پاک افغان مذاکرات جلد شروع کرنے کی ضرورت 

پاک افغان مذاکرات جلد شروع کرنے کی ضرورت 

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پیشکش کی ہے کہ وہ پاکستان سے جامع سیاسی مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے عید کے موقع پر کابل میں صدارتی محل میں تقریر کرتے کہا کہ پاکستان کے ساتھ امن افغانستان کا قومی ایجنڈا ہے، ایک ایسا امن جس کی بنیاد سیاسی نظریہ پر ہو۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی سلامتی کی خاطر ہم منطق اور استدلال کے تحت ہر قدم اٹھانے کو تیار ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خاصے کشیدہ رہے ہیں۔ اس سال مئی میں صدر اشرف غنی نے پاکستان کے دورے کی دعوت یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ میں تب تک پاکستان نہیں جائوں گا جب تک پاکستان مزار شریف، امریکن یونیورسٹی کابل اور قندھار حملوں کے ذمہ داروں کو افغانستان کے حوالے نہیں کرتا اور پاکستان میں موجود افغان طالبان کے خلاف عملی طور پر قدم نہیں اٹھاتا۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان پر متعدد بار الزام لگا چکے ہیں کہ وہ ان طالبان جنگجوئوں کو پناہ دیتا ہے جو افغانستان میں حملے کرتے ہیں۔افغانستان کے صدر اشرف غنی کی پیشکش کا پاکستان کی جانب سے خیر مقدم کرنے کی کوئی وجہ نہیں اگر افغانستان کی حکومت کو واقعی اس امر کا احساس ہو چکا ہے اور حسب دستور بہکا وے میں آکر ان کا موقف تبدیل نہیں ہوتا تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کے معمول پر آتے ہی قیام امن اور استحکام امن کی منزل شروع ہونا عجب نہ ہوگا ۔ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے وابستہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان خلش اور چپقلش کے باعث سرحد کے دونوں طرف بے چینی کی فضا طاری رہتی ہے۔ افغانستان میں بھارت کی موجودگی اور اسے خصوصی حیثیت ملناہی اختلاف کی وہ بنیاد ہے جس کے باعث پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے اور اعتماد کرنے پر تیار نہیں وگرنہ افغانستان ہمارا برادر اسلامی ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی اتصال کے علاوہ خطے کے عوام کی بڑی تعداد ہم نسل وہم ثقافت بھی ہیں ۔امن پاکستان کا بھی قومی ایجنڈا ہے اس ایجنڈے پر جتنی جلد ممکن ہو بات چیت شروع کی جائے۔ افغانستان کو اپنے فیصلے آزادانہ اور اپنے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کرنے کی ضرورت ہے ۔پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی کی فضا کے بعد افغانستان داخلی استحکام اور داخلی قوتوں کے ساتھ مذاکرات کی طرف با آسانی بڑھ سکتا ہے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جلد ہی اعلیٰ سطح پر وفود کے تبادلے ہوں گے اور سفارتی ذرائع سے جلد سے جلد بات چیت کا آغاز ہوگا ۔ اور خطے کے عوام جلد ہی ایک مثبت تبدیلی دیکھ سکیں گے جس کا نتیجہ افغانستان کے سی پیک منصوبے میں شمولیت کی صورت میں بھی سامنے آسکتا ہے ۔

متعلقہ خبریں