مودی کی خفیہ ملاقات

مودی کی خفیہ ملاقات

دنیا کی سیاست میں جہاں عظیم ترین لیڈر گزرے ہیں وہیں کچھ ایسے لیڈر بھی گزرے ہیں جو لیڈر کی اصل تعریف پر بھی پورا نہیں اترتے ۔ آج کل تو سیاست کے حالات کچھ زیادہ ہی خراب لگتے ہیں ۔لگتا ہے کہ دنیائے سیاست میں کچھ زیادہ ہی مندہ چل رہا ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ ہی کو لے لیجئے کہ جو کسی طور بھی لیڈر نہیں لگتا لیکن وہ اس وقت صدارت کی دوڑ میں شامل ہے ۔امریکہ کو دنیا کی واحد سپر طاقت بنانے میں اس قوم کا کردار تومسلمہ ہے لیکن قوم کو قوم بنانے میں اس کے لیڈروں کا کردار کیسے بھلایا جاسکتا ہے ۔جارج واشنگٹن سے لے کر باراک حسین اوباما تک 43 امریکی صدور میں بے تحاشہ خصوصیات دیکھی جاسکتی ہیں ۔لیکن ڈونلڈ ٹرمپ جس کے بارے میں امریکی عوام خود کنفیوزہیں کہ وہ صدر بن گیا تو کیا ہوگالیکن جب وہ اس مقام تک پہنچ ہی گیا ہے تو اس میں امریکی عوام کی بہرحال ایک تعداد تو ہے کہ جو اسے صدر کے استھان پر بیٹھا دیکھنا چاہتی ہے ۔ اگر وہ یہ الیکشن جیت جاتا ہے تو یقینا یہ امریکہ کا برا چاہنے والوں کے لیے ایک نوید ہوگاکیونکہ امریکہ ایک ایسا ملک ہے کہ جسے اگر کوئی ہتھیار تباہ کرسکتا ہے تو وہ تعصب ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ جو خود مجسم تعصب ہے اس کی آمد کے بعد یونائیٹڈ سٹیٹ آف امریکہ کس صورت یونائٹ رہ پائے گا یقینا امریکہ کے تھنک ٹینک اس بارے میں ضرور سوچ رہے ہوں گے۔ امریکہ باہر کی دنیا کے حوالے بہت سے تعصبات رکھتا ہوگا لیکن کبھی بھی ملک کے اندر کسی قسم کے تعصب کا سوچنا بھی محا ل ہے ۔لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ ٹرمپ کی نامزدگی دراصل امریکی عوام میں مخصوص تعصبات کی پیدائش کی نوید ضرور ہے ۔ ایسا ہی کچھ انڈیا کے حوالے سے بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔ جہاں آزادی سے قبل سیکولر ازم کا ترانہ گایا جاتا رہا ہے گو کہ وہاں کبھی بھی سیکولرازم کا احترام نہیں کیا گیا اور انڈیا ہر حال میں ایک ہندو سٹیٹ ہی تھی اور اب تو ہر حوالے سے اس پر ہندوتعصبات کے خدوخال اپنے تمام شوخ رنگوں کے ساتھ گہرے ہورہے ہیں ۔امریکہ کو ٹرمپ کی کامیابی کی صورت میں سماجی طور پر جس بحران کا اندیشہ ہے اس کی وجہ قوموں کے عروج زوال کے عمرانی اصولوں کے تحت ثابت تو کیا جاسکتا ہے لیکن بھارت تو ابھی اپنی معیشت کی ترقی کے بہت سے زینے چڑھنے والا ہے ایسے میں ایک متعصب لیڈر قوم کو کہاں لے کر جائے گا اس کا جواب اس کے حالات کو دیکھ کر ضرور لگایا جاسکتا ہے۔دنیا یقینی طور پر میڈیا کے دور میں سانس لے رہی ہے ۔ میڈیا ہی بہت سے رجحانات ساخت کررہا ہے ۔ خود پاکستان کو دیکھ لیجئے کہ یہاں ہر چینل اندرونی سطح پرکسی مخصوص سیاسی جماعت کا ترجمان دکھائی دیتا ہے ۔لیکن بیرونی سطح پر یہاں کا میڈیا بھی بہت سے رجحانات ساخت کررہا ہے ۔لیکن ہمارے میڈیا میں بھارتی میڈیا سے کم تعصبات دکھائی دیتے ہیں ۔ سوشل میڈیا کی بدولت انڈین میڈیا کے بیرونی ٹرینڈ ز کو دیکھا جائے تو ان میں ہمیں ایک مخصوص تعصباتی رجحان دیکھنے کو ملتا ہے ۔ جو ایک سستی قسم کی جذباتیت پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے ۔ قومیت اور قومیت پرستی کسی بھی ملک کی بقاء اور ترقی کے لیے بہت اہم ہوتی ہے لیکن اس میں دلیل بڑی اہم ہے اور یہ دلیل کسی بھی ملک کے اس بنیادی سیاسی نظریے سے پھوٹتی ہے ۔ جیسے پاکستان کا بنیادی سیاسی نظریہ کلمہ طیبہ پر مبنی ہے اسی طرح بھارت کا بنیادی سیاسی نظریہ سیکولر ازم ہے ۔ جبکہ وہاں کا الیکٹرانک میڈیا اس سے انحراف کامرتکب ہورہا ہے ۔ وہاں گزشتہ حالات میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان دشمنی کو مسلمان اور اسلام دشمنی کے تناظر میں دیکھا اور سمجھا جارہا ہے ۔ مسلمان کوئی ایسی بات نہیں کرسکتا جس پر اسے ہندوستانی ہونے کا سرٹیفیکیٹ کھودینے کا خدشہ ہو۔ جس ملک میں مسلمان کو گائے کے کاٹنے یا اس کا گوشت کھانے کے شبے میں ہلاک کردیا جائے ،جہاں مسلمانوں سے زبردستی جے ہند کا نعرہ لگوایا جائے اور جو نہ لگائے اسے پاکستان چلے جانے کا مشورہ دیاجائے تو یہ بھلا کہاں کا سیکولر ازم ہوسکتاہے ۔ اسے ہندوستان کی بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے کہ اس کی عین اٹھان کے وقت اسے تعصب اور نفرت کا کینسر لاحق ہوگیا ہے ۔ یوں تو بھارت اپنے ملک میںہونے والی ہر بری بات کا الزام پاکستان کی خفیہ ایجنسی پر لگا تا ہے لیکن مجھے حیرت ہے کہ اب تک مودی کو منصب اقتدار پر پہنچانے کا الزام ہماری ایجنسی پر کیوں نہیں لگا کیونکہ ہندوستان کو پاکستان کے ایٹم بم سے اتنا خطرہ نہیں جتنا خطرہ اس کے اپنے وزیر اعظم اور اس کی سوچ سے ہوسکتا ہے ۔اوپر سے ہندوستان کے چینل اس شخص کو ایک قومی ہیرو اور آئیکون کی صورت بناکر پیش کررہے ہیں ۔ کبھی اس کے سونے کی تاروں والے لباس کی دھوم ہوتی ہے تو کبھی راکھی ساونت سے اس کی ملاقات کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے ۔ اب ایک دوسرے درجے کی فلمسٹا ر نے مودی سے ملاقات کرلی تو اس ملاقات کو خفیہ ملاقات کا رنگ دینا کیا معنی رکھتا ہے ۔ خفیہ کا لفظ مجھے تو یہ تاثر دیتا ہے کہ جیسے مودی نے راکھی ساونت سے ''خفیہ ''ملاقات سرجیکل سٹرائیک میں ہراول دستے بننے کے سلسلے میں کی ہوگی ۔ کیونکہ دوسری کوئی وجہ مجھے نہیں دکھائی دیتی ۔ راکھی ساونت نے جیسی منہ پھٹ اداکارہ سے خفیہ ملاقات کسی بھی شریف وزیراعظم کے لیے نقص امن ہی ہوسکتی ہے ۔ اور ہندوستان میںخوبصورت اداکاراؤ ںکا کون سا ایسا قحط پڑ گیا ہے کہ مودی کو راکھی ساونت سے خفیہ ملاقات کی اشد ضرورت محسوس ہوئی ہو۔ اور اگر یہ وجہ ہے کہ راکھی مودی کی فیورٹ اداکارہ ہو تو مجھے مودی پر ترس ہی آئے گا کہ اس کا ٹیسٹ اتنابھونڈا ہوسکتا ہے ۔لیکن اس میں بعید بھی کیا ہے کہ اقوام عالم میں ایک سیکولر ملک کو ہندوسٹیٹ میں بدل سکنے والے کا کسی اداکارہ کی پسندیدگی کا معیار بھلا کیسے پرفیکٹ ہوسکتا ہے ۔

متعلقہ خبریں