مزدور کو اجرت میں فقط موت ملی ہے

مزدور کو اجرت میں فقط موت ملی ہے

گزشتہ چند سالوں سے مزدوروں کے عالمی دن کی مناسبت سے تحریر کی صورت میں ہم اپنا حصہ ڈالتے رہے ہیں۔ اس بار بھی پوری طرح یاد تھا لیکن کچھ دوسرے مسائل میں اس طرح الجھ گئے کہ کوشش کے باوجود موقع پر اس موضوع پر توجہ نہ دے سکے۔ یوم مزدور ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ ہم بھی تمام زندگی قرطاس و قلم کی مزدوری میں جتے رہے ہیں۔ اب بھی یہ کام کرتے ہیں۔ ہماری یہ مزدوری قدرے سفید پوشی کا رنگ لئے ہوئے ہے۔ وہ جو شب و روز محنت کے باوجود بھوک کا تجربہ ہوتا ہے' اس کا سامنا نہیں ہوا۔ روزانہ کے حساب سے کنواں کھود کر پانی پیتے رہے' روکھی سوکھی ملتی رہی لیکن چلچلاتی دھوپ میں پورے خاندان کے ساتھ اینٹوں کے بھٹے پر کام نہیں کیا۔ شدید سردی میں ننگے پائوں مٹی گوندھنے سے خدا نے محفوظ رکھا۔ موسلا دھار بارش میں گدھا گاڑی نہیں چلائی۔ کسی کارخانے میں مالک کی جھڑکیاں نہیں سنیں' اس کے تھپڑ نہیں کھائے۔ جی ہاں! گزشتہ دنوں آپ نے بھی پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر وہ کلپس دیکھے ہوں گے جن میں کوئی چائولہ صاحب اپنی فیکٹری کے مزدوروں کو جن میں دوپٹہ اوڑھے ایک خاتون بھی شامل تھی گھونسوں اور تھپڑوں سے ان کی تواضع فرما رہے تھے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق سندھ کے وزیر اعلیٰ نے حسب معمول اس وقوعے کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ دیکھتے ہیں ان کے اس اعلان کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ ہوتا بھی ہے یا نہیں۔ یا پھر بلدیہ ٹائون کراچی کے اس سانحے کی طرح بھلا دیا جائے گا جب گارمنٹس فیکٹری میں ڈھائی سو سے زیادہ محنت کش آگ میں زندہ راکھ ہوگئے تھے۔ شنید ہے کہ اس فیکٹری کے مالکان بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہمارے ملک کے وارداتئے جو کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہوتے ہیں بعض کے گھروں سے اربوں کے حساب سے کرنسی نوٹوں کے ٹرنکس بھی برآمد ہو جاتے ہیں بعد میں پتہ لگتا ہے کہ وہ سلیمانی ٹوپی پہن کر دبئی یا لندن پہنچ چکے ہیں۔ جب واپس آتے ہیں تو عدالتوں میں پیشی کے بعد وکٹری کا نشان بناتے نکلتے ہیں۔ اپنے شہر میں ان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیاجاتا ہے اور ان کے سر پر سونے کے تاج رکھے جاتے ہیں۔ ایک بار پھر یہ لوگ اپنی تقریروں میں ملک سے غربت اور کرپشن کے خاتمے کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ بندہ مزدور کے تلخ اوقات کا مداوا کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

ہم سوچتے ہیں کہ یہ جو سرکار نے محنت کش کے لئے پندرہ ہزار روپے ماہانہ کا معاوضہ مقرر کیا ہے اس میں اگر 5افراد پر مشتمل خاندان کے لئے گزر اوقات کا نسخہ بھی تجویز کردیا جاتا تو یہ ان کی ایک اضافی مہربانی ہوتی۔ ہم ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ جب گھر کے کسی ایک فرد کے ملیریا یا فلو میں مبتلا ہونے پر ڈاکٹر کا نسخہ دو ہزار سے کم کا نہیں آتا تو وہ مزدور اس رقم میں خود اور دوسرے افراد خانہ کو کس طرح زندہ رکھ سکتا ہے۔ سرکار نے یہ معلوم کرنے کی بھی کبھی کوشش نہیں کی کہ نجی اداروں میں کہاں تک پندرہ ہزار روپے ماہانہ کے ان احکامات پر عمل درآمد کیاجاتا ہے۔ آئیے ہم کو بتائیں کہ اربوں روپے کے سامان سے بھرے ہوئے جنرل سٹورز میں کام کرنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ سیلز مین کو کتنی تنخواہ دی جاتی ہے۔
بیمار پڑنے پر قواعد کے مطابق اس کو علاج معالجے کی سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں یا نہیں؟ سب سے اہم بات یہ کہ ان سٹورز کے کارکنوں کے اوقات کار کیا ہیں؟ ان سے 12 سے 15 گھنٹوں تک مسلسل کام لیا جاتا ہے اور مہینے کے آخر میں ان کو 8ہزار روپے تھما دئیے جاتے ہیں کہ جائو عیش کرو۔ یہ وہ سرمایہ دار ہیں جن کے ہاں شادی بیاہ کی تقریبات ہفتوں تک چلتی رہتی ہیں۔ گزشتہ دنوں ہمیں شادی کا ایک دعوت نامہ ملا۔ یہ سنہری چار ورقی کارڈ تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس ایک کارڈ پر ایک ہزار روپے لاگت آئی ہے۔ ہم اس قسم کی دعوتوں میں شرکت انسانیت کی توہین سمجھتے ہیں۔ یہ سرمائے کی تقسیم اور جدلیاتی فلسفے پر کوئی علمی بحث نہیں ہم صرف روزانہ کے تجربات پر مبنی طبقاتی معاشرے کے المیے پر عام فہم اور سادہ الفاظ میں بات کر رہے ہیں۔ یقین جانئے اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے مزدور نے نہ تو سرمایہ پڑھی ہے نہ وہ بالزاک کو جانتا ہے جس نے کہا تھا Behind every great fortune there is a crime. یعنی ہر بڑی قسمت کے پیچھے کوئی جرم ضرور موجود ہوتا ہے۔ مزدور تو صرف اپنی بدحالی اور غربت کو دیکھ کر سوچتا ہے کہ اسے شبانہ روز محنت کے باوجود پیٹ بھر کر کھانا کیوں نصیب نہیں ہوتا۔ اسے اپنی محنت کا اتنا صلہ کیوں نہیں ملتا جس میں وہ ایک با عزت زندگی بسر کرسکے اور اسے روزانہ کی ضرورتیں پوری ہونے پر خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ غربت کی وجہ سے خودکشی کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ کبھی ماں اپنے بچوں کا گلا گھونٹ کر ابدی نیند سو جاتی ہے تو کبھی باپ اولاد کو قتل کرکے خود بھی موت کو گلے لگا لیتاہے۔ گزشتہ ہفتے خبر لگی کہ لاہور میں ایک مزدور نے مزدوری نہ ملنے پر اپنے پانچ بچوں کو چوہے مار گولیاں کھلا کر موت کی وادی میں اتار دیا اور پھر خود بھی اس مزدور نے حرام موت کا آپشن استعمال کرکے مفلسی' بھوک اور پیاس سے نجات حاصل کرلی۔
دن بھر کی مشقت کا صلہ دیکھ لے صاحب
مزدور کو اجرت میں فقط موت ملی ہے

متعلقہ خبریں