افغان صدر کا انکار کوئی اچھا فیصلہ نہیں

افغان صدر کا انکار کوئی اچھا فیصلہ نہیں

پاکستان کے اعلیٰ پارلیمانی وفد کے دورہ کابل اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی سنجیدہ مساعی کے باوجود افغان صدر اشرف غنی کا دورہ پاکستان کی دعوت مسترد کر دینا اچھی ہمسائیگی کی پیشکش ہی ٹھکرانا نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے احیا ء کا ایک زریں موقع بھی کھو دینا ہے ۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی سنجید گی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ افغان صدر نے پاکستان کے پارلیمانی وفد اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے ملاقاتوں میں دورہ پاکستان کی دعوت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں تب تک پاکستان نہیںجائوں گا جب تک پاکستان مزار شریف، امریکن یونیورسٹی کابل اور قندھار حملوں کے ذمہ داروں کو افغانستان کے حوالے نہیں کرتا اور پاکستان میں موجود افغان طالبان کے خلاف عملی طور پر قدم نہیں اٹھاتا۔حالیہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان کے تین اعلیٰ عسکری و سیاسی وفود نے کابل کا دورہ کیا ہے۔ گزشتہ روز پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے ایک روزہ دورے کے دوران کابل میں افغان صدر اشرف غنی اور اپنے ہم منصب معصوم استانکزئی سے ملاقات کی۔ جہاں تک شکایا ت کا معاملہ ہے یہ دوطرفہ ہیں افغان صدر اگر پاکستان میں حقانی یا دیگر گروہوں کی پناہ گاہوں کا الزام لگاتے ہیں تو یہی شکایت تو پاکستان کو بھی ہے کہ پاکستانی طالبان کو افغانستان میں پناہ ملی ہے اور پاکستان شواہد بھی دیتا ہے، لیکن اس طرح تو الزام تراشی ہوتی رہے گی۔ واضح رہے کہ افغان حکومت ملک میں دہشتگردی کے مختلف واقعات کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتی رہی ہے۔ لیکن پاکستان کا دفتر خارجہ اور فوج نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔پاکستان کا موقف ہے کہ اس کی سرزمین افغانستان سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی جبکہ شدت پسندوں کے خلاف بلاتفریق کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان نے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔اور ساتھ ہی پاکستان تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے مگر افغانستان نے دوستی کا ہاتھ جھٹکنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ بہر حال پاکستان اور افغانستان کو مطلوبہ افراد کی فہرستوں کے تبادلے اور تربیتی کیمپوں کی موجودگی جیسے الزامات کے ثبوت و شواہد پیش کر کے آگے بڑھنا ہوگا، جبکہ اب دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کے لیے تیسرا فریق بھی ضروری ہو گیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کو اس امر کا ادراک کرنا چاہیئے کہ وہ نہ تو ہمسائے بدل سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے معاملات کے حل کیلئے کوئی آئے گا۔ تمام تر شکایات اور الزامات کے باوجود بھی دونوں ممالک کو ان شعبوں میں جن میں تعاون کی گنجائش ہے ایک دوسرے کا ہاتھ تھا منا چاہیئے اور جن معاملات پر اختلافات ہیں ان کو مل بیٹھ کر طے کر لینا چاہیئے۔ افغانستان جتنا بھی وقت ضائع کرے اسے بالآخر پاکستان سے معاملت کرنی ہوگی ۔ کیا یہ بہتر نہ تھا کہ پاکستانی وفود کے جرگے کا احترام کیا جاتا اور اشرف غنی دورہ پاکستان کی دعوت قبول کر کے کشید گی میں کمی لانے کی عملی کوشش کر کے اخلاقی برتری حاصل کر لیتے ۔
دینی جماعتوں کو خود کو منوانا ہوگا
دینی سیاسی جماعتوں کا اتحاد عمل میں آتا ہے یا نہیں یہ ان کا اپنا معاملہ ہے لیکن اگر وہ اتحاد تشکیل دیتی ہیں تو ان کو چاہیئے کہ وہ نہ صرف دینی بلکہ دنیاوی لحاظ سے بھی عوام کی بہتر خدمت کا کوئی جامع فارمولا لیکر سامنے آئیں صوبے میں ایم ایم اے کی حکومت سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں لیکن بہر حال رشوت و بد عنوانی کازیادہ الزام بھی نہ لگا۔ صوبے میں سادہ طرز حکومت سادگی و کفایت شعاری اور اردو کی ترویج ایم ایم اے دور حکومت کے اہم کاموں میں شامل ہے ۔ علماء پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور عوام کی بھی ان سے توقعات زیادہ ہیں اس لئے ممکنہ اتحاد کی تشکیل یا ایم ایم اے کی بحالی کی صورت میں صوبے میں معاشرے کی اصلاح و تظہیر استحکام امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ جیسے معاملات پر شروع ہی سے توجہ دینے کی ضرورت ہوگی سیاسی طور پر صوبے میں اپنی جماعتوں کے اتحاد کی کامیابی اور دینی طبقے کا ووٹ تقسیم نہ ہونے سے انتخابات میں ان کی کامیابی اس درجے کے ہونے کی امید ہے کہ وہ حکومت سازی کرسکیں ۔

متعلقہ خبریں