62 اور 63پارلیمنٹ کی بالادستی کا ضامن قانون

62 اور 63پارلیمنٹ کی بالادستی کا ضامن قانون

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف سپریم کو رٹ کے پانچ رُکنی بنچ کے فیصلہ کے بعد ان کے پا رٹی کے دیگر راہنماء پریشان نظر آرہے ہیں ۔ سب سے پہلے نواز شریف نے اسلام آباد سے لاہور تک ریلی نکالی ۔ اور اب وہ دیگر سیاست دانوں کو اس بات پر آمادہ کر رہے ہیںکہ سپریم کور ٹ پر دبائو ڈالا جائے اور1973 کے آئین کی شق نمبر 62 اور 63 ختم کی جائیں تاکہ بعد میںدیگر سیاست دان اگر مالی بے قاعدگیوں میں ملوث ہوں اور وطن عزیز کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے رہے تو ان کو روکنے والا کوئی نہ ہو۔ اگر ہم پاکستان پیپلز پا رٹی ، پاکستان مسلم لیگ ، اے این پی ، جمعیت العلمائے اسلام کے ماضی کے بیانات پر نظر ڈالیں تو ان کے راہنمائوںکے بیانات سے، ماسوائے نواز شریف کے سب اس بات پر راضی تھے کہ آئین کی شق 62 اور 63 ختم کی جائے ۔ جبکہ اسفند یار ولی خان ، مولانا فضل الرحمان اور سید خور شید شاہ کے مطابق میاں نواز شریف اس قانون کو ختم نہیں کرناچاہتے تھے ۔
مگر اب وہ اس قانون میں خود پھنس گئے۔ مُجھے اہل علم ودانش بتا دیں کہ نواز شریف کی جگہ اگر اور غریب ہوتا تو کیا انتظامیہ اور نیب اُسکو چھوڑتے ۔ پاکستان کی جیلوں میں چھوٹے چھوٹے کیسوں میں غریب لوگ پڑے ہوئے ہیں۔وطن عزیز کے عام شہری کو تو بجلی گیس بل اور دوسرے چھوٹے چھوٹے جرموں میں پابند سلاسل کیا جاتا ہے جبکہ طاقتوروںکیلئے ملکی قوانین بدلنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ایک نائب قاصد ، اُستاد، کلرک ، کے لئے اگر انٹری ٹسٹ ہے توکیا اس قسم کی بڑے پوسٹوں کے لئے کوئی قانون نہیں ہونا چاہئے۔ ان شقوں میں کیا قبا حت ہے۔اگر ہم ان دو شقوں کا مطالعہ کریں تو ان میں شق نمبر 62کا تعلق پا رلیمنٹ کے اُمیدواروں کی اہلیت سے ہے جبکہ آئین کی شق نمبر 63کا تعلق پا رلیمنٹ کے ا میدوار کی نا اہلی یا سیاسی وفا داری تبدیل کر نے سے ہے۔ شق نمبر 62 میں اس بات کی صاف الفا ظ میں وضا حت کی گئی ہے کہ قانون ساز اداروں کے لئے ایک امیدوار کی اہلیت کے لئے کیا کیا لوازمات ہونے چاہئیں۔ اس شق کے مطابق قانون ساز اداروں کے امیدوار کے لئے ضروری ہے کہ وہ اچھے کر دار کے مالک ہوں اور وہ اسلام کے بنیادی قاعدوں اور ضا بطوں کی خلاف ور زیوں کا اعلانیہ طو ر پر مر تکب نہ ہو ۔اُنکی شخصیت کی دوسری اہم اور نمایاں خصو صیت یہ ہو نی چاہئے کہ وہ اسلامی تعلیمات کے بارے میں کا فی علم رکھتے ہوں اور اسلام کے بنیادی ارکان پر عمل پیراہوں اور گناہ کبیرہ کے مرتکب نہ ہوں۔
وہ راسخ العقیدہ، دانشمند، متقی،دیانت دار، امانت دار ہوں اور فا سق نہ ہوں۔پاکستان بننے کے بعدوطن عزیز کی سا لمیت اورنظریہ پاکستان کے مخا لف نہ ہوں۔ آئین کی شق نمبر 63 کا تعلق پارلیمنٹ کے ممبران کی نااہلی کے بارے میں ہے۔ اس شق کے مطابق پارلیمنٹ کاوہ ممبر نااہل ہو گا جس کو عدالت نے فاترالعقل قراردیا ہو۔
اُس نے پاکستان کی شہریت چھو ڑی ہو اور یا کسی دوسری ریاست کی شہریت اختیار کی ہو۔یا وہ پاکستان کے کسی وفاقی اور صوبائی سرکاری ادارے، کا رپو ریشن ، دفتر سے بد عنوانی کی بنا پر نو کری سے بر خاست یانو کری سے ہٹا یا گیا ہو اور یا اسکو جبری ریٹائر کیا گیا ہو۔ اور پھر اسکی نوکری سے بر خا ستگی یا نو کری سے جبری ریٹا ئرمنٹ کے بعد اسکے 5 سال کا عرصہ نہ گزرا ہو۔علاوہ ازیں ایک امیدوار( جس میں میاں، بیوی دونوں اور اُسکے Dependent یعنی زیر کفالت افرادشامل ہیں) جس وقت پارلیمنٹ کے لئے کا غذات نا مزدگی جمع کر رہا ہو وہ حکومت کے کسی محکمہ کییعنی واجبات جس میں یو ٹیلیٹی بلز ٹیلی فون بجلی، گیس اور پانی کے بلز شامل ہیں جو 10 ہزار سے زیادہ ہوں گزشتہ چھ مہینے سے نا دہندہ نہ ہو۔ شق 63 اے کا تعلق سیاسی پا رٹی یاپارٹی وفا داری تبدیل کر نے سے ہے۔
اگر کسی سیاسی پا رٹی کا ممبر اُس سیاسی پا رٹی کی ممبر شپ سے استعفیٰ دے اور دوسری پا رلیمانی پا رٹی میں شا مل ہوجائے یاایوان میں پا رٹی کی ہدایات کے بر عکس ووٹ دے یا ووٹ میں حصہ نہ لے جسکا تعلق وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ کے انتخاب ، عدم اعتماد کے حق یا انکے خلاف ووٹ دینے یا زر بل اور آئین کی ترمیمی بل سے ہو تو ایسی صورت میں ایک امیدوار کی رکنیت ختم ہو سکتی ہے ۔ تمام محب وطن سیاسی پا رٹیوں اور قوتوں کو مل کر آرٹیکل 62 اور 63 کے مکمل نفاذ کے لئے حکومت پر دبائو ڈالنا چاہئے تاکہ ملک کی آئندہ انتخابات میں کر پٹ ، بد عنوان امیدوار جیتنے نہ پائیں۔ عوام کو بھی سو چنا چاہئے کہ وہ بھی ایسے لوگوں کو منتخب کریں جو انکے لئے کام کریں اور انکو جہالت، لو ڈ شیڈنگ، مہنگائی، لاقانونیت اور بے روز گا ری کی دلدل سے نکالیں۔ جن جن سیاسی اہل کاروں نے بینکوں سے قرضے معاف کئے ہیں یا وہ حکومت کے نا دہندہ ہوں اُن کے خلاف آئین کی شق62 اور 63 کے مطابق کار روائی کی جائے۔اسی میں پاکستانی عوام اورجمہوریت کی بقا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قومی اسمبلی کے امیدوار کے لئے خرچے کی حد 15 لاکھ جبکہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار کے لئے خرچے کی حد 10 لاکھ ہے۔ مگر قومی اسمبلی کا اُمیدوار اپنی الیکشن مُہم پر 5 سے لیکر 10 کروڑ جبکہ صوبائی اسمبلی کا اُمیدوار اپنی الیکشن مُہم پر 3 سے 5کروڑ تک خرچہ کر تا ہے۔ اگر انتخابی حلقہ کسی بہت مضبوط اور طاقت ور اُمیدوار کا ہے تو یہ خرچہ ایک ارب تک بھی پہنچ سکتا ہے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی عوام کو چاہئے کہ وہ ایسے اُمیدوار کو ووٹ نہ دیں جو شق 62 اور 63 پر پورا نہیں اُترتا۔اور ان تمام کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے جس نے ملک کو لوٹا ہے ۔ علاوہ ازیں ملکی آئین کے ساتھ نہ کھیلیں ورنہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام ہونگے اور ظالموں اور لُٹیروں کے گریبان۔

متعلقہ خبریں