سینیٹر پرویز رشید نے بھی خوداختیاری خاموشی توڑ دی

سینیٹر پرویز رشید نے بھی خوداختیاری خاموشی توڑ دی

اکتوبر 2016ء کے اوائل میں روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے مواد کے بارے میں انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے پیراگراف نمبر 18کی روشنی میں اپنے عہدوں سے برطرف ہونے والے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اُمور خارجہ طارق فاطمی اور وزارت اطلاعات کے پرنسپل انفارمیشن افسر راؤ تحسین علی کی طرف سے برطرفی کے فیصلے سے اختلاف کے اظہار کے بعد سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بھی اس بارے میں طویل خود اختیاری خاموشی کے بعد زبان کھول دی ہے۔ لیکن نہایت احتیاط کے ساتھ۔ اب جب طارق فاطمی نے وزارت خارجہ کے افسروں کے نام خط میں ان ''الزامات'' کی صحت سے انکار کیا ہے جو انکوائری کمیشن نے اُن پر عائد کیے ہیں اور راؤ تحسین علی نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کریں گے تو سابق وزیر اطلاعات نے ایک طنز بھرے جملے سے اپنے خلاف کارروائی کو چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر کسی خبر کوروکنا وزیر اطلاعات کی ذمہ داری ہے تو یہ موضوع کہ ''خبر کو کس طرح روکا جائے'' یونیورسٹیوں کے صحافت کے نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔ اس طرح انہوں نے اس الزام کے تحت وزارت اطلاعات کی ذمہ داریوں سے سبکدوشی کے فیصلے کے خلاف لب کھول دیے ہیں لیکن یہ الزام جو بہت پہلے وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان نے عائد کیا تھا کیاانکوائری کمیشن کی رپورٹ میں بھی شامل ہے؟انکوائری کمیشن کی رپورٹ اپوزیشن پارٹیوں اور صحافتی حلقوں کے اصرار کے باوجود تادمِ تحریر جاری نہیں کی گئی ہے۔حالانکہ اس کی روشنی میں انتظامی فیصلے بھی صادر کیے جا چکے ہیں۔ ان انتظامی فیصلوں میں متذکرہ بالا اعلیٰ اہل کاروں کاذکر ہے لیکن سابق وزیر اطلاعات سینیٹر پرویزرشید کاذکرنہیں۔ نہ انہیں بحال کیا گیا ہے ' نہ اُن کی برطرفی کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس سے بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں کہ کیا کمیشن نے وزیر اطلاعات سینیٹرپرویز رشید سے بھی اس مواد کی اشاعت کے بارے میں تحقیقات کیں؟کیا وہ تحقیقات کے نتیجے میں اس موادکی اشاعت کے ذمہ داروں میں شامل قرار دیے گئے؟ رپورٹ تاحال عام مشاہدے کے لیے جاری نہیں کی گئی ہے۔ اس لیے یہ سوال اپنی جگہ قائم ہیں۔طارق فاطمی نے بھی رپورٹ کے تحت عائد کیے جانے والے الزامات سے اختلاف کیا ہے ۔ راؤ تحسین علی نے بھی کہا ہے کہ وہ فیصلے کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ لیکن ان پر کیا الزامات عائد کیے گئے یہ نہیں بتایا۔ البتہ یہ کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے رپورٹ کی کلاسیفائیڈ نقل حاصل کرنے کے لیے سلسلہ جنبانی کی ہے۔ لیکن یہ رپورٹ وہ عدالت کے ذریعے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ کیوں؟ سینیٹر پرویز رشید نے بھی زیرِ نظر معاملے کے حوالے سے وزارت اطلاعات سے برطرفی پر اظہار ِ عدم اطمینان کیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ ان پر وہی الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ مواد کی اشاعت رکوانے میں ناکام رہے ہیں یا کوئی اور ۔ اس کی تصدیق تو رپورٹ کے عام ہونے کے بعد ہی ہو گی۔ پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے بھی رپورٹ کے تحت کی گئی کارروائی کو نامکمل قرار دیا ہے اوراسے سفارشات سے عدم مطابقت محمول قرار دیا ہے۔ خود وزیر اعظم کے سیکرٹریٹ نے رپورٹ کے صرف پیراگراف نمبر 18میں درج سفارشات کے حوالے سے کارروائی کی ہے۔ لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے رپورٹ کی منظوری دے دی ہے۔ اگر منظوری دی جا چکی ہے تو اسے عام مشاہدے کے لیے من و عن جاری کر دینا چاہیے۔ اب پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کہہ رہے ہیں کہ رپورٹ کے صرف آپریٹو حصے یعنی وہ حصے جن میں رپورٹ کے تحت کارروائی کی گئی ہے جاری کیے جائیں گے۔اگر پیراگراف 18ہی آپریٹو حصہ ہے تو اس کے مطابق جو کارروائی کی گئی ہے وہ لگتا ہے سرکاری ڈسپلن کی خلاف ورزی سے متعلق ہے جیسا کہ راؤ تحسین علی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن رولز کے تحت کارروائی ہو گی۔ اورسرل المیڈا اور روزنامہ ڈان کا معاملہ اے پی این ایس کے سپرد کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ اے پی این ایس ضابطۂ اخلاق مرتب کرے ۔ تو کیا اے پی این ایس ایسا ضابطۂ اخلاق مرتب کرے گی جو موثربہ ماضی ہو گا؟ اس سارے شور شرابے میں اصلی سوال گم ہوتا نظرآتا ہے جس کے جواب کا عوام کو انتظار ہے۔ آیا روزنامہ ڈان کی 6اکتوبر کی اشاعت میں وزیر اعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے سول اور فوجی قیادت کے اجلاس کی جو روداد شائع ہوئی ہے وہ حقیقی واقعہ تھی یا من گھڑت کہانی؟ اس مواد کی اشاعت کو قومی سلامتی کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بات پر فوجی اور سویلین قیادت کااتفاق ہے کہ ایسا کوئی مکالمہ ' کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں تھا۔ اور یہ من گھڑت کہانی ہے۔ روزنامہ ڈان کے رپورٹر اور روزنامہ کاایڈیٹوریل بورڈ اس موقف پر قائم ہے کہ جو مواد شائع ہوا ہے وہ خبر ہے اور حقیقی واقعہ کی روداد ہے۔ اگر یہ من گھڑت کہانی ہے تو کس نے اس کی تحریک کی' کس نے اسے تصنیف کیا ۔ کس نے اسے سرل المیڈا تک پہنچایا۔ کس نے اس کی تصدیق کی (سرل المیڈا کا بیان ہے کہ اس نے اس کی تصدیق کی تھی) ۔ اس مواد کی اشاعت کے مقاصد کیا تھے ۔ اس مواد کی اشاعت سے قومی سلامتی کے تقاضے مجروح ہوئے ہیں یا نہیں؟ پیراگراف 18کے تحت جوکارروائی کی گئی ہے اس سے یہ کہیں نظر نہیں آتا کہ انکوائری کمیشن نے ان سوالوں پر غور کیا اور ان کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی۔ من گھڑت کہانی شائع کرنے کے بارے میں قوانین موجود ہیں۔ سرکاری راز افشاء کرنے کے بارے میں بھی قوانین موجود ہیں۔ اس کے باوجود پیراگراف 18میں محض ڈسپلن رولز کی خلاف ورزی کے تحت سفارش کی گئی ہے کیوں؟ اگر یہ رپورٹ متذکرہ بالا سوالوں کا جواب دینے میں ناکام رہی ہے تو کیا ازسرِنو انکوائری زیرِ غور ہے ۔ اگر ایسا ہے تو بھی یہ ضروری ہے کہ موجودہ رپورٹ عام مشاہدے کے لیے جاری کر دی جائے۔

متعلقہ خبریں