نیشنل ایکشن پلان کا نفاذ  

نیشنل ایکشن پلان کا نفاذ  

22 مہینے پہلے ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے سرجوڑ کر نیشنل ایکشن پلان کے 20پوائنٹس ترتیب دئیے تھے لیکن آج بھی اس کے نفاذ کے بارے میں پورے ملک میں ایک بحث جاری ہے۔ نیشنل ایکشن پلان سے پہلے شدت پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے قومی سطح پر اتفاقِ رائے کی کمی تھی ۔ بہتر سول ملٹری تعلقات سے طے پائے جانے والے نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے شدت پسندی سے نمٹنے کے عمل کو سیاسی سرپرستی، شفافیت اور عوامی حمایت حاصل ہوئی تھی ۔ اس میںشک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ نیشنل ایکشن پلان نے نہ صرف انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو جلا بخشی ہے بلکہ اس کی تشکیل سے عوام کی توقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔نیشنل ایکشن پلان سے پہلے تما م صوبے اپنے اپنے طور پر دہشت گردی کے خلاف قوانین بناتے تھے اور ان کے نفاذ کے لئے کائونٹر ٹیررازم فورسز کی تربیت کرتے تھے لیکن نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ وفاق اور صوبے مل کر ایک جامع حکمتِ عملی کے ذریعے قانونی، انتظامی اور اصلاحاتی اقدامات کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔ نیشنل ایکشن پلان نے دہشت گردی جیسے اہم موضوع پر سول اور عسکری قیادت کو ایک صفحے پر لاکھڑا کردیا ہے ۔ ہر موثر پالیسی کے دو حصے ہوتے ہیں : پہلااس کی تشکیل جبکہ دوسرا اس کا نفاذ۔ دیگر منصوبو ں اور پلان کی طرح نیشنل ایکشن پلان بھی خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے فوراً بعد ترتیب دیا گیا تھا جس کی وجہ سے اس میں چند اہم نکات شامل نہیں کیے جاسکے تھے جن کی آج ہمیں کمی محسوس ہو رہی ہے۔ لیکن ایسا ہونا ناممکن ہے کہ کسی غیر جانبدارانہ تجزئیے کے بغیر اتنی اہم دستاویز کو پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہو۔ غیر جانبدارانہ تجزئیے کے ذریعے نیشنل ایکشن پلان کی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک خوبیوں کی بات کی جائے تو سول اور عسکری قیادت کے ، حکومت اور اپوزیشن ،کے ساتھ ساتھ عوامی حمایت بھی نیشنل ایکشن پلان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ عوام بھی نیشنل ایکشن پلان کے مکمل نفاذ کے حامی ہیں۔ جہاں تک خامیوں کی بات کی جائے تو اس کے نفاذ کی کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی گئی ۔ اس کے علاوہ ، نیشنل ایکشن پلان مانیٹرنگ کمیٹی کے ذریعے مانیٹرنگ کا نظام بھی رواں سال اگست میں شروع کیا گیا ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان کی کارکردگی کا جائزہ 'اعدادوشمار' کے ذریعے لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن اعدادوشمار سے زیادہ عوام کی طرف سے اطمینان کا اظہار کسی بھی پالیسی کی کامیابی کے لئے زیادہ ضرورری ہوتا ہے جس سے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔ اگرچہ صوبائی سطح پر نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے 'ایپکس کمیٹیاں' بنائی گئی ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈویژن اور ضلعوں کی سطح پر بھی ایسی کمیٹیاں بنائی جائیں کیونکہ زیادہ تر فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو ڈویژن یا ضلع کی سطح پر کئے جانا ضروری ہیں۔ان امور میں کمیونٹیز کو مقامی سطح پر شدت پسندوں کی جانب سے لاحق خطرات کے بارے میں معلومات فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ نیشنل ایکشن پلان وفاق اور صوبوں کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے خیبر پختونخوا، کوئٹہ اور کراچی کی پولیس کے دہشت گردی کے خلاف کام کرنے کے تجربے سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔ہمارے لئے یہ اچھا موقع ہے کہ ہم اپنے سیکورٹی اداروں کی ازسرِ نو تشکیل کریں اور انہیں وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔ اس کے علاوہ اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہمیں پولیس کے علاوہ فرنٹیئر کانسٹیبلری، سکائوٹس، ملیشیا اور خاصہ دار فوج جیسے اداروں کے کردارکا تعین بھی نئے سرے سے کرنا ہوگا۔ نیشنل ایکشن پلان کے پوائنٹ 20 میں کرمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔اگرچہ عدلیہ میں اصلاحات کے لئے پہلے بھی اصلاحاتی پالیسیاں بنائی جاتی تھی لیکن نیشنل ایکشن پلان سے پہلے اس حوالے سے کوئی جامع لائحہ عمل اختیار نہیں کیا گیا تھا۔ عدلیہ میں اصلاحات کے حوالے سے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں کچھ اقدامات کئے گئے ہیں لیکن ابھی بھی ہمارے کرمنل جسٹس سسٹم میں بہت سی خامیاں موجود ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان ہمیں اپنے انتظامی امور میں بہتری لانے کا بھی ایک اچھا موقع فراہم کرتا ہے ۔ اگر ہم پشاور سے کوہاٹ جائیں تو ہمیں ایف۔آر پشاور اور ایف۔آر کوہاٹ سے گزر کر جانا پڑتا ہے اور ان علاقوں میں کسی بھی دہشت گرد کارروائی کے نتیجے میں انتظامیہ کو بہت سی انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے یہ اچھا موقع ہے کہ ان انتظامی مسائل کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت حل کیا جائے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں ان وجوہات کو بھی تلاش کرنا ہوگا جو کسی نوجوان کو شدت پسند تنظیموںمیں شمولیت پر مائل کرتی ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں سری لنکا کی مثال سامنے رکھنی چاہیے جہاں پر2011ء میں ایک جامع رپورٹ کے ذریعے ان وجوہات کا جائزہ لیا گیا تھا جس کی بناء پر نوجوان باغی گروہوں میں شامل ہوتے ہیں۔ 9/11 کے بعد خیبر پختونخوا شدت پسندی اور دہشت گردی کے عفریت سے لڑ نے کے لئے اپنے سیکورٹی اداروں کی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے لیکن فاٹا اور مالاکنڈ سے ملحقہ علاقوں میں آپریشن کے لئے خیبر پختونخوا کو وفاق کی مدد لینی پڑتی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان میں شامل فاٹا میں اصلاحات اور افغان مہاجرین کی واپسی جیسے پوائنٹس پر عمل درآمدسے خیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے لڑنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ نفرت انگیز لٹریچر کی تیاری اور ترویج، لائوڈ سپیکر کے غلط استعمال اور مدارس میں اصلاحات کے لئے بھی نیشنل ایکشن پلان کی سفارشات پر عمل درآمد نہایت ضروری ہے۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں