سیا ست اور قیادت، تقاضے اور مطالبے

سیا ست اور قیادت، تقاضے اور مطالبے

پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ملکوں میں شمار ہوتا ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کی بارش کی ہے ۔ نعمتوں کا شمار کرنا نہ آسان ہے اور نہ کرناچا ہیئے بلکہ مطلوب یہ ہے کہ ہر نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا لازمی ہوتا ہے ورنہ پھر نعمتیں چھیننے کا غم لا حق ہوسکتا ہے ۔ ہم پاکستانیوں پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمیں پاکستان جیسا نعمتوں سے مالامال ملک اس حال میں عطا کیا کہ بادی النظر میں اس کے ملنے کے امکانات بہت کم تھے ۔ پاکستان کا خواب دیکھنے والا اور مسلم امت کو بیداری کا سبق دینے والا مصور ومجدد علا مہ اقبال تحریک پاکستان کے جوبن پر آنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوئے اور قائد اعظم تب دق کا مریض ہونے کے بعد چُو مکھی لڑائی لڑتے ہوئے قیام پاکستان کے لیئے بے نظیر قیادت پیش کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے ، لیکن انڈین نیشنل کانگریس کے منتخب اور چالاک رہنمائوں جن کو انگیریز کی آشیر باد حاصل تھی اور اس پر مستزاد خو د مسلمانوں کے اندر ایسے طبقات جو قیام پاکستان کے مخالف تھے ان حالات میں پاکستان کا وجود میں آنا اور اتنے بڑے وسیع رقبے پر محیط ہونا اور بیش بہا نعمتوں سے پر ہونا یقینا اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے ۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہم نے بحیثیت قوم ان نعمتوں کی قدر دانی نہیں کی بلکہ نا شکری کی آخری حدود تک پہنچ گئے ۔ اس ناشکری کی بڑی سزا ہمیں مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی صورت میں ملی ۔ چا یئے تو یہ تھا کہ اس عظیم سانحہ کے بعد بحیثیت قوم تو بہ استغفار کرتے اور باقی ماندہ پاکستان کا خیال ایسے رکھتے جیسے اپنے ذاتی گھر کا خیال رکھتے ہیں اور اس کی ایک ایک چیز کو بہت سنبھال کر استعمال کرتے اور رکھتے ہیں ۔ 1971ء کے سانحہ کے بعد یہاں سیاست کی جوروش چلی ، اُس کی سب سے بڑی پہچان آج کرپشن بنی ہے ۔ ملک میں مارشل لاء اور جمہوریت کی آنکھ مچولی نے قوم کو اتنی مصیبتوں میں مبتلا کیا ہے کہ آج ان کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ جمہوریت اچھی ہے یا امریت ! کہنے کی حد تک بھلے ہم کہتے رہیں کہ بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے اچھی ہوتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیزمیں جب عوام جمہوری نظام کے تحت کسی سیا سی پارٹی کی حکومت کا مزہ چکھنے لگتے ہیں ۔ تو دو تین چار سال کے اندر ہی اندر مارشل لا ء کی دعائیں مانگنے لگتے ہیں ، ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ ۔ یہ سوال بہت قابل غور بھی ہے اور جمہوریت و سیاست کے ساتھ اس کا بہت گہرا تعلق بھی ہے ۔ سیاست کا مطلب ومفہوم اور مقصد جتنا پاک ، ارفع اور مقدس ہے ۔ اُس کا آئوٹ پٹ صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ سیاست عوام الناس کی خدمت سے تعبیر ہے ۔ اس لئے سیاست عبادت کے مترادف ہے ۔ سیاست دان قوم کا مسیحا ہوتا ہے ، وہ ان کے دکھ درد کا مداوا کرتا ہے ۔ وہ آفات ومصائب اور آلام سے قوم کی حفاظت کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ قوم کی طرف تکلیف و مصیبت کا جو بھی تیر جہاں کہیں سے آتا ہے ، قوم کا زعیم و رہنمااُس کو قیادت کرتے ہوئے اپنے سینے اور بازو پہ روکتا ہے ۔ تب قوم ایسے رہنماکو سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے ۔ہماری بد قسمتی ملا حظہ کیجئے کہ ہم نے سیاست کو تجارت اقربا پروی ، شان و شوکت کے حصول اور رعب و دبدبہ قائم کرنے کے مترادف بنا دیا ہے ۔ معاف کرنا ، اکثر و بیشتر سیاسی جماعتیںاقتدار میں آکر اپنی سیاسی پارٹی اور اس کے ارکان کے مفادات کی حفاظت اور ہر جائز و ناجائز طریقوں سے اُ ن کو نوازنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے بھی کروڑوں اربوں روپے چھوڑنے او ر اُن کو اقتدار میں لانے کیلئے راہیں ہموار کرتی ہیں ، الا ما شا ء اللہ ۔ ہماری وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں عام طور پر آج تک صوبوں اور وفاق میں اعلیٰ منا صب اور عہدوں پر ایسے لوگوں کو تعینات کرنے کے لئے کوشاں رہتی ہیں ، جو اُن کے جائز و ناجائز کام کرنے کے لئے ہر وقت تیار و مستعد رہتے ہیں۔ اسی کا نتیجہ سارے شعبوں میں ملک وقوم کے لئے زہر ہلاہل کی صورت میں ہوتا ہے لیکن تعلیمی اداروں میں تو اس کے ذریعے نسلوں کی تباہی کی بنیادیں رکھ دی جاتی ہیں ۔ 

ہمارے تعلیمی اداروں میں ان اسباب کی بناء پر تعلیم کا معیار اس قدر گر گیا ہے کہ بی اے اور ایم اے پاس طلبہ (الا ماشاء اللہ ) میں پاکستان کی قومی زبان اردویا بین الاقوامی زبان انگریزی میں کسی آسامی کے لئے ڈھنگ کی درخواست کی صلاحیت و اہلیت شاز ونا در ہی ہو سکتی ہے ۔ ہمارے یہی نوجوان پاکستان کے مختلف محکموں اور شعبوں میں جب سیاسی جماعتیں اور متعدد طبقات کی مہربانیوں سے نواز لئے جاتے ہیں تو تیس چالیس سال تک ملک و قوم کا بیڑا اپنی بساط کے مطابق ڈبونے اور غرق کرنے میں نادانستہ کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔ یوں وہ ملک جو مسلمانان ہند نے اس خواہش و آرزوئوں کی تکمیل کے لئے حاصل کیا تھا کہ یہ ملک ایسی ریاست ہوگی جہاں انسان انسانیت کی قدر دانی ہوگی لیکن یہاں تو آج بھی عوام کے نزدیک سب سے بڑی نعمت روٹی کا حصول ہے ۔ دال روٹی ، کا محاورہ اب متروک ہوتا جارہا ہے کیونکہ دال ماش 260روپے کلو ہے ۔ اس لئے اب روٹی مرغی ، کا محاورہ ہونا چا ہیے ۔ یہی ہمارے وزیر خزانہ کا بھی مطالبہ ہے کہ لوگ (عوام)دال کے بجائے مرغی کیوں نہیں کھاتے کہ مرغی 160روپے کلوہے لیکن یہ دال روٹی بلکہ روٹی کا سوال اُ ن لوگوں سے پوچھیں جو اس کے حصول کے لئے بقول شاعر
دیوانہ آدمی کو بناتی ہے روٹیاں
خود ناچتی ہیں سب کو نچاتی ہیں روٹیاں

متعلقہ خبریں