سعودی عرب میں کرپشن کےخلاف اقدامات، وزراء اور 11 شہزادے گرفتار

سعودی عرب میں کرپشن کےخلاف اقدامات، وزراء اور 11 شہزادے گرفتار

ویب ڈیسک:سعودی عرب میں کرپشن  اور منی لانڈرنگ کے خلاف شاہ سلمان کے اقدامات، کرپشن کے الزام میں موجودہ اور سابق وزراء اور 11 شہزادےگرفتار۔

سابق وزراء اور شہزادوں کو سعودی شاہ کی جانب سے بنائی گئی اینٹی کرپشن کمیٹی نے گرفتار کیا۔

تفصیلات کے مطابق اینٹی کرپشن کمیٹی کے سربراہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہیں، کمیٹی نے کرپشن کےالزام میں 38 موجودہ اور سابق وزراء کو گرفتار کیا۔

 گرفتار سعودی شہزادوں میں الولیدبن طلال بھی شامل ہیں، جنہوں نے دنیا کے نامور ترین مالیاتی اداروں میں سرمایہ کاری کررکھی ہے۔

شہزادہ الولید بن طلال، شاہ سلمان کے سوتیلے بھتیجے ہیں جن کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔

ولید بن طلال سفر کے لئے پچاس ارب روپے کا ذاتی طیارہ استعمال کرتے ہیں اور ان کے تین ذاتی محل ہیں جن میں سے ایک محل میں تین سو سترہ کمرے اور اعلی معیار کا پندرہ ہزار ٹن اطالوی سنگ مرمر استعمال کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے سعودی شاہ سلمان نے متعدد اہم فیصلے کیے اور کرپشن کےخلاف تحقیقات کے لیے اعلیٰ کمیٹی قائم کی، جسے کرپٹ عناصر پر سفری پابندی لگانے اور گرفتار کرنے کی اجازت دی گئی ہے،کمیٹی کو متعلقہ اداروں کے تعاون سے مناسب کارروائی کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

کمیٹی نے 2009ء میں جدہ سیلاب اور 2012ءمیں مرس وائرس سے اموات کےمعاملے کی بھی ازسرنو تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

شاہی فرمان کے مطابق شہزادہ متعب بن عبداللہ کو نیشنل سیکیورٹی گارڈکی وزارت سے سبکدوش کرکے وزارت کا قلمدان خالد بن عبدالعزیز کو سونپ دیاگیا ہے۔

اسی طرح وزیر اقتصادیات اور منصوبہ بندی عادل فقیہ کو ہٹادیاگیا ہے، بحریہ کے سربراہ جنرل عبداللہ کو سبکدوش کرکےجنرل فہد الغفیلی کومنصب سونپ دیا تھا۔

متعلقہ خبریں