نجی تعلیمی اداروں بارے قانون سازی کا معاملہ

نجی تعلیمی اداروں بارے قانون سازی کا معاملہ

خیبر پختونخوا کابینہ کی جانب سے صوبہ بھر میں نجی تعلیمی اداروں کو قانون کے دائرہ اختیار میں لاتے ہوئے ان کے نصاب کی نگرانی، فیس کا تعین کرنا، رجسٹریشن اور ریگولیٹ کرانے کیلئے '' ریگولیٹری اتھارٹی'' قائم کرنے کی منظوری احسن اقدام ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ اس امر کی ضرورت مدت سے محسوس کی جا رہی تھی اور عوام کی جانب سے اس امر کا بار بار مطالبہ کیا جا رہا تھا مگر تعلیم کی تجارت سے وابستہ مافیا اس کی راہ میں حائل تھا اس کے باوجود کہ کابینہ کے اجلاس میں اس کی منظوری دی جا چکی ہے ابھی اس پر عملدرآمد اورعملی نفاذ کے مراحل طے ہونے کے بعد ہی والدین کو اس کی افادیت کااحساس ہوگا اور اس کے موثر ہونے کا یقین آئے گا۔خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی صدارت میں منعقد ہوا اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات مشتاق احمد غنی نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کی نگرانی ان کی رجسٹریشن اور انہیں ریگولیٹ کرنے سے متعلق بل محکمہ قانون، پارلیمانی امور اور ہیومن رائٹس ڈیپارٹمنٹ کی مشاورت کے بعد کابینہ میں غور و خوض کیلئے پیش کیاگیا جس کی کابینہ نے منظوری دے دی بل کے مسودے کے مطابق ریگولیٹری اتھارٹی کا کام سکولوں کو رجسٹرڈ اور ریگولیٹ کرنا، ان کے نصاب کی نگرانی کرنا، تعلیم کی فراہمی کا طریقہ کار، ہر سکول کی کیٹگری کے مطابق فیس ڈھانچے کا تعین کرنا، تعلیم کی فراہمی کا شیڈول، ہم نصابی سرگرمیاں اور سکولوں میں موسم گرم، سرما اور بہار کی چھٹیوں کو گورنمنٹ کے سکولوں کے مطابق یقینی بنانے کے علاوہ اتھارٹی کی یہ بھی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس سلسلے میں پالیسی مرتب کرے اور پبلک سیکٹر کو تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرے اور تعلیمی اداروں کی ر ہنمائی اور قیام کیلئے اصول اور طریقہ کار وضع کرے۔ اتھارٹی ہر سکول کی کیٹگری کے مطابق اساتذہ کی کم سے کم تعلیم اور تربیت سمیت معاوضوں کا تعین بھی کرے گی ۔اتھارٹی وہ شرائط بھی بنائے گی جس کے تحت کوئی سکول کھولا اور چلایا جا سکے۔ اتھارٹی سکولوں کی کارکردگی کی جانچ پڑتال بھی کرے گی اتھارٹی کا یہ بھی کام ہوگا کہ وہ تعلیم کی فراہمی کے معیار اور سہولیات کے مطابق سکولوں کی درجہ بندی کرے اور اس کے مطابق فیس ڈھانچے کا تعین بھی کرے۔اتھارٹی کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ سکولوں کی فیس میں مناسب اضافے کی درخواست کو قبول یا رد کرے۔ وزیراعلیٰ نے ریگولیشن اتھارٹی کوسکولوں کے معیار کے مطابق فیس مقرر کرنے کی ہدایت کی۔ صوبائی وزیرتعلیم ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین ہوں گے جبکہ دیگر ممبران میں سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن،سیکرٹری خزانہ، ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈسیکنڈری ایجوکیشن، منیجنگ ڈائریکٹرممبر اور سیکرٹری ہوں گے۔علاوہ ازیں اتھارٹی میں پرائیویٹ سکولوں کے 4ممبر جبکہ والدین کی طرف سے2ممبر شامل ہوں گے۔ جس طریقہ کار اور مسودہ قانون کی منظوری دی گئی ہے اس پر اسمبلی میں سیر حاصل بحث میں اس کے محاسن اور خامیوں پر بھی بحث ہوگی جس کے بعد اس کی منظوری دی جائے گی۔ ایک اجمالی جائزے سے اس مسودے میں کسی ترمیم و تجویز کی ضرورت محسوس نہیں۔ مسودے میں دیگر تفصیلات بھی ہوں گی اس میں نجی تعلیمی اداروں کو پابند قانون بنانے والدین اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ اور نجی سکولوں کے اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر مراعات و سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کی سعی ضرور کی گئی ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کے بارے میں اس سے مشابہ بل کی منظوری گزشتہ دور حکومت میں بھی دی گئی تھی مگر اسمبلی میں بل پیش ہونے کی نوبت نہ آسکی۔ با اثر مالکان اور خود حکومت میں شامل تعلیم کی تجارت سے وابستہ افراد اپنے مفادات پر کسی قانون اور ضابطے کو اثر انداز ہونے کی نوبت نہیں آنے دیتے۔ اس بار بھی یہی خدشہ ہے۔ موجودہ حکومت چاہتی تو شتر بے مہار نجی تعلیمی اداروں کو لگام دینے میں اتنی تاخیر کی ضرورت نہ تھی۔ بہر حال دیر آید درست آید کے مصداق اس امر کا انتظار کیاجانا چاہئے کہ حکومت اس بل کو کب منظور کرا کے عملی طور پر نافذ کرکے اپنے ایک بڑے وعدے کی تکمیل کرتی ہے اور عوام کی اشک شوئی کرتی ہے۔ صوبائی حکومت کے علم میں یہ بات ضرور ہوگی کہ صوبے کے نجی تعلیمی اداروں میں عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کے احکامات کے باوجود بہن بھائیوں کے ایک ہی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم ہونے پر فیسوں میں رعایت پر سرے سے عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔ عوام بار بار عدالت سے رجوع نہیں کرسکتے اور کسی ریگولیٹری اتھارٹی کے نہ ہونے کے باعث شکایت کے لئے کوئی موزوں فورم بھی نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ محکمہ تعلیم کو بھی اس مد میں کوئی دلچسپی نہیں ورنہ عملدرآمد کی کئی راہیں نکل آتیں۔ جن سکولوں میں طالب علموں سے ہزاروں روپے کی فیسیں وصول کی جاتی ہیں وہاں مطلوبہ معیار کی سہولتیں ہی نہیں بلکہ وہاں کے اساتذہ کو واجبی تنخواہ پر رکھا جاتا ہے اور ہر سال پرانے اساتذہ کو رخصت کرکے نئے اساتذہ بھرتی کئے جاتے ہیں۔ ایسے تعلیمی اداروں میں معیار اور تدریس و تعلم کا کیا عالم ہوگا اس کا اندازہ کچھ مشکل نہیں۔ مسائل تو بہت ہیں مگر ان کو حل کرنے والا کوئی نہیں۔ ان دنوں بھی نجی تعلیمی ادارے دو دو ماہ کی فیسیں یکمشت وصول کر رہے ہیں مگر ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ مسودہ بل کی منظوری کے بعد باقاعدہ قانون سازی اور ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام میں مزید تاخیر نہیں کی جائے گی اور حکومت تعلیمی مافیا کے دبائو میں آکر اسے التواء کا شکار نہیں ہونے دے گی۔

متعلقہ خبریں