مشرقیات

مشرقیات

حضرت امام اصمعی کا واقعہ ہے کہ ایک سفر میں انہوں نے قرآن کریم کی ایک آیت کسی بدو (عرب دیہاتی ) کے سامنے پڑھی ۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ '' تمہار ارزق اور جو کچھ تم سے وعدہ کیا گیا ہے ، وہ آسمان میں ہے ۔'' بد و نے کہا کہ پھر پڑھو۔ انہوں نے پھر پڑھ دیا ۔ بد و کہنے لگا کہ حق تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ رزق آسمان میں ہے اور ہم لوگ رزق کو زمین میں ڈھونڈ تے ہیں ۔اس کے پاس ایک ہی اونٹ تھا ، جس سے گزراوقات کرتا تھا ، اسی وقت گو خیرات کر دیا اور جنگل کی طرف نکل گیا ۔ کئی برس بعد اس شخص کو امام ا صمعی نے خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا ۔ اس نے خود ان کو سلام کیا ۔ انہوں نے پہچانا نہیں ۔ پوچھا تو اس نے کہا میں وہی شخص ہوں ، جس کوآپ نے یہ آیت سنائی تھی ۔ حق تعالیٰ آپ کا بھلا کرے ، مجھے تمام بکھیڑوں سے نجات دیدی ۔ میں جب سے بڑے اطمینان کی زندگی بر کر رہا ہوں ، پھر اس نے پوچھا اس آیت کے بعد کچھ اور بھی ہے ؟
امام اصمعی نے اس کے بعد کی آیت پڑھ دی ۔جس کا مفہوم یہ ہے کہ '' قسم ہے آسمان اور زمین کے رب کی ، یہ قرآن بالکل برحق ہے ۔'' سن کر ایک چیخ ماری کہ یہ میرے اللہ کو کس نے جھٹلا یا تھا کہ اس کو قسم کھا کر جتلا نا پڑا کہ میری بات سچی ہے ، ایسا کون ظالم ہوگا جو اللہ کو سچا نہ سمجھتا ہوگا ، اللہ نے جو قسم کھائی تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کے کہنے کو بھی بلا قسم کے سچانہیں سمجھتا ، بس یہ کہہ کر ایک چیخ ماری اور چیخ کیساتھ وہیں جان نکل گئی ۔عشق الٰہی سے سرشار اس بدو نے اپنی جان دے دی ۔
( حسن العزیز)
حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے دل میں شیطا ن کو دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی ۔ ایک روز مسجد کے باہر کے دروازے پر کھڑا تھا کہ دور سے ایک بوڑھا آتا ہوا نظر پڑا ۔ جب میں نے اس کی صورت دیکھی تو مجھ پر شدید نفرت کا غلبہ ہوا ، جب وہ میرے قریب آیا تو میں نے کہا اے بوڑھے تو کون ہے ؟ کہ تیری مہیب شکل کو میری آنکھیں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتیں اور تیری موجودگی سے میرے دل کو سخت وحشت ہو رہی ہے ؟
اس نے کہا :میں وہی ابلیس ہوں ، جس کے دیکھنے کو تم نے تمنا کی تھی ۔
میں نے کہا : او ملعون ! حضرت آدم علیہ سلام کو سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے باز رکھا ؟
شیطان نے کہا: اے جنید تمہار ا خیال ہے کیا میں غیر خدا کو سجدہ کر لیتا ؟ حضرت جنید فرماتے ہیں کہ ابلیس کی یہ بات سن کر میں ہکا بکا اور ششدررہ گیا اور مجھ سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ اتنے میں غیب سے ندا آئی : '' اے جنید اس ملعون سے کہو تو جھوٹا ہے ! اگر تو فرمانبر دار ہوتا تو اللہ کے حکم سے کیوں انکار کرتا ''شیطان نے میرے دل کے اندر سے یہ آواز سنی تو وہ چیخا اور کہنے لگا خدا کی قسم تم نے تو مجھے جلا دیا ۔ پھر اچانک وہ غائب ہوگیا ۔ ( کشف المحجو ب از حضرت علی ہجویری )

متعلقہ خبریں