کر دیا بے نقاب چہروں کو

کر دیا بے نقاب چہروں کو

اپنے 3نومبر کے کالم میں ، میں نے سی پیک کے مسئلے کی جانب خیبر پختونخوا کی جملہ سیاسی قیادت کی توجہ دلانے کی بات تو کی تھی مگر دوسرے معاملات درمیان میں آجانے اور کالم کی تنگ دامنی نے اتنی مہلت نہیں دی کہ اس موضو ع پر کچھ مزید گزارشات پیش کر سکوں ۔ جب سے اسحاق ڈار او رشہبا ز شریف نے بار بار چین کا دورہ کر کے اس منصوبے کا روٹ تبدیل کرنے کی کوششو ں میں کامیابی حاصل کر کے اسے اصل روٹ سے ہٹا کر صرف بقول بعض سیاسی رہنمائوں کے پاک چائنہ کی بجائے پنجاب چائنہ روٹ میں تبدیل کرادیا ہے ۔ محولہ دونوں رہنمائوں کے ان پے درپے دو روں کی جانب سب سے پہلے میں نے ہی توجہ دلانے کی کوشش کی مگر خیبر پختو نخوا کی سیاسی قیادت کو کوئی ہوش نہیں آیا بعد میں شور مچانے پر وزیر اعظم نے کل جماعتی کانفرنس کے اندر جووعدے کئے ان پر بھی آج تک عمل در آمد کی نوبت کے آثار دکھائی نہیں دیتے ۔اور گزشتہ روز اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے ایک بار پھر اس حوالے سے عمران خان کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عمران خا ن سی پیک پر دھرنا دیں گے تو ہم ان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے جبکہ عمران خان نے جواب آں غزل کے طور پر طنزیہ انداز میں کہا کہ اسفند یار سی پیک پر حکومت کیخلاف ہیں مگر عملی طور پر نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ خیر سیاسی رہنمائوں کے ایک دوسرے پر اعتراضات نہ نئے ہیں نہ ہی ان کے کچھ نتائج نکلنے ہیں ، جبکہ میں اس مسئلے کو ذرا اس کی گہرائی میں جا کر پرکھنے کی کوشش کروں گا ، مجھے یاد ہے کہ جب مشرف کے دور میں شیخ رشید وزیر ریلوے تھے تو ان کے بعض بیانات سامنے آئے تھے جن میں انہوں نے کہاتھاکہ گوادر سے چین تک ریلوے لائن کا منصوبہ بنانے پر کام (کاغذی تیاریاں ) شروع کر دیا گیا ہے اور یہ ریلوے لائن درہ خنجراب کے راستے چین تک بچھائی جائے گی ، اس کے بعد جب آصف زرداری کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو غالباً محولہ منصوبے کو وسعت دے کر اسے سی پیک منصوبے میں تبدیل کر دیا گیا ۔ مگر ابھی اسے عملی جامہ پہنا نے کی نوبت نہیں آئی تھی کہ (ن) لیگ اقتدار میں آگئی اور پھر اس منصوبے کے اصل روٹ کو جو چین کی طرح خیبرپختونخوا ، قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں سے گزرتا ہے ۔ اسے یک لخت اس منصوبے سے نکال کر اسے نسبتاً زیادہ طویل سنٹرل پنجاب سے گزار کر سندھ میں داخل کرتے ہوئے آگے حیدر آباد سے کراچی تک موٹروے جبکہ کراچی سے کوسٹل ہائی وے کے راستے گوادرتک پہنچا نے کا پروگرام بنایا گیا ۔ یوں نہ صرف خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے علاقوں ژوب ، قلعہ سیف اللہ ، کوئٹہ وغیرہ کو بھی اس منصوبے سے خارج کر دیا گیا اس بات کی تصدیق سینیٹ میں سی پیک کمیٹی کے سربراہ سینیٹر تاج حیدر بھی کر چکے ہیں کہ خیبر پختونخوا کا مغربی روٹ اس منصوبے کا حصہ ہی نہیں ہے نہ ہی اس پر کام ہوا ہے اور اب یہ روٹ گوادر کی بجائے کراچی پورٹ سے لنک ہوگا ۔ان حقائق کے پیش نظر جب بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے اس منصوبے میں حصہ دینے کی بات کی جاتی ہے تو ایک خاص طبقہ اس منصوبے کے خلاف بات کرنے کو ملک دشمنی سے تشبیہہ دے کر غداریوں کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا دھندہ شروع کر دیتا ہے 

اب آتے ہیں اس اہم نکتے کی جانب جس کا ذکر گزشتہ کالم میں بھی کرنا چاہتا تھا مگر موقع نہ مل سکا اور وہ یہ ہے کہ جس طرح اسحاق ڈار او رشہباز شریف کے چین کے پے درپے دوروں کے بارے میں خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت کو وقت پر پتہ نہیں چل سکا تھا اور ان دونوں رہنمائوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو اس منصوبے سے نکال باہر کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی حالانکہ بعد میں اس حوالے سے ان دونوں صوبوں کو با ر بارلالی پاپ دے کر بہلانے کی کوشش کی گئی اور اب محروم صوبوں کی سیاسی قیادت کو احساس ہو رہا ہے کہ کھلونے دے کے بہلا یا گیا ہوں توتقریباً ایک ڈیڑھ مہینے پہلے ایک انتہائی اہم خبر اخبارات کی زینت بنی تھی اور اگر چہ میں اس وقت ہی اس حوالے سے ایک با ر پھر اس مسئلے کی جانب توجہ دلانا چاہتا تھا مگر پھر دیگر موضوعات اور ملک میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال نے موقع ہی نہیںدیا ۔ مگر اب اچانک یکم نومبر کے ایک قومی اخبار میں آخری صفحے پر ایک ایسا اشتہار سامنے آیا ہے جس نے مجھے ایک بار پھر اسی موضوع کی جانب متوجہ کرلیا ہے جس پر لکھنا چاہتا تھا مگر بوجوہ نہ لکھ سکا ۔ لگ بھگ سوا یا ڈیڑھ ماہ پہلے حکومت نے چینی زبان سیکھنے کیلئے تقریباً بیس پچیس طلبہ اور طالبات کو چین روانہ کیا ، اور اب جو اشتہار شائع ہوا ہے اس میں لاہور ، راولپنڈی ، سیالکوٹ ، فیصل آباد اور ملتان کے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کو چینی زبان سیکھنے کیلئے ان شہروں کے بعض اداروں میں داخلے لینے کی پیش کش کی گئی ہے تاکہ سی پیک سے پیدا ہونے والے یقینی روز گار سے وابستگی کے ذریعے روشن مستقبل کے مالک بن سکیں ، کیاخیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت وفاقی حکومت کے متعلقہ لوگوں سے یہ پوچھنے کی جسارت کرے گی کہ اگر اس منصوبے میں خیبر پختونخواشامل ہے تو جن لوگوں کو چینی زبان سیکھنے کیلئے ڈیڑھ ماہ پہلے چین بھیجا گیا ہے ان میں ہمارے صوبے کے کتنے افراد شامل ہیں ؟
کردیا ہے نقاب چہروں کو
آئینہ کتنا برگزیدہ ہے

متعلقہ خبریں