احتساب کمیشن اپنے وجود کا احساس دلائے

احتساب کمیشن اپنے وجود کا احساس دلائے

خیبر پختونخوا آئی ٹی بورڈ میں اہم عہدوں پر میرٹ کو پامال کر تے ہوئے جس طرح تقرریاں کی گئی ہیں ، اس کا احتساب کمیشن کی طرف سے نوٹس لینا ہی اس امر کیلئے کافی ہے کہ تقرریوں میں مطلوبہ اہلیت ، تجر بہ اور میرٹ کی بجائے حکومت کے با اثر عناصر کی سفارش یا دبائو کو مقدم رکھا گیا ہے ۔ ہمارے نمائندے کی خصوصی خبر میں تفصیل کے ساتھ تقرریوں کی جو تفصیلات موجود ہیں وہ تحقیقاتی اداروں کیلئے کافی سے زیادہ شواہد اور ثبوت کا باعث بن سکتے ہیں ۔ہمارے تئیں احتساب کمیشن نے اب جبکہ اس کا نوٹس لے لیا ہے تو اس کی تحقیقات اور فیصلہ آنے کادورانیہ زیادہ طویل ہونے کا کوئی محل نہیں بلکہ جلدسے جلد ضروری تحقیقات کی تکمیل اور ریکارڈ کا جائزہ لیکر ایک مضبوط کیس تیار کرکے کم سے کم مدت میں کارروائی مکمل کرکے نا انصافی کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں صرف ناجائز تقرریوں کو منسوخ کرنا کافی نہ ہوگا بلکہ ان کا پورا پورا احتساب کیا جائے ۔اگر تقرریاں غیر قانونی اور خلاف میرٹ ثابت ہوجائیں تو پھر نہ صرف وصول شدہ تنخواہیں واپس لی جائیں بلکہ سرکاری ملازمت میں ہونے کے باوجود غیر قانونی ذرائع کے استعمال پر متعلقہ محکمہ بھی ان کے خلاف تا دیبی کارروائی پر غور کرے۔ علاوہ ازیں جن عناصر نے ان کی تقرری کیلئے سفارش کی ہو اور دبائو ڈال کر میرٹ کی پامالی کا مرتکب ہوئے ہوں ان کا چہرہ بھی بے نقاب کیا جائے۔ ہمارے تئیں اگر کسی ایک محکمے یا ادارے میں اس طرح کے احتساب کی مثا ل قائم کی جائے کہ کسی بد عنوانی اور قوائد وضوابط کی پامالی کے تمام کرداروں کو سزا ملے تو صوبے میں میرٹ کا بول بالا ہونے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہے گی ۔ دوسروں کے احتساب کے مطالبات اور تنقید سے آسان کام کوئی نہیں لیکن اصل بات تب ہوگی جب کوئی صوبہ یا محکمہ خود اس کی مثال قائم کرے ۔ اس معاملے میں صوبائی احتساب کمیشن مکمل طور پر غیر جانبداری سے تحقیقات کرے اور کسی مصلحت میں آئے بغیر فیصلہ صادر کرکے مثال قائم کرسکتاہے اور خود پر ہونے والی تنقید کو بڑی حد تک غلط ثابت کر سکتا ہے دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے میں روایتی مصلحت اور دبائو کی جیت ہوتی ہے یا کوئی مثال قائم ہوگی ۔
چترال پولیس کے خلاف اساتذہ کا احتجاج
چترال کے مختلف سرکاری سکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کا سکولوں کی سیکورٹی نظام کی خامیوں پر پولیس کی اساتذہ کو ہراساں کرنے اور گرفتار یوں کے خلاف مظاہر ہ قابل توجہ امر اس لئے ہے کہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ سیکورٹی آلات خرید سکیں اور دیگر سیکورٹی ضروریات پوری کرسکیں ۔مظاہر ہ کرنے والے اساتذہ کے اس موقف سے کہ ان کے بجائے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کے خلاف کارروائی کی جائے جن کے پاس فنڈز اور وسائل ہیں یاکم از کم محکمہ تعلیم کے ضلعی افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے جو وسائل کے حصول اور فراہمی کے ذمہ دار ہیں ۔ ہمارے تئیں چترال کایہ اقدام سیکورٹی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے دبائو ڈالنے کی بجائے ہراساں کرنے کا واقعہ ہے کیونکہ کسی پرائمری مڈ ل اور ہائی سکول کے کسی سربراہ یا مدرس ومنتظم کی اگر گرفتاری بھی کی جائے تو عدالت میں اس کی توجیہہ دینا مشکل ہوگا اور یہ لا حاصل اور بے سبب امر خواہ مخواہ بد اعتمادی اور نفرت کا باعث بنے گا ۔ چترال کے معاشرے میں اساتذہ کوجس قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس سے شاید پولیس کے ضلعی حکام واقف نہیں اساتذہ کو ہراساں کرنے پر عوام کا بھی پولیس سے متنفر ہونا فطری امر ہوگا جس کے عوام تو متحمل ہوں نہ ہوں صوبے کی مثالی پولیس اس کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔ آئی جی خیبر پختونخوا ناصر درانی کا چترال میں پولیس کا اسی غیر ضروری کارروائی کا نوٹس لینا چاہئے ۔صوبائی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ احکامات جاری کرنے کے بعد ان پر آنے والے اخراجات کیلئے وسائل کی فراہمی پر بھی توجہ دے صوبائی وزیر تعلیم کو سرکاری سکولوں کو حفاظتی اقدامات کیلئے فنڈز کے حصول وفراہمی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے ۔
ملزمہ سے ہمدردی قانون سے بیر
معصوم یتیم بچوں کی ماں شربت گلہ سے ہمدردی اوران کے علاج معالجہ کے حوالے سے مطالبات اپنی جگہ نہایت احسن ضرورہیں لیکن غیر قانونی شناختی کارڈ کے حصول پر ان کے خلاف قانونی کارروائی میں نرمی کا مطالبہ درست نہیں بلکہ عدالتی امور میں مداخلت اور اثر انداز ہونے کی سعی کے مترادف ہے ۔ شربت گلہ کی شہرت کے باعث اس کے جعلی شناختی کارڈ کا بھانڈا پھوٹ جانے سے نادرا کو کس قدر دھچکا لگا ہے اس کا اندازہ نادرا دفاتر میں آئے لوگوں کی طنز بھری باتوں سے ہی لگا یا جا سکتا ہے ۔ اس واقع میں ملوث نادرا کے ذمہ دار اہلکار وں کے خلاف جس قدرجلد اور سخت کارروائی ہوگی نادرا کی ساکھ کیلئے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں