روحانیت کا فقدان

روحانیت کا فقدان

جدید دور کے تقاضوں نے زندگی کو مشکل سے مشکل تر کردیا ہے جسے دیکھیے بھاگ رہا ہے۔ سب وقت کی کمی کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ ہر شخص دوران گفتگو یہ جملہ ایک آدھ مرتبہ ضرور دہراتا ہے کہ مصروفیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ سر کھجانے کی فرصت بھی نہیں ملتی لیکن اس سب کچھ کے باوجود جسے دیکھیے اپنا وقت ضائع کرتا نظر آتا ہے۔ذرا سوچیے ہم ٹی وی کو روزانہ کتنے گھنٹے دیتے ہیں۔بریکنگ نیوز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے اور پھر ان نیوز پر رواں تبصرے ہیں جن کی وجہ سے پوری قوم حالات حاضرہ میں الجھ کر رہ گئی ہے۔ دوست احباب ان تبصروں سے روشنی حاصل کرتے ہوئے سارا دن دکانوں دفاتر میں بیٹھ کر ایسی ایسی موشگافیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ دنیا میں جن قوموں نے ترقی کی ہے اس کی وجہ کام اور صرف کام ہے۔ کردار کے غازی ہی دنیا میں آگے بڑھتے ہیں ترقی کرتے ہیں۔ گفتار کے غازی تو ایک ایسی بیماری میں مبتلا رہتے ہیں جسے لاحاصل گفتگو کہتے ہیں۔سیاسی سرگرمیو ں کے بڑھ جانے سے نوجوانوں کے لیے دوسری بہت سی مصروفیات نکل آئی ہیں۔جسے دیکھیے کسی نہ کسی پلیٹ فارم سے وابستہ ہے اور پھر جب کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی جاتی ہے تو پھر بلا سوچے سمجھے اپنے لیڈر کی حمایت شروع ہوجاتی ہے۔ پہلی ترجیح وطن عزیز اور اس کے مفادات ہونے چاہئیں لیکن یہاں تو اپنی پارٹی کی حمایت کرنی ہے اب انہیں زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگانے سے ہی فرصت نہیں ملتی حالانکہ نوجوان نسل ہمار ا قیمتی سرمایہ ہے۔ حضرت امام غزالی نوجوانوں کا بہت زیادہ احترام کیا کرتے تھے جب کوئی نوجوان آپ سے ملنے آتا تو آپ کھڑے ہو کر اس اس کا استقبال کرتے۔ جب آپ سے اس احترام کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا کہ نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں اور انہوں نے آنے والے وقت میں ملک و ملت کی فلاح وبہبود اور تعمیر و ترقی کے لیے بہت اہم کردار ادا کرنا ہے اس لیے ان کا احترام بھی واجب ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری نئی نسل ہمارا قیمتی سرمایہ ہے اور انہوں نے مستقبل میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ انہیں ہم نے عصر حاضر کے علوم سے روشناس کرواناہے تاکہ یہ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرسکیں اور قوم کی کشتی کو اپنی منزل مقصود تک بخیرو عافیت پہنچانے کے اہل ہوسکیں جب بھی نوجوان نسل سے مکالمے کا موقع ملتا ہے تو یہ جان کر بڑی خوشی ہوتی ہے کہ اس میں ذمہ داری کا احساس موجود ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں ایسے مواقع فراہم کیے جائیں کہ ان کا وقت قیمتی ہوجائے یہ وقت کو ضائع کرنے کی بجائے اسے تعمیری سرگرمیوں میں صرف کرسکیںکسی دانشور کا کہنا ہے کہ جس دن آپ ذمہ داری کو مکمل طور پر قبول کرکے بہانے بنانا چھوڑ دیتے ہیں وہی دن آپ کو ترقی کی منزل طے کرنے کے لیے پہلا زینہ بن جاتا ہے اور وہیں سے آپ ترقی کرنا شروع کردیتے ہیں۔کامیاب لوگوں کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ مسلسل کام کرتے ہیں۔ یہ کہہ دینا تو بڑا آسان ہے کہ میری زندگی کا مقصد سی ایس پی آفیسر ،ڈاکٹر یا انجنئیر بننا ہے لیکن ان پیشوں کے تقاضوں کو پورا کرنا ہی اصل فریضہ ہے جو جہاں بھی ہے جس شعبے میں ہے اس کی پہلی ترجیح اپنے پیارے وطن کی خدمت ہونی چاہیے۔ اسے اپنے ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے حوالے سے سوچنا چاہیے۔سب سے پہلے ہمیں اپنی سوچ کو درست سمت میں لانا ہوگا۔ کسی مرددانا نے کیا خوب کہا ہے'' ہم اپنی سوچ بوتے ہیں اور اعمال کی فصل کاٹتے ہیں اعمال کی فصل اگاتے ہیںاور اپنی عادات کی فصل کاٹتے ہیں ہم اپنی عادات اگاتے ہیں اور کردار کی فصل کاٹتے ہیںاور پھر اپنا کردار بوتے ہیں اور اپنے نصیب کی پیداوار حاصل کرتے ہیں'' ۔گوتم بدھ نے کتنی اچھی بات کہی تھی ''ہم وہی کچھ ہیں جو ہم سوچتے ہیں اور ہم اپنی سوچوں کے بل بوتے پر ہی ابھرتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں اور اپنا مقصد حیات پالیتے ہیں اور یہی ہماری دنیا ہوتی ہے'' ۔محنت ، تربیت ،منصوبہ بندی، جرات،استقلال، ایمانداری،سچائی ، بہترین اخلاق، دیانت داری، صبر استقامت اور اس طرح کی دوسری بہت سی خوبیاں انسان کی کامیابی کے لیے بہت ضروری ہیں۔ایک چینی کہاوت ہے کہ ہم جو کچھ دیتے ہیں وہ ہمیں واپس مل جاتا ہے اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارا رب ہمارے ساتھ ستر مائوں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے لیکن ہم اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اس کے ساتھ مشورہ نہیں کرتے۔ کیا ہم اپنے خالق سے رہنمائی مانگتے ہیں؟ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم اس سے رہنمائی مانگیں گے تو وہ ہماری رہنمائی کرے گا دنیا میں سارے کامیاب لوگ اپنے رب سے رہنمائی مانگتے ہیں اور ہمیں بھی مانگنی چاہیے ۔جب روحانیت کا فقدان اور مادیت کا دور دورہ ہو تو پھر نفرتیں بڑھ جایا کرتی ہیں انسان انسان کو شکار کرنے پر تل جاتا ہے اس قسم کی صورتحال میں دوسروں کی کمزوریوں اور مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ یہ عمل انفرادی سطح پر بھی ہوتا ہے اور قومیں بھی ایک دوسرے سے اسی قسم کا سلوک روا رکھتی ہیں۔ ہمارے یہاںتوانائی کا بحران، رشوت خوری، اقربا پروری، بدامنی اور دوسرے بہت سے مسائل اسی مادی اور خودغرضانہ سوچ کے شاخسانے ہیں۔ ہم آئے دن تہذیبوں کے تصادم کے حوالے سے نت نئی باتیں سنتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تہذیبوں کا تصادم نہیں ہے بلکہ مفادات کا تصادم ہے۔ جب قوموں کے مفادات آپس میں متصادم ہوتے ہیں تو تہذیبوں کا تصادم ظہور پذیر ہوتا ہے اور یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہوا کرتی ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسانی المیے جنم لیتے ہیں آج انسانی المیے کتنے تواتر کے ساتھ جنم لے رہے ہیں ۔ ہم سب ایسی سرگرمیوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں کہ ہمارے پاس اپنے حقیقی مسائل کے حوالے سے سوچنے کا وقت ہی نہیں ہے آج روحانیت کا قحط بھی ہے اور نفرتیں بھی بہت ہیں خودغرضیاں اور لالچ بھی چاروں طرف اپنے خونی جبڑے پھیلائے لوگوں کا شکار کرتی نظر آتی ہیں۔

متعلقہ خبریں