کسی پہلو چین نہیں

کسی پہلو چین نہیں

عدالت عظمیٰ نے تحریک انصاف کے چیئر مین عمر ان خان اور سیکر ٹری جنرل جہا نگیر ترین کے خلا ف منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری سے متعلق کیس کی سماعت سے قبل حنیف عباسی اور دانیا ل عزیز کی میڈیا سے گفتگو کرنے پر اظہا ر بر ہمی کر دیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے خفگی کا اظہا ر کر تے ہو ئے حنیف عباسی کے وکیل سے اپنے مکا لمے میں فرمایا کہ کیس سے متعلق گرائونڈ طے کر لیں ،انہو ں نے ریمارکس دئیے کہ جن عنا صر کا کیس سے تعلق نہیں وہ گفتگو کر رہے ہیں ، چیف جسٹس نے عدالت کے احاطے میں ہر قسم کی گفتگو پر پابندی لگا دی ہے ۔اگر جا ئزہ لیاجا ئے تو چیف جسٹس کا یہ فیصلہ ایک اصولی فیصلہ ہے کیو ں کہ ما ضی قریب میں مقدمات پر جو تبصرے اڑائے جا تے رہے ہیں وہ اخلاقیا ت کے دامن سے عاری رہے ہیں جبھی گزشتہ دنو ںچیف جسٹس نے تحریک انصاف کے سربراہ کو سبق یا د کر ایا تھا کہ عدالتی فیصلو ں پر اس انداز میںتنقید نہیں کی جا تی اور عمر ان خان نے آئندہ یہ سبق یا د رکھنے کی یقین دہانی بھی کر ائی تھی ۔ اب مسلم لیگ کے رہنماؤں کو جو سبق یا د کر ایا گیا ہے اس پر مسلم لیگ کے رہنما سعد رفیق بولے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مخالفین نے سپریم کو رٹ کے فیصلے کی بار ہا توہین کی ، کسی نے روکا نہ پوچھا تنقید کر نے والے خود بھی نشانہ بنیں گے ۔ عمر ان خان کو رعایت دیں گے اور نہ لینے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمر ان خان نا اہلی کیس میں میڈیا ٹاک پر پا بندی نا قابل فہم ہے۔ سپر یم کو رٹ میں دوران سماعت نو از شریف اور ان کی فیملی کا بد ترین ٹرائل ہو ا ، وفاقی وزیر ریلو ے کا گلہ بجا ہے ، جو پا بندی اب لگی ہے وہ اس وقت بھی ہو نی چاہیے تھی مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ایک برائی پہلے غفلت کی وجہ سے رنگ دکھارہی تھی اب بھی اپنے جلو ے دکھا تی رہے ، مسلم لیگ ن کے اکا بر کو پر یشان ہو نے کی ضرورت نہیں ہے اگر ان کا کیس مضبوط ہے تو اس میں کو نسی پر شانی کی بات ہے البتہ ان کو خو ش ہو نا چاہیے کہ زبان درازی پر قینچی چل گئی ہے اور آئندہ ایسی حرکت کی کسی کو مجال نہیں ہو گی ۔وہ سنجید گی سے مقدمہ لڑیں اور اس کو سیاست کی نذر نہ کر یں جیسا کہ پی پی اور پی ٹی آئی مقدما ت کے ساتھ سیا سی کھلواڑ کر تی رہی ہے ۔ مسئلہ کھلواڑ کا نہیں ہے بلکہ سنجید گی کا ہے۔ یہ سب لانجھے اس لیے پالے جا تے ہیں کہ عوام کو گمر اہ کر کے اپنی سیاست کی دکا ن کو چمکا یا جا تا رہے ان میں وہ عنا صر بھی شامل ہیں کہ جن کے بارے میں یہ سوچا جا تا ہے کہ ان کی ہر بات دانشمندانہ ہو گی مگر دیکھنے میں یہ آ یا ہے کہ یہ بعض سیاست دانو ں سے زیادہ سیا ست دانی کے وفادرا ہے اور اپنا بھی عوام کا بھی دلشاد کر تے رہتے ہیں۔ ایک ایسے ہی صاحب ہیں جب سے وہ ایک اعلیٰ عہدے سے ریٹائر ہو ئے ہیں انہو ں نے قلم کی نو ک پر دلشاد رکھنے کا گر سکھ لیا ہے جس طر ح ساون کے اندھے کو ہر اہی ہر ا نظر آتا ہے ان کو بھی ایسا لگتا ہے ۔ خیر سے ملا زمت سے سبکدو ش ہونے کے بعد خو دکو بیوروکر یٹ کی گتھی (تھیلی ) سے نکا ل کر کا لم نگا رو ں کی صف میں بطور دانش ور شامل کر رکھا ہے۔ ان کا ایک تازہ کا لم ڈان لیکس کے پس منظر میں شائع ہو ا ہے جس میں انہو ں نے قلم کی طا قت کی بجائے تلو ار کی طاقت کی فوقیت کچھ اس طرح بیان کی ہے ،کہتے ہیں کہ 2012ء میں بھارتی فوج میںاضطراب پھیلا تھا ، کیو ں کہ انڈین آرمی چیف کی خواہش کے برعکس چندی گڑھ میں ایک کنا ل کا پلاٹ الا ٹ کیا گیا ، تو آرمی چیف نے وزارت دفاع سے استدعا کی چونکہ ان کی اہلیہ دمہ کی مریضہ ہیں لہٰذا انہیں کا رنر پلا ٹ دیا جا ئے تاکہ ان کی اہلیہ کو تازہ ہو ا کے جھو نکے ملتے رہیں۔ بھارتی وزارت دفاع نے ان کی درخواست مستر د کر دی اور پا رلیمنٹ میں آرمی چیف کا مذاق اڑایاگیا ۔ بھارتی آرمی چیف نے سپریم کورٹ آف انڈیا سے رجو ع کیا تو وہا ں بھی شنو ائی نہیں ہوئی ، انڈین آرمی چیف کو کسی ادارے کی جانب سے رعایت یا ان کی خواہش پوری کر نے سے انکا ر میں جو اب مل گیا تو چودہ لا کھ انڈین آرمی میں غم وغصے کی لہر دو ڑ گئی اوریہ با ت بین الا قوامی میڈیا کے ریکا رڈ میں ہے کہ انڈین آرمی اپنی حرمت کو بچانے کے لیے حرکت میںآ گئی اور روہتک ، جھا نسی ، گڑگاؤں کی چھا ئونیو ں سے کئی بٹالین فوج نئی دہلی کی طرف روانہ ہو گئی یہ ساری صورت حال دیکھ کر انڈین پا رلیمنٹ کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی چند گھنٹوں میںانڈین جمہو ریت کا جنازہ نکلتے دیکھ کر اسی رات ہنگا می بنیا دو ں پر ڈیفنس منسٹری نے آرمی چیف کی درخواست منظو رکرلی ، کا لم نگار کا ادعا ہے کہ وہ اس واقعہ کے بارے میں متعدد بار کا لم نگا ری کا شرف حاصل کر چکے ہیں ۔ اب یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ کا لم نگا ر کا بار بار اس واقعہ کو دہر ا نے کا مد عا کیا ہے اور وہ اس میں کس کی بر تری یا کونسی اصول پسند ی کا ذکر کر رہے ہیں یا کس کو خوف واندیشہ میں مبتلا کر رہے ہیں ۔کس کا دلشاد کر نے کے درپے ہیں جب کہ اس واقعہ سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ کوئی اصول پسندی یا قانو ن و آئین کی فوقیت نہیں ہے نہ اس میں کوئی اخلا قیا ت کا سبق ہے بلکہ اردو ضرب المثل کا عملی نمو نہ ہے کہ جس کی لا ٹھی اس کی بھینس ۔کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ انڈین آرمی چیف جو وہ قانو نی اور اصولی طو پر حاصل نہ کر پائے وہ انہو ں نے جس راستے سے حاصل کیا وہ درست ہے یہ باتیں لکھ کر تو مو صوف پر ویز مشرف کے اکتوبر 1999ء کے سنگین ترین جر م کو جائز قرار دے رہیں۔ گویا جمہو ریت جو عوام کا مینڈیٹ ہو تا ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے بس سب کچھ طاقت کے گر د گھو منا ہی درست ہے۔ یا پھر سب کچھ مفاد ہی ہے ، اصول وقانون آئین واخلا قیات بے معنی ہیں ۔ان باتو ں سے وہ کس کی کر دار کشی کر ر ہے ہیں ،ان کی دانشمند ی پر کیا پر دہ پڑ گیا ہے کہ عوام کو بد گما ن کیا جا رہا ہے طاقت کا ظہور دکھا کر ۔تاکہ عوام کا خود پر سے اعتما د اٹھ جا ئے ۔

متعلقہ خبریں