کس کی جیت کس کی ہار؟

کس کی جیت کس کی ہار؟

دو نومبر کے دھرنے سے ٹھیک ایک دن قبل تحریک انصاف کی طرف سے لیے جانے والے یوٹرن کے بعد یہ سوال بڑی شدت کے ساتھ اُٹھایا جارہا ہے کہ تحریک انصاف اپنا مقدمہ لڑنے میں کامیاب ہوئی یا ناکام؟ عمران خان کے ناقدین کہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے اس یوٹرن سے ان کی سیاست کمزور ہوئی ہے' ان کے ورکرز مایوس ہوئے ہیں اور اس یوٹرن کے مستقبل میں اثرات کچھ اس طرح مرتب ہوں گے کہ تحریک انصاف مزید دفاعی پوزیشن میں چلی جائے گی۔ جب کہ عمران خان کے حامی یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے اس موقع پر ثابت قدمی دکھا کر اور حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اصل اپوزیشن لیڈرعمران خان ہی ہیں جو حکومت کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ دو نومبر کو تحریک انصاف نے ''یوم تشکر'' کا نام دیا اور پریڈ گراؤنڈ میں لاکھوں لوگوں کی شرکت کا دعویٰ کیا ' جسے حکومت نے دس ہزار کہا۔گو پریڈگراؤنڈ میں لاکھوں لوگ نہ تھے لیکن اس قدر بھی کم نہ تھے کہ جتنے حکومتی ذرائع کہتے رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر قابلِ غور امر یہ تھا کہ تحریک انصاف کے ورکروں نے کم بیک کیا اور پریڈ گراؤنڈ کو پارٹی ورکروں سے بھر کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہیں۔ تحریک انصاف کے اچانک یوٹرن سے بہت سے لوگوں کو سبکی بھی ہوئی۔ شاید یہ وہ لوگ تھے جو ملک میںہنگامہ آرائی ' توڑ پھوڑ اور انسانی جانوں کے ضیاع کی توقع باندھے بیٹھے تھے۔ جب اس عنصر نے دیکھا کہ عمران خان سپریم کورٹ کے جوڈیشل کمیشن پر رضامند ہیں اور قومی اداروں کے ذریعے ہی انصاف چاہتے ہیں تو اس عنصر نے میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے عمران خان اور اس کے ورکرز کو اشتعال دلانے کی پوری کوشش کی۔ لیکن تحریک انصاف اور اس کے قائدین نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا اور تصادم سے بچ گئے۔ ایک لمحہ کے لیے ذرا سوچیں کہ اگر معاملات اسی رخ چلتے رہتے جس کا تحریک انصاف نے اعلان کیا تھا' بنی گالا میں کارکنان آ رہے تھے' خیبر پختونخوا سے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی قیادت میں لوگ آ رہے تھے اور وفاقی حکومت کی طرف سے نہ صرف یہ کہ دھرنے میں آنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں بلکہ وفاقی اور پنجاب پولیس کے ساتھ فرنٹیئر کور کو بھی تعینات کیا گیاتھا۔پولیس کی جانب سے تحریک انصاف کے کارکنان پر اندھا دھند لاٹھی چارج اور شیلنگ میڈیا پر پورے پاکستان نے دیکھی۔ جب کہ کارکنان کی جانب سے بھی پولیس پر پتھراؤ کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی گئی۔ اگر یہی سلسلہ چند گھنٹوں تک مزید برقرار رہتا تو بعید نہیں تھا کہ انسانی جانوں کا ضیاع ہو جاتا۔ اس نقصان کے بعد تحریک انصاف حکومت پر ملبہ ڈالنے کی کوشش کرتی اور حکومت تحریک انصاف کو نقصان کا ذمہ دار ٹھہراتی۔ مطلب یہ کہ اگر مصالحت نہ ہوتی تو نقصان ہی نقصان ہوتا، اب جب کہ پانامہ لیکس کا معاملہ سپریم کورٹ میں چلا گیا ہے تو اسے کسی کی شکست اور فتح سے تعبیر کرنے کی بجائے اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ملک و قوم نقصان سے بچ گئے ۔ رہی یہ بات کہ کس کی فتح اور کس کی شکست تو ہمارے لیے ملک اہم ہونا چاہیے نہ کہ شخصیات۔ جہاں تک تعلق ہے عمران خان کی سیاست کا، تو عمران خان کے اس اقدام کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے، کرپشن کے خلاف بھرپور آواز اٹھانے والا عمران خان پہلالیڈر تصور کیا جائے گا۔ گو عمران نے ظاہری طور پر یوٹرن لیا ہے لیکن کرپشن کی جو آواز صرف تحریک انصاف تک محدود تھی اب ہر پاکستانی اسے اپنی آواز سمجھے گا کیونکہ عمران خان نے حکومت کے ساتھ سینگ پھنسانے کے بجائے قومی اداروں سے رجوع کر کے انہیں مضبوط کیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ تحریک انصاف کوئی عسکری ونگ نہیں رکھتی ' وہ ایک سیاسی جماعت ہے جو جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ تحریک انصاف نے کچھ حاصل کیے بغیر حکومت سے مصالحت کیوں کی ہے یہ تاثر تصادم اور ٹکراؤ کو ہوا دیتا ہے۔ اس سارے منظرنامے کا بنظر عمیق جائزہ لیا جائے تو مجھ جیسا صحافت کا ادنیٰ طالب علم بھی یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ ہم درست سمت کی جانب گامزن ہیں کیونکہ دھرنا کی صورت میں تیسری قوت کی مداخلت جیسی طرح طرح کی پیش گوئیاں کی جارہی تھیں اور خدشہ ہو چلا تھا کہ کہیں ایک بار پھر سسٹم ڈی ریل نہ ہو جائے۔ ملک میں جمہوری تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے ارباب دانش یہ سمجھتے ہیں کہ اکثر مسائل اسی وجہ سے جنم لیتے ہیں اور یہ سوچ بلاوجہ نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارے پڑوس میں دو ممالک کی مثالیں ایسی ہیں جو ہمارے ساتھ آزاد ہوئے یا ہمارے بعد لیکن آج ان کا نام ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ بھارت ہمارے ساتھ آزاد ہوا جب کہ چین ہمارے بعد لیکن معاشی طور پر دونوں ہی ہم سے آگے ہیں۔ ہم نے بحران کے باوجود زرداری حکومت کو سپورٹ کیا، نواز شریف کی حمایت کی اور آج اگر عمران خان کی بھرپور سپورٹ کر رہے ہیں تو اس کی بنادی وجہ شخصیات نہیں بلکہ جمہوری عمل کا تسلسل درکار ہے۔ 

متعلقہ خبریں