بھارت پر'' وار ہسٹریا ''کا نیا دورہ

بھارت پر'' وار ہسٹریا ''کا نیا دورہ

بھارت نے کنٹرول لائن پر کرشناگھاٹی میں پاک فوج کی طرف سے فائرنگ اور اپنے دوفوجیوں کی لاشیں مسخ کرنے کا الزام عائد کر کے ایک بار پھر خطے کے ماحول کو گرمانے کی کوشش کی ہے۔چند دن قبل میڈیا میں یہ خبریں عام ہوئیں کہ بھارت نے اپنی فوج کو چین کے خلاف پندرہ دن اور پاکستان کے خلاف ایک ہفتے کی جنگ کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا ہے ۔اس کے بعد جب کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد پر مجموعی صورت حال پرامن تھی اچانک بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن پر فائرنگ اوراپنے دو فوجیوں کی لاشیں مسخ کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔بھارت کی طرف سے دوفوجیوں کی ہلاکت کی خبر سے وہ سار امنظر اور ماحول نہیں بن سکتا تھا جو ان کی لاشیں مسخ کرنے کے الزام کے نتیجے میں بن رہا ہے ۔دوسری طرف پاکستان نے کنٹرول لائن پر کسی قسم کی فائرنگ کے واقعے کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستانی فوج ایک پروفیشنل فوج ہے جو لاشوں کو مسخ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی خواہ وہ کسی بھارتی فوجی کی ہی کیوں نہ ہوں ۔پاکستان کے ڈی جی ملٹری آپریشنز نے اپنے بھارتی ہم منصب سے ہاٹ لائن پر رابطہ کرکے کنٹرول لائن پر فائرنگ کے واقعے کی تردید کی لیکن بھارتی میڈیا کی طرف سے اس بے بنیاد واقعے کو بنیاد بنا کر جنگی فضاء پیدا کی جارہی ہے۔اس کا ثبوت بھارتی فوج کی اعلیٰ قیادت کا یہ بیان ہے جس میںبھارتی فوج کے وائس چیف آف آرمی سٹاف سارتھ چندنے دھمکی دی ہے کہ پاکستان کو اپنی پسند کی جگہ اور مقام پر اس کا جواب دیں گے ۔اس سے پہلے بھارتی وزیر دفاع ارون جیٹلی نے بھی کہا کہ دو فوجیوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ان بیانات سے صاف لگتا ہے کہ بھارت کشیدگی کوجو پہلے ہی قائم ہے مزید بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت کئی میدانوں میں پاکستان کے مقابلے میں زچ ہو کر رہ گیا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کی مقبول مزاحمت بھارت کے لئے مستقل درد سر ہے ۔کلبھوشن یادیو کی سزائے موت نے بھارت کی امن پسندی کا بھانڈہ بیچ چوراہے پھوڑ ڈالا ہے ۔بلوچستان میں بھارت کی بھڑکائی ہوئی آگ بجھ رہی ہے اور علیحدگی پسند ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں ۔افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری کے آثار نظر آتے ہیں ۔افغانستان میں گل بدین حکمت یار کی واپسی ہو چکی ہے اور وہ کابل کے سیٹ اپ کا حصہ بن رہے ہیں ۔یہ بات بھارت کے لئے سوہان روح ہے ۔اس لئے بھارت اب پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے بہانے ڈھونڈ رہا ۔ بھارت کو پڑنے والے وار ہسٹریا کے موجودہ دورے کا تعلق اسی فرسٹریشن اور ناکامیوں سے معلوم ہوتا ہے ۔بھارت کی بڑائی اور سپر پاور بننے کے دعووں کے چیتھڑے سری نگر کی گلیوں میں اُڑ رہے ہیں۔آزادی کا سیل رواں کسی طور تھمنے اور رکنے میں نہیں آرہا ۔بھارت اپنے تمام کارڈز استعمال کرچکا ہے ۔تمام تیر آزما چکا ہے ۔مودی کی طرف سے اربوں کا اقتصادی پیکج کشمیریوں کو گاجر دکھانے کی کوشش تھی مگر اہل وادی نے اس پیشکش کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا ۔گاجر پالیسی سے پہلے اور بعد میں بھارت چھڑی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔طاقت کا وہ کون سا حربہ ہے جو کشمیریوں کی مزاحمت کو کچلنے کے لئے اختیار نہ کیا ہو۔چند دن سے کشمیر کے تعلیمی اداروں میں بھی اُبال سا آگیا ہے۔یہ مدرسوں کے نہیں بلکہ روایتی تعلیمی اداروںاور انگریزی میڈیم کے طلبہ وطالبات ہیں جو اپنی وردیوں میں سڑکوں پر نکل کر قابض فوج پر سنگ بار ی کر رہے ہیں اور آزادی اور حق خود ارادیت کی حمایت میں اپنے جذبات کا اظہا کر رہے ہیں ۔اب بھارت نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اُٹھنے والی اس لہر کی وجہ سوشل میڈیا ہے ۔ گزشتہ دنوں کشمیری نوجوانوں پر بھارتی مظالم کی ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہیں ۔ان ویڈیو ز نے ماضی کے نازی جرمنی او رحال کے اسرائیل کی یاد تازہ کردی۔ایک فوجی گاڑی کے آگے باندھ کر نوجوان کو ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال کرنے سے بھارت کا جمہوری اور سیکولر پیراہن عالمی سطح پر تار تار ہو کر رہ گیا ۔بھارت کی طرف سے کہا جانے لگا ہے کہ حالیہ لہر کی وجہ سوشل میڈیا ہے اور اب بھارت نے وادی میں بائیس سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر ایک ماہ یا تاحکم ثانی پابندی عائد کردی ہے ۔بھارتی حکام نے کہا تھا کہ وادی میں 350واٹس ایپ گروپ افواہیں پھیلا کر حالات خراب کر رہے ہیں جن میں نوے فیصد کو بند کر دیا گیا۔بھارت کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ کشمیر میں ڈیڑھ سو مجاہد موجود ہیں اور چند شرپسند افراد حالات خراب کر رہے ہیں تو پھر اس کے لئے دس لاکھ فوج اور نیم فوجی دستے کشمیر میں کیا کر رہے ہیں۔ اس کے لئے وادی کو دنیا سے کاٹنے کے لئے جدید ذرائع ابلاغ کا یوں گلہ گھونٹنے کی کیا ضرورت ہے؟۔یہ سب بھارت کی ناکامیوں کا ثبوت ہے اور ایک نہتی قوم کی جرات اور استقامت کا کمال ہے کہ وہ سپر پاور کے خواب چکنا چور کر رہی ہے ۔

متعلقہ خبریں