عالم اسلام برمی مسلمانوں کی فوری مدد کرے

عالم اسلام برمی مسلمانوں کی فوری مدد کرے


عالم اسلام کا اہم ملک ترکی کی جانب سے برما کے مسلمانوں پر بدترین مظالم کے خلاف عالم اسلام کو متوجہ کرنا اور ان کی مدد کے لئے عملی طور پر آگے آنا خوش آئند امر ہے۔ یہ صرف ترکی کی نہیں پوری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ برما کے مظلوم اور بربریت کاشکار مسلمانوں کو پناہ دینے کے لئے اقدامات کریں۔ترکی کی نیوز ویب سائٹ ٹی آر ٹی ورلڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اوغلو نے صوبہ انطالیہ میں عید الاضحی کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ میانمار کی ریاست راکھائن میں پرتشدد فسادات سے جان بچا کر نقل مکانی کرنے والے مہاجرین کے لیے بنگلہ دیشی حکومت اپنے دروازے کھولے اور اخراجات کی فکر نہ کرے۔ان کا کہنا تھا کہ روہنگیا مہاجرین پر جتنے بھی پیسے خرچ ہوں گے وہ ترکی برداشت کرے گا۔ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے اسلامی تعاون تنظیم کو بھی متحرک کیا ہے اور اس معاملے پر رواں برس ایک سمٹ کا انعقاد کیا جائے گا، ہمیں اس معاملے کا کوئی فیصلہ کن حل نکالنا ہے۔ دریں اثناء پاکستان کی جانب سے بھی روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور جبرا ًنقل مکانی کی رپورٹس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے میانمار کے حکام سے مسلمانوں کے حقوق کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔برما میں روہنگیا نسل کے لاکھوں مسلمانوں کو پچھلے کئی سال سے مقامی بدھ مت کے پیروکاروں، حکومت اور فوج کی جانب سے وحشیانہ مظالم کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان دوسرے ملکوں میں پناہ کی تلاش میں در بہ در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔گزشتہ چند برسوں کے دوران میانمار کے ان مسلمانوں کے خلاف مظالم اور پرتشدد حملوں کی لہر میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں انہیں اپنے آبائی وطن سے نکلنا پڑا ہے۔میانمار، جسے برما بھی کہا جاتا ہے، میں بدھ مت مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت ہے، روہنگیا کے مسلمان کئی دہائیاں قبل ہجرت کرکے بنگلہ دیش سے میانمار پہنچے تھے، میانمار کے لوگ ان کو بنگالی تسلیم کرتے ہیں۔روہنگیا لوگوں کی بہت بڑی تعداد میانمار کی مغربی ریاست راکھائن (ارکان) میں رہائش پذیر ہے، 10 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل روہنگیا لوگوں کو بنگلہ دیش کے لوگ برمی مانتے ہیں۔حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق میانمار کے شمال مغربی علاقے میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مختلف کارروائیوں کے دوران 4 سو کے قریب روہنگیا مسلمانوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق میانمار کی ایک ریاست میں فوجی بیس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد شروع ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں 38 ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کرچکے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق اگست میں 38 ہزار افراد بنگلہ دیش کی سرحد پار کرچکے ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں میانمار کے مسلم اکثریتی علاقے ارکان کے قریب کچھ چوکیوں پر حملے کیے گئے تھے جس میں اہلکاروں سمیت 90 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، فوج اس مسلح تحریک کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کے بہانے برمی مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہے اور ان کی نسل کشی کا سوچا سمجھا منصوبہ جاری ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آگ میانمار کی فوج نے لگائی ہے۔ اس صورتحال میں برمی مسلمانوں کے پاس ہجرت کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں اور برما کی ریاست ارکان کے بدھ مت پیروکاروں کے درمیان جھگڑا ڈیڑھ صدی پر محیط ہے، جب انگریز کے دور میں بنگلہ دیش کے سرحدی علاقوں سے بڑی تعداد میں محنت مزدوری کرنے والے غریب مسلمان فصلوں میں کام کرنے کے لیے برما کی ریاست ارکان میں آباد ہونا شروع ہوئے، لیکن پچھلے چار پانچ عشروں سے برما میں قائم فوجی آمریت نے اس جھگڑے کو ایک بہت بڑے بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔یاد رہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو میانمار میں شہریت ملنے کا حق نہیں ہے اور صدیوں سے وہاں رہائش پذیر ہونے کے باوجود انہیں وہاں غیر قانونی شہری تصور کیا جاتا ہے۔برمی مسلمانوں کی ہر قسم کی مدد صرف ترکی کا فریضہ نہیں اور نہ ہی پاکستان کی جانب سے ان کی حمایت میں بیان کا اجراء کافی ہے۔ برمی مسلمان مسلمانوں کے مصیبت زدہ بھائی ہیں جن پر مظالم کی داستانیں اور مظالم دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ امت مسلمہ کی بے حسی اور اسلامی ممالک کی طرف سے ان مسلمانوں کی دست گیری کیلئے ابھی تک کوئی ٹھوس اقدام نہ اٹھانے کو ہی ان کی نسل کشی کی بنیادی وجہ قراردیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ وسیع و عریض رقبے پر مشتمل درجنوں اسلامی ممالک کیلئے چند لاکھ برمی مسلمانوں کو بسانا کوئی بڑی بات نہیں۔ اگر کوئی ملک ان کو اپنے ہاں نہ بسانا چاہے تو مسلم ممالک کسی ایک ملک کے صحرائی اور ویران علاقے میں ان کو کیمپ بنا کر دے سکتے ہیں جہاں کم از کم ان کی جانیں محفوظ اور عصمت کو تو تحفظ حاصل ہوگا۔ میانمار کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ وہاں کی حکومت، فوج اور بدھ مت کے پیروکار جو سلوک روا رکھ رہے ہیں گویا وہ انتہا پسندی کو خود اپنے ملک میں دعوت دے رہے ہیں۔ بہر حال یہ اپنی جگہ لیکن فی الوقت ترکی کی طرح تمام مسلمان ممالک کو ان مسلمانوں کو بحفاظت ہجرت کروانے اور ان کی آباد کاری میں تساہل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے اور اسلامی اخوت کے درس کی یاد تازہ کرنا حکومت ہی نہیں جملہ اہل اسلام کی بھی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں جتنا جلد لائحہ عمل تیار کرکے اس پر عملد رآمد کیا جائے اتنا ہی احسن ہوگا۔

متعلقہ خبریں