شربت گلہ کی ملک بدری روکنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف متحرک

شربت گلہ کی ملک بدری روکنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف متحرک

افغان جنگ کے دوران نیشنل جیو گرافک کے سرورق پر تصویر کی اشاعت سے مقبولیت حاصل کرنے والی خاتون شربت گلہ کی وطن واپسی کے عمل کو روکنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے قائدین متحرک ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ شربت گلہ کو گذشتہ روز 15 روز قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے کہا ہے کہ افغان خاتون شربت گلہ کو ڈیپورٹ یا ملک بدر نہ کیا جائے اور اس کے لیے وہ تمام قانونی کوششیں کریں۔

عمران خان نے گذشتہ روز شربت گلہ کو قید اور جرمانے کی سزا سنائے جانے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے رابطہ کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ وہ شربت گلہ کی ملک بدری کو روکیں۔

مشتاق غنی نے کہا کہ شربت گلہ بیمار ہیں اور انھیں یہاں علاج کی ضرورت ہے۔

اس سے پہلے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی شربت گلہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے مقدمے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سنا جائے۔

شربت گلہ کو گذشتہ روز پشاور میں خصوصی عدالت کی جج نے 15 روز قید اور ایک لاکھ دس ہزار روپے جرمانے کی سزا اور سزا کے بعد ملک بدر کرنے کا حکم سنایا گیا تھا۔

افغان خاتون شربت گلہ کی رہائی کے لیے افغان سفارتخانے کی جانب سے بھی کوششیں کی گئی ہیں۔

مبشر نذر ایڈووکیٹ کے مطابق شربت گلہ اب 12 روز قید گزار چکی ہیں اور صرف تین دن باقی ہیں جبکہ ان کے جرمانے کی رقم جمع کرائی جا چکی ہے۔

واضح رہے کہ شربت گلہ کو پاکستان کا جعلی شناختی کارڈ رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جعلی شناختی کارڈ بنانے کے جرم میں وفاقی ادارے نادرا کے دو افسران کو پہلے سے گرفتار کیا جا چکا ہے۔

شربت گلہ نے 1980 کی دہائی میں نیشنل جیوگرافک میگزین کے سرورق پر اپنی تصویر کی اشاعت کے بعد عالمی شہرت پائی تھی۔

افغان سفارتخانے کے حکام کے مطابق اس تصویر سے شہرت پانے والی شربت گلہ اب عالمی سطح پر افغانستان کی شناخت بن چکی ہیں۔

شربت گلہ کو 26 اکتوبر کو پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے حراست میں لیا تھا جس کے بعد عدالت نے شربت گلہ کو جیل بھیج دیا تھا۔

متعلقہ خبریں