہاں پلازے کھڑے کردئیے۔ ریلوے سٹیشنوں کو بھوت بنگلوں میں تبدیل کردیا۔ بجلی کا نظام انگریز وں سے ہمیں ورثے میں ملا۔ روشنی پھیلانے کی بجائے ہم نے عوام کو لوڈ شیڈنگ کی اذیت سے متعارف کیا۔ دل پر ہاتھ رکھ کر انصاف سے بتائیے کہ دودھ میں پانی ملانے کا طریقہ ہم کو انگریزوں نے سکھا یا ہے' جعلی ادویات بنانے کے طریقے ہم یورپ سے سیکھ کر آتے ہیں؟ بھاڑے پر پی ایچ ڈی تھیسز لکھوانے کے طریقے ہمیں نو آبادیاتی نظام سے ورثے میں ملے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں یہ جو کرپشن کے چرچے ہیں اس کے لئے نو آبادیاتی نظام ذمہ دار ہے۔ مانتے ہیں کہ علامہ اقبال نے جمہوریت کے بارے میں کہا تھا کہ اس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تو لا نہیں کرتے۔ مغربی جمہوریت کے نظام میں بندوں کو بیچنے اور خریدنے کے لئے کہیں نہیں لکھا۔ سیاسی جماعتوں میں اس مے بدل خرمے بدل اور چرتہ خہ ھلتہ شپہ کا یہ طریقہ کار بھی مغربی جمہوریت کا حصہ نہیں رہا۔ یہ نظام بھی ہم نے اپنی ضروریات کے مطابق وضع کیا ہے۔
حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ کل جو لوگ میڈیا پر ایک سیاسی جماعت کے منشور کی وضاحتوں میں بے تکان بولا کرتے تھے آج اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے نظر آتے ہیں۔ ہم سادہ دل بندے پہلے بھی ان کے جلسوں میں تالیاں بجایا کرتے تھے اور اب ان کے نئے روپ میں آنے پر بھی فلک شگاف نعرے لگاتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر ہمارے کچھ دوست کہتے ہیں وٹ اے کنٹری یار' اب تھوڑی بات انگریزوں کے دور کے دفتری نظام پر بھی ہو جائے۔ بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ ہمیں اس زمانے کے کسی دفتر میں ایسے ذلیل و خوار نہیں کیا گیا تھا جو اب ہوتے ہیں۔ جب بھی کسی سرکاری دفتر میں کام پڑتا طے شدہ طریقہ کار کے بعد اس پر کارروائی مکمل ہو جاتی اور سائل کو کبھی کسی شکایت کا موقع نہیں ملتا۔ موجودہ دفتری نظام کی تباہی کی ہمارے پاس بے شمار مثالیں ہیں مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر صرف ایک نمونہ پیش خدمت ہے جیسے کہ ہم نے اس تحریر کے آغاز میں عرض کیا ہے کہ گزشتہ سال اگست میں جن پی ایچ ڈی اور ایم فل اساتذہ کو ان کی تنخواہوں کے ساتھ پانچ اور ڈھائی ہزارا لائونس دینے کا اعلان ہوا تھا اس کے طریقہ کار کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ حق دار افراد اب تک اس سے محروم ہیں۔ ایک شرط کے مطابق کہ ڈگری کی متعلقہ یونیورسٹی سے تصدیق سائل کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے۔ ہم اس شرط کو بالکل اس طرح سمجھتے ہیں جیسے کوئی دکاندار ایک ہزار کے نوٹ کے بارے میں پہلے گاہک سے سٹیٹ بنک کے گورنر کا تصدیق نامہ طلب کرے۔ اس کے باوجود بھی درخواست دہندہ کو اپنی درخواست حرکت میں لانے کے لئے متعلقہ دفاتر کے چکر لگانا پڑتے ہیں بصورت دیگر درخواست فائل ہی میں پڑی رہتی ہے۔ ہم اس ضمن میں یہی درخواست کرسکتے ہیں کہ سائلوں کے لئے دفتری نظام میں بہتری پیدا کرکے آسانیاں پیدا کریں اور صرف محکمہ تعلیم ہی نہیں بلکہ موجودہ تمام دفتری نظام کی خامیوں کو نو آبادیاتی نظام کا ورثہ قرار دینے کی بجائے اپنی کوتاہیوں کی طرف بھی توجہ دینا لازمی ہے۔

متعلقہ خبریں