وزیر خارجہ کا اہم دورہ

وزیر خارجہ کا اہم دورہ


افغانستان اور جنوبی ایشیا کے لیے نئی امریکی پالیسی پر مشاورت کے لیے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف دورہ کرنے جارہے ہیں ۔ان ممالک کے دوروں کا فیصلہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا جس میں امریکی الزامات پر تفصیلی غور و فکر کیا گیا تھا۔پاکستانی سفارتکاروں کا ماننا ہے کہ خواجہ آصف کا یہ دورہ امریکا کے لیے پیغام ہوگا کہ پاکستان کو خطے میں وسیع حمایت حاصل ہے اور اسے دبائو ڈال کر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔روس' چین' ترکی اور ایران کاامریکی صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز خطاب کے بعد پاکستان کے موقف کی حمایت اور پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم خطے میں تبدیل شدہ پالیسی کا سامنا فطری امرہوگا۔پاکستان کے ساتھ امریکہ کا کردار و عمل پہلے بھی ایسا نہیں تھا جس پر اعتماد کیا جا سکتامگر ٹرمپ کی جانب سے ا تمام حجت کرد ی گئی جس کے بعد پاکستان کا خطے میں دیگر ممالک سے تیزی سے بہتر ہوتے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا جو سنہری موقع ملا ہے اسے بروئے کار لا نے میں اب کوئی امر مانع نہیں رہا ۔ جس قدم کے اٹھانے سے ہم شاکی تھے وہ قدم از خود اٹھانے کا ہمیں جواز مل گیا ہے ۔ خطے میں روس ،چین ' ترکی اور ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور اشتراک ہی امریکہ سے قربت کے خاتمے کا حاصل نہیں بلکہ ایران سے تعلقات کے احیاء کا موقع بہت بڑی پیشرفت ہوگی۔

متعلقہ خبریں