ایکو کانفرنس ،فلسفہ تنہائی کا شمشان گھاٹ

ایکو کانفرنس ،فلسفہ تنہائی کا شمشان گھاٹ

بھارت کی طرف سے پاکستان کو عالمی اور علاقائی سطح پر تنہا کرنے کے دعوے رفتہ رفتہ ہوائوں میں تحلیل ہو رہے ہیں ۔اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اپنے اس فلسفہ تنہائی میں بھارت خود تنہا ہوتا جا رہا ہے ۔بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے جب بہت طمطراق اور تکبر کے ساتھ پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔مقصد یہ تھا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف الزامات کا طوفان برپا کیا جائے گا۔اس عالمی تنہائی میں پاکستان کے پاس اپنی بہت سی پالیسیوں پر نظر ثانی کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا ۔بھارت نے اس مقصد کے لئے سارک کو نشانہ بنایا ۔جس میں ترقی پذیر اور عالمی سیاسی منظرنامے میں کمزور اور محدود اثر ورسوخ کے حامل ملکوں کی اکثریت ہے ۔بھارت اس تنظیم کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے میں کامیاب رہا ۔سارک ملکوں نے بھارت کی دھونس کے آگے ہتھیار ڈال دئیے اور اسلام آباد میں سارک کانفرنس کا انعقاد نہ ہوسکا ۔بھارت نے دوسرا وار پاکستان کے روایتی اور دیرینہ دوست خلیجی ممالک سے کیا ۔سعودی عرب میں مودی کا والہانہ استقبال ہوا ۔امارات کے سربراہ بھارت کے قومی دن پر مہمان بنے ۔اعلیٰ ترین اعزازات کے تبادلے ہوئے تجارتی تعاون کے معاہدے ہوئے ۔بھارت کا تیسرا محاذ عالمی تھا جس میں امریکہ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے ۔بھارت نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ پر ہر طرح کا اثرو رسوخ استعمال کیا کہ امریکہ پاکستان کے معاملے میں سخت گیر رویہ اپنائے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کے تند مزاج سے فائدہ اُٹھانے کی ہر ممکن کوشش ہوئی مگر ٹرمپ انتظامیہ ابھی تک پاکستان دشمن مزاج کے ساتھ سامنے نہیں آئی ۔امریکہ کی موجودہ حکومت بھی پاکستان کے حوالے سے گاجر اور چھڑی کی پالیسی کے اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں اس کی پیش رو حکومتیں کھڑی تھیں۔
اس لئے ابھی تک بھارت امریکہ کی پاکستان پالیسی کو اپنے مقاصد اور مفادات کے تحت استعمال نہیں کر سکا ۔اس طرح تین محاذوں پر پاکستان کو تنہا کرنے کی سرتوڑ کوششیں کی گئیں مگر ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔پاکستان فوجی مشقوں کے ذریعے بھارت کے فلسفہ ٔ تنہائی کو تابوت میں بند کرچکا ہے ۔پہلی بار روس کے ساتھ مشترکہ بری فوجی مشقوں اور بعد ازاں کئی ممالک کے ساتھ حال ہی میں ہونے والی بحری مشقوں نے پاکستان کو تنہا کرنے کے بھارتی دعوئوں کو ہوا ئوں میں تحلیل کردیا ۔اب اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم کا اجلاس فلسفہ تنہائی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک گیا ۔ اقتصادی تعاون تنظیم کے تیرہویں اجلاس میں جہاں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان شامل تھے وہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی بھی موجود تھے ۔ اقتصادی تعاون کے نام پر قائم اس تنظیم کے تمام رکن ملک مسلمان ہیں۔ یہ ایک نئی دنیا کی تشکیل اور ترتیب میں دلچسپی رکھنے والے ملک ہیں جو مشرق سے اُبھرنے والے سورج کا حصہ ہیں۔اس حوالے سے ایران کے صدر حسن روحانی کا یہ جملہ بہت معنی خیز تھا کہ اقتصادی ترقی کا رخ مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے ۔حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ تاریخ کا اہم ترین موڑ ہے ۔ یونی پولر دنیا اب آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور دنیا ملٹی پولر بنتی جا رہی ہے ۔ایشا ء اس کرہ ارض کا سب سے اہم پول ہے ۔ چین اگر اس پول کا مدار ہے توپاکستان اس پول کا دوسرا اہم ترین ملک ہے جس نے توانائی کے مراکز اور تجارت کی منڈیوں تک چین کی رسائی کو حد درجہ آسان بنادیا ۔ہزاروں کلومیٹر پر محیط فاصلوں کوسینکڑوں میں سمیٹ دیا ہے اور چین کی اقتصادی ناکہ بندی کی فلاسفی کو بحیرہ ٔ چین میں غرقاب کر دیا ہے ۔اقتصادی تعاون کی تنظیم رواں صدی کو ایشیا ء کی صدی بنانے کے کھیل کا حصہ ہے ۔جس میں پاکستان ،ایران ،ترکی ،آذربائیجان ،قازقستان ،کرغزستان ،تاجکستان ،ازبکستان اور افغانستان شامل ہیں۔افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے اس اہم اجلاس میں اپنی شرکت کو سفیر کی حد تک محدود رکھا جسے دیکھ کر گائوں کی وہ بڑھیا یاد آتی ہے جو ایک روز اپنا مرغ بغل میں دبائے گائوں سے بھاگ رہی رہی تھی ۔جب راہ چلتے کسی نے بڑھیا سے گائوں چھوڑنے کی وجہ پوچھی تو بڑھیا کا جواب تھا کہ میں اپنا مرغ لے کر گائوں چھوڑ رہی ہوں کہ نہ میرا مرغ بانگ دے گا اور نہ ہی گائوں میں صبح ہوگی۔گویا کہ بڑھیا اس خبط میں مبتلا تھی گائوں کی صبح صرف اس مرغ کی بانگ سے ہوتی ہے۔پاکستان نے اپنا مرغ لے کر گائوں چھوڑنے کے اس حق کو تسلیم کرنے کا واضح اعلان کیا اور ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان ایک آزاد ملک ہے اس نے جس سطح کی شرکت کو مناسب سمجھا اس کافیصلہ کیاپاکستان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔اقتصادی تعاون تنظیم نے رکن ملکوں کے درمیان تعاون کے کئی اہم فیصلے کئے ۔رکن ممالک کے علاوہ جس ملک نے بطور مبصر کانفرنس میں شرکت کی وہ عوامی جمہوریہ چین ہے ۔اس سے تنظیم کے رخ اور رنگ کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ایکو ملکوں کا یہ اکٹھ ایک اور اسلامی کانفرنس یا ایک اور عرب لیگ ثابت ہوتاہے یاترقی اور تعاون کی سمت میں ایک ٹھوس اور جاندار قدم ثابت ہوتا ہے یہ فیصلہ تو وقت ہی کرے گامگر موجودہ صورت حال میں پاکستان کی سرزمین پر بااثر مسلمان ملکوں کی اعلیٰ ترین قیادت کا مل بیٹھنا پاکستان کو تنہا کرنے کے دعوئوں کی چِتا کے کریا کرم کے مترادف ہے ۔ وقت اور حالات کا یہ دبائو بھارت اور افغانستان کو بھی اپنا اپنا مرغ لے کر گائوں سے بھاگنے کی روایتی پالیسی پر نظرثانی پر مجبور کرے گا۔

متعلقہ خبریں