ترکی میں جمہوریت اخبار کے نو صحافی زیرِ حراست

ترکی میں جمہوریت اخبار کے نو صحافی زیرِ حراست

ترکی میں حزب مخالف کے حامی اخبارجمہوریتکے نو صحافیوں کو گرفتار کر کے انہیں ریمانڈ پر حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اخبار کے ایڈیٹر اور مشہور کارٹونسٹ اور حکومت مخالف کالم نگار ان گرفتار صحافیوں میں شامل ہیں۔

ترک صدر رجب طیب اردوغان کے خلاف تنقید کرنے والوں کے خلاف کارروائی میں یہ گرفتاریاں تازہ ترین اقدام ہے۔

جمعے کو کرد نواز جماعت ایچ ڈی پر پارٹی کے رہنماؤں سمیت نو سیاستدانوں کو بھی جیل بھیجا گیا۔

ان کے علاوہ ایچ ڈی پی کے مزید نو اہلکاروں کو سنیچر کو حراست میں لیا گیا۔

جمہوریت اخبار ترکی کے ان چند میڈیا اداروں میں سے ہے جو اب تک صدر اردوغان پر تنقید کرتےہیں۔

اس کے صحافیوں پر امریکہ میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن سے رابطوں کا الزام ہے۔ گولن پر الزام ہے کہ انھوں نے جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کی تھی۔

اس بغاوت کی ناکامی کے بعد سے اب تک ایک لاکھ دس ہزار افراد کو برطرف کیا جا چکا ہے جبکہ 37 ہزار افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔

جمہوریت کے صحافیوں کو مقدمات چلنے تک زیرِ حراست رکھا جا ئے گا۔ تاحال کسی بھی مقدمے کی سماعت کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔

جمہوریت اخبار کو چار دیگر اخبارات کے ہمراہ ’آلٹرنیٹو نوبل پرائز‘ سے نوازا گیا۔

یہ ایوارڈ ایسے اداروں کو دیا گیا جنہوں نے آزادی اظہار کے لیے سنسرشپ، قید کے امکان اور دھمکیوں کے باوجود بے خوف اور تحقیقاتی صحافت کی۔

اسے گذشتہ برس رپورٹرز ود آؤٹ باڈرز کی جانب سے بھی فریڈم آف پرس کا اعزاز دیا گیا۔

متعلقہ خبریں