اتفاقِ رائے کی ضرورت

اتفاقِ رائے کی ضرورت

ملک و قوم کو جب مسائل اور بحرانوں کا سامنا ہوتا ہے تو ان کی سیاسی قیادت سمیت اشرافیہ کا طبقہ ''ایک بڑا اتفاقِ رائے'' پیدا کرکے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے جب کہ اس کے برعکس ہماری صورتحال یکسر مختلف ہے، ہم بحرانوں میں اتفاقِ رائے کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی بجائے افراد کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاست' حکومت اور عوام میں فاصلے پیدا ہوتے ہیں، عوام ریاست و حکومتی فیصلوں کو قبول کرنے کی بجائے ان معاملات سے لاتعلقی اختیار کر لیتے ہیں۔ اعلیٰ شخصیات سے لے کر نچلی سطح تک کوئی بھی معاملات کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
اس کی بنیادی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ہمارا سیاسی نظام جمہوریت پر کم جب کہ افراد پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے ہاں جمہوریت ثمرات دینے سے قاصر رہی ہے۔ ہماری قیادت یا تو اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتی رہی ہے یا پھر اس کا خیال ہے کہ اگر انہوں نے اتفاق ِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی تو اُنہیں ناکامی ملے گی۔ اتفاقِ رائے نہ ہونے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک کو عالمی دباؤ اور بڑی طاقتوں کے فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف خود اپنی کتاب ''ان دی لائن آف فائر '' میں اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے پاس دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں عالمی اتحادی بننے کا فیصلہ کرنے کے علاوہ کوئی چار ہ کار نہیں تھا۔ مشرف کے بقول امریکہ نے انہیں صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ آپ بس یہ طے کریں کہ ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں؟ ایسی صورت میں کمزور حکمران یا ریاست یہی فیصلہ کر سکتی تھی، جو اس وقت کے جنرل پرویز مشرف نے کیا۔
جب ہم اتفاق رائے کی بات کرتے ہیں تو اس ضمن میں بعض ادارے یا فریق بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر پاکستان کی سیاست کے تناظر میں پارلیمنٹ موجود ہے۔ ہم سب اتفاق کرتے ہیں کہ ملک میں پارلیمنٹ کی بالادستی ہونی چاہیے ، ہمارے جمہوری مزاج کے حامل دانشوروں اور سیاسی قیادت سب سے زیادہ زور بھی اسی پر دیتے ہیں لیکن ہمارا عمل پارلیمنٹ کی بالادستی کے برعکس ہے ۔ جمہوری اور پارلیمانی سیاست میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف سمیت پارلیمنٹ میں موجود دیگر پارلیمانی جماعتوں کے سربراہوں کی سب سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے ۔ پارلیمنٹ کے جمہوری اور غیر جمہوری طرز عمل کا تجزیہ بھی انہی لوگوں کے طرز عمل سے کیا جا سکتا ہے لیکن ہماری حالت تو یہ ہے کہ قائد ایوان پارلیمنٹ میں آنا اپنے لیے ایک بوجھ سمجھتے ہیں۔ اس حوالے سے اگر کوئی ممبر پارلیمنٹ بات کر دے تو جواب ملتا ہے ان کے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ پارلیمنٹ میں آکر بیٹھیں ۔یہ درست ہے کہ وزیر اعظم اور وزراء اعلیٰ اکثر اوقات ترقیاتی کاموں کا جائزہ اور دیگر فائیلیں چیک کرنے میں مصروف رہتے ہیں لیکن اگر طویل عرصہ بعد بھی وہ ایوان میں شریک نہ ہوں تو ایوان کی جمہوری ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
اس اعتبا ر سے اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں حکومت کا کردار سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ حکومت اہم فیصلوں پر اعتماد میں لینے کے لیے حزب اختلاف کو بھی مشاورت اور فیصلہ سازی کا حصہ بناتی ہے لیکن یہاں بھی اہم بات یہ ہے کہ پہلے فیصلے کیے جاتے ہیں پھر ان فیصلوں کی سیاسی تائید کے حصول میں دیگر جماعتوں کی سیاسی سند بھی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اتفاقِ رائے کی سیاست میں اتفاق کے حصول کا جائزہ لیے بغیر یا یہ کہ اس کا ہمیشہ کتنا فائدہ یا نقصان ہو گا'' نظریہ ضرورت'' کو اختیار کر لیا۔ہر دور میں پاکستان کی سیاست میں برتری ''نظریہ ضرورت'' کو ہی حاصل رہی ہے یہی وجہ ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے 70سال بعد بھی ملک میں سیاسی، سماجی، قانونی اور آئینی بحرانوں کی فضا قائم ہے۔ آپ کے سامنے فیصلہ کرتے وقت یقینا داخلی اور خارجی دباؤ ہوتا ہے لیکن قیادت کا کمال ہوتا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں قومی مفادات ' خود مختاری اور سلامتی کو اہمیت دیتی ہے۔ کسی بھی ملک یا حکومت کے لیے اتفاق رائے کی فضا کا ساز گار ہونا اسی صورت ممکن ہے جب ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں اور مخالفین کو واشگاف یہ پیغام دیں کہ قیادت یا اداروں میں کوئی ٹکراؤ نہیں بلکہ مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ یہ صرف اسی صورت ممکن ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر ایک پیج پر آ کر سوچیں۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے جانے کے بعدجنرل (ر)اشفاق پرویز کیانی ،جنرل (ر)راحیل شریف اور موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں سیاسی و عسکری قیادت میں کسی قدر ہم آہنگی پائی جاتی ہے جسے مزید پختہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مخالفین نہیں چاہتے کہ ہماری سیاسی و عسکری قیادت اختلافات بھلا کر ایک پیج پر جمع ہو۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ دوعشروںسے دہشت گردی کی جنگ میںبے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد ہم مزید کسی جنگ یا دشمنی کے متحمل نہیں ہو سکتے ، سو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت سر جوڑ کر بیٹھے اور ایسی پالیسیاں وضع کرے کہ جس سے قیام امن کی فضاء قائم ہو اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ اگر آج ہماری قیادت نے ملکی و قومی مفاد میں اتفاق رائے پیدا نہ کیا تو آنے والی نسل ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔

متعلقہ خبریں