وفاق سے محاذ آرائی نہیں ، دبائو ضرور ڈالیں

وفاق سے محاذ آرائی نہیں ، دبائو ضرور ڈالیں

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی جانب سے اسلام آباد لاک ڈائون کی بجائے جماعتی فیصلے کے تحت یو م تشکر منانے کے بعد یہ بیان کہ وفاقی اور پنجاب حکومت نے پنجابی اور پختونوں کو آمنے سامنے دشمن بنا کر کھڑا کر کے صوبوں کے درمیان شگاف ڈالنے کی کوشش کی۔ وزیر داخلہ چوھردی نثار علی خان نے جوابی طور پر بجا بیان دیا ہے کہ پرویز خٹک قومی سلامتی کے اداروں کو سیاست میں نہ گھسیٹیں ۔ انہوں نے پیش کش کی ہے کہ پرویز خٹک بطور وزیر اعلیٰ اسلام آباد آئیں تو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے زیادہ پروٹوکول دیا جائے گا ۔ خیبر پختونخوا حکومت کا وزیر داخلہ اور آئی جی پنجاب کے خلاف مقدمات درج کرنے کا اعلان کسی طور مناسب امور نہیں ۔ اس کے باوجود کہ مرکزاور حکومت پنجاب کی طرف سے خیبر پختونخوا سے جانے والے قافلے کو روکنے کیلئے طاقت کا بیر حمانہ استعمال کیا گیا ، اب اس معاملے کو قصہ پارینہ بنا دینا طرفین کے لئے بہتر امر ہوگا ۔جس مقصد کیلئے پی ٹی آئی کو شاں تھی وہ مقصد بڑی حد تک اگر حاصل نہیں ہوا تو کم از کم اس طرف پیشرفت ضرور ہوئی ہے جسے کامیابی نہ بھی کروانا جائے تو اسے ناکامی سے تعبیر کرنا بھی غلطی ہوگی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے جس طرح صوبے سے جانے والے جلوس کی قیادت کی اور اسے روکنے کیلئے دوسری جانب سے جو کچھ بھی ہوا وہ سیاسی معاملات تھے ان کا صوبائی حکومتوں اور مرکز کے درمیان تعلقات اور اسے کدو رت اور بعد کا ذریعہ بنا نا ہر گز مناسب نہیں اب اسی باب کو بند ہونا چاہئے اور سیاسی معاملات کو عوامی سطح پر لا کر خواہ مخواہ ہم آہنگی کی فضا کو مکدرنہ کیا جائے جہا ں ۔تک پی ٹی آئی کی سیاسی جدوجہد اور اصولی موقف کا تعلق ہے اس کی اصابت سے مخالفین کو بھی مشکل سے انکار ہو گالہٰذا بہتر ہوگا کہ تحریک انصاف بطور جماعت اپنے اسی اصولی موقف کو شائستہ اور متین انداز میں اس کو آگے بڑھانے کی جدوجہد جاری رکھے البتہ تحریک انصاف کو اس موقف کو عوام کیلئے زیادہ سے زیادہ قابل قبول بنانے کیلئے صوبے میں احتساب کا نظر آنے والا عمل شروع کرنا ہوگا تاکہ مخالفین صوبائی احتساب کمیشن کے پر کاٹنے کے جو طعنے دے رہے ہیں ایک جانب جہاں ان کا سدباب ہو دوسری جانب صوبے میںعوام کو عملی طور پر ایس امر کا احساس ہو جائے کہ تحریک انصاف صرف مخالفین اور مرکز میں ہی احتساب نہیں چاہتی بلکہ گھر سے احتساب کے کڑے عمل کی بھی خواہاں ہے ۔ جہاں تک خیبر پختونخوا حکومت کا وزیر داخلہ اور آئی جی پنجاب کے خلاف مقدمات کے اندراج کا تعلق ہے اولاً قانونی ماہرین شاید ہی اس کا مشورہ دیں دوم یہ کہ جس پر عمل در آمد نہ ہوسکے وہ کام کرکے صوبائی حکومت طاقتوروں کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے گی ۔صوبائی حکومت کو سو چنا چاہیے کہ اگر وہ وفاقی وزیر داخلہ اور آئی جی پنجاب کے خلاف مقدمے کا اندراج کرتی ہے تو کیا وہ اس ایف آئی آر پر عملد ر آمد کرا سکے گی ۔ یقینا صوبائی حکومت کو اس امر کو نظر انداز نہیں کرنا چا ہیئے ۔ کہ وفاق کی جانب سے صوبے کی بیوروکریسی سے رابطہ کر کے کیا پیغام دیا گیا تھا ۔ وفاق اور حکومت پنجاب کی جانب سے صوبائی حکومت پر سرکاری مشینری اور وسائل کو اسلام آباد کے گھیرائو کیلئے استعمال میں لانے کا الزام لگ سکتا ہے اس کے لئے استعما ل ہونے والی گاڑیاں اور مشینری کے استعمال کا ثبوت سامنے لایا جاسکتا ہے نیز وفاق اور حکومت پنجاب جوابی مقدمات کا اندراج کرسکتے ہیں ۔معاملات کی کشیدگی پر صوبے کے حوالے سے وفاق کے اختیارات کو بروئے کار لا نے کی دھمکی دی جا سکتی ہے اگر دیکھا جائے تو وفاق کے پاس صوبے کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقت اور مواقع ہیں ایسے میں آبیل مجھے مار کے اقدامات سے گریز کر کے احتجاج کے اثرات وثمرات کو ثابت کرنے اور ان سے پیدا شدہ مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے نہ کہ ایک اور ناکام تجربہ دہرا کر تو پھر مار کے دیکھ والا انداز اختیار کیا جائے ۔ اس بارے دوسری رائے نہیں کہ صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان ہم آہنگی اور بہترتعلقات ہی میں ملک وقوم اور صوبے کا مفاد ہے۔ سیاسی معاملات اپنی جگہ ان کو حکومتی عمل دخل کی حدتک نہ لایا جائے ۔ اگر صوبائی حکومت وفاق کو دبائو میں لانے کی ٹھان چکی ہے تو سی پیک اور صوبے کو بجلی کے خالص منافع کی عدم ادائیگی این ایف سی ایوارڈ ، اور اس جیسے دیگر معاملات موجود ہیں جس پر وفاق سے سیاست سے بالا تر ہو کر رابطہ کیا جائے اور صوبے کی دیگر سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر وفاق پر راست اور برحق طریقے سے دبائو ڈالا جائے ۔کیا صوبائی حکومت کا یہ فرض نہیں کہ وہ بجلی کے خالص منافع کی عدم ادائیگی پر وزیر اعظم سے سخت احتجاج کرے اور متعلقہ وزارت کے گھیرائو کی دھمکی دے ۔واپڈا کے وفاقی وزیر نے صوبے کی حکومتی وسیاسی قیادت سے پارلیمنٹ ہائو س کے باہر جو وعدے کئے تھے ان پر عملد ر آمد کی صورتحال کو عوام کے سامنے رکھ کر اس پر وفاقی حکومت سے احتجاج محولہ محاذ آرائی سے زیادہ موزوں مئو ثر اور عوامی ہوگا ۔

متعلقہ خبریں