سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا

لوگ عید کی خوشیاں منا رہے تھے۔ بنجارے کے وسیع و عریض بنگلے کے لان میں قناتوں کے نیچے کرسیاں بچھی تھیں اور دوست رشتہ دار ان پر خاموشی سے سر جھکائے بیٹھے وقفے وقفے سے ہاتھ اٹھا کر فاتحہ پڑھ رہے تھے۔ یہ بنجارہ ایک کاروباری ٹائی کون تھا جس کا ابھی دس بارہ روز پہلے انتقال ہوا تھا۔ کیوں اور کیسے؟ اس پر بھی بات ہوگی پہلے نظیر اکبر آبادی کی شہکار نظم بنجارا نامہ کا یہ ایک بند ملاحظہ کیجئے جو عبرت انگیز بھی ہے اور اس میں دنیا کی بے ثباتی کا نہایت ہی موثر نقشہ کشی بھی کی گئی۔ جی ہاں وہ دنیا جہاں کے قیام کو اللہ تعالیٰ نے لہو لعب کہا ہے۔ یہ ایک ایسی عبرت سرائے ہے جہاں کسی کے لئے بھی مستقل قیام ممکن نہیں اس لئے تو نظیر اکبر آبادی کہتے ہیں
کچھ کام نہ آوے گا تیرے
یہ لعل وزمرد سیم و زر
جب پونچی بات میں بکھرے گی
پھر آن بنے گی جان اوپر
نقارے نوبت بان نشاں
دولت' حشمت فوجیں لشکر
کیا مسند' تکیہ ملک و مکاں
کیا چوکی کرسی تخت چھپر
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا
جب لاد چلے گا بنجارا
ہم جس بنجارے کا ذکر کرنے لگے ہیں' یہی کچھ 20'25 سال پہلے ہم نے اسے اپنے محلے کی ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان میں جسے ہٹی کہتے ہیں بیٹھے دیکھا تھا۔ یہ ہٹی اسے اپنے باپ سے ترکے میں ملی تھی اور یہی ان کا واحد ذریعہ معاش تھا۔ یہ چھوٹی سی دکان تمام خاندان کے اخراجات کے لئے ناکافی تھی چنانچہ بنجارا قسمت آزمائی کے لئے دبئی کی طرف نکل پڑا۔ پندرہ بیس سال تک شب و روز محنت کی' بتایا کرتا تھا میں نے زیر تعمیر عمارات کی پانچویں اور چھٹی منزل تک سیمنٹ' بجری ڈھونے کا کام کیا ہے۔ ٹیکسی چلاتا رہا۔ پھر وہاں گاڑیوں کے ایک کاروباری فرم میں ملازم ہوگیا۔ قسمت نے یاوری کی' محنت رنگ لائی' کچھ مدت بعد دبئی میں اپنا ایک بارگین سنٹر کھول لیا۔ کاروبارچمک پڑا۔ دولت کی ریل پیل ہوگئی اور بنجارے کا شمار دبئی کی مشہور کاروباری شخصیات میں ہونے لگا۔ یہاں اپنے شہر میں شو روم بنائے' نئی کاروں کے امپورٹ کا کاروبار کرنے لگا۔ کام پھیلتا گیا ' بنجارا جائیدادیں خریدنے لگا' مارکیٹیں بنائیں' پلازے تعمیرکئے' ہر نئی ہائوسنگ سکیم میں پلاٹ خریدے۔ ان پر بنگلے کھڑے کئے۔ سینکڑوں جریب زرعی زمین خریدی۔ بال بچوں سمیت کم و بیش ہر سال حج پر جانا ان کا معمول بن گیا۔ رمضان کا آخری عشرہ بیت اللہ میں ضرور گزارتا۔ مصروفیت کا یہ عالم تھا کہ صبح ناشتہ اگر دبئی میں کرتا تو شام کا کھانا پاکستان میں ہوتا۔ اس شبانہ روز محنت سے بنجارے کی صحت متاثر ہونے لگی' فشار خون کی بیماری لاحق ہوگئی۔' شوگر ہوگیا اور پھر ایک روز انہیں شدید قسم کا ہارٹ اٹیک ہوا۔ معائنے پر پتہ لگا کہ بنجارے کے دل کی دو شریانیں بند ہوچکی ہیں' سٹنٹ لگے' ڈاکٹروں نے بنجارے کو اپنی کاروباری مصروفیات کم کرنے کا مشورہ دیا مگر اس کا کاروبار اس قدر پھیل چکا تھا کہ یہ اس کے لئے ممکن نہیں رہا تھا۔ ارادہ تھا کہ اپنے بنگلے کے پہلو میں دو ڈھائی جریب کے پلاٹ پر محلے والوں کے لئے ایک حجرہ تعمیر کریں کیونکہ جدید بستیوں میں مکینوں کے لئے خوشی غمی کی تقریبات میں بڑی مشکل پیش آتی ہے۔ بنجارے کی کاروباری مصروفیات زور و شور سے جاری تھیں۔ ایک روز دوبارہ اسے سینے میں تکلیف محسوس ہوئی ' پشاور کے مشہور و معروف امراض قلب کے ہسپتال میں معائنے کے لئے بنجارا گیا تو ڈاکٹروں نے بتایا آٹھ دس سال پہلے لگائے گئے سٹنٹ پرانے ہوچکے ہیں فوری طور پر تبدیل کرنے پڑیں گے۔ اگر دیر کی تو مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ بنجارا بولا' ڈاکٹر صاحب مجھے کل ایک ضروری میٹنگ کے لئے دوبئی جانا ہے' چار روز بعد واپسی پر آجائوں گا۔ دوسری صبح ملازم گاڑی میں بنجارے کا سامان رکھ رہا تھا اور وہ ناشتے کی میز پر بیٹھا فون پر کسی سے خرید لو' بیچ د و قسم کی گفتگو میں مصروف تھا کہ اچانک سینے میں شدید درد اٹھا۔ موبائل فون اس کے ہاتھ سے گر گیا اور دوسرے ہی لمحے اس کا دل خاموش ہو چکا تھا۔ وہ تو دوبئی نہ جاسکا البتہ اس کی روح انجانی دنیا کی طرف پرواز کرگئی تھی۔ ہم نے دیکھا کہ عید کے روز جب لوگ خوشیاں منا رہے تھے بنجارے کے وسیع و عریض بنگلے کے لان میں اس کے عزیز رشتہ دار سر جھکائے بیٹھے وقفے وقفے سے فاتحہ پڑھ رہے تھے اور ہماری آنکھوں کے سامنے بنجارے کا کریانے کی دکان سے کروڑوں روپے کے کاروبار تک کا سفر گھوم رہا تھا۔ سب ٹھاٹھ' پڑا رہ گیا اور بنجارہ منوں مٹی کے نیچے جا کر ابدی نیند سو گیا۔ جب لعل و زمرد سیم و زر کسی کام کے نہیں تو پھر ہم لندن میں سرے محل اور اربوں روپے کے فلیٹ کیوں خریدتے ہیں؟۔

متعلقہ خبریں