ابھی مزار پہ احباب فاتحہ پڑھ لیں

ابھی مزار پہ احباب فاتحہ پڑھ لیں

ویسے تو یہ ہمارا قومی وتیرہ ہے کہ جب بھی کوئی اہم کام کرتے ہیںتو پہلا قدم اٹھانے سے پہلے کسی بزرگ صوفی کے مزار پر آکر حاضری ضرور دیتے ہیں اور ممکن حد تک اس کام میں کامیابی کی صورت میں اسی بزرگ کے مزار پر غرباء ومساکین میں کھانا بھی ضرور تقسیم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ مگر ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ ایسے کاموں میں ہم کیوں بلاوجہ ان بزرگوں، صوفیوں کو امتحان میں ڈالتے ہیں، خصوصاً الیکشن کے دنوں میں تو مدمقابل ہر اُمید وار یا اس کے حواری ایک ہی (دستیاب) بزرگ کے مرقد پر جاکر دعا مانگتے ہیں، اب ایسی صورت میں یہ کرامات والے بزرگ کس کے ''طرفدار'' ہو سکتے ہیں، مثلاً ان دنوں جبکہ لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے120 میں ایک اہم معرکہ برپا ہے یعنی جس حلقے سے سابق وزیراعظم نواز شریف نااہل ہو کر آج کل اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی بیماری اور تیمارداری کے سلسلے میں لندن میں موجود ہیں اور ان کی خالی کی گئی نشست پر محترمہ کلثوم نواز ہی کو مقابلے میں اُتارا گیا ہے تو ان کی غیر موجودگی میں ان کی دختر مریم نواز نے الیکشن مہم کا آغاز کرتے ہوئے ابتداء داتا دربار پر حاضری دے کر کی، اسی حلقے میں ان کی مدمقابل تحریک انصاف کی نامزد اُمیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی مبینہ طور پر اپنی انتخابی مہم کا آغاز داتا دربار میں حاضری سے کیا، اگرچہ اس حلقے سے جو دیگر اُمیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں جن میں پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، علامہ طاہر القادری کی تنظیم اور دیگر آزاد وغیرہ وغیرہ اُمیدواروں نے بھی اُمید ہے داتا دربار پر حاضری ہی سے اپنی اپنی مہم کا آغاز کیا ہوگا، اس لئے وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کی روح کس اُمیدوار کیلئے اپنے مرقد میں دست بہ دعا ہوگی جبکہ اس تذبذب سے ان کی روح کو دوچار کرنے میں ان تمام اُمیدواروں کا ہاتھ ہوگا تاہم ان کی پاک روح ضرور یہ کہتی ہوگی کہ
نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں
حضرت داتا گنج بخش جن کا اصل نام حضرت علی ہجویری ہے، کے بارے میں یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک اور بزرگ وبرتر ہستیوں میں ان کا مقام بہت بلند ہے اور اس بات کی گواہی بہت سے بزرگوں نے بھی دی ہے، اجمیر جانے سے پہلے خواجہ غریب النواز اجمیری نے اپنے وطن سے آکر داتا گنج بخش ہی کے دربار میں چلہ کاٹا تھا اور ان کی کرامات سے فیض یاب ہوئے تھے جبکہ اپنے اگلے پڑاؤ اجمیر شریف رخصتی سے قبل انہوں نے داتا گنج بخش کے بارے میں اپنا یہ مشہور شعر بھی کہا تھا کہ
گنج بخش فیض عالم، مظہر نور خدا
ناقصاں راپیر کامل، کاملاں را رہنمائ
خواجہ غریب النواز سے آج ہندوستان کے طول وعرض میں کروڑوں لوگ نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے روحانی فیض پاتے ہیں اور جب ان جیسی ہستی حضرت داتا گنج بخش کو پیر کامل اور کاملوں کا رہنماء تسلیم کرتی ہے تو یقیناً داتا صاحب کی شخصیت اور کرامات کے حوالے سے کسی شک وشبے کا اظہار کم بختی اور بدنصیبی ہے، تاہم سوال وہی ہے کہ جب لاہور میں مد مقابل تقریباً ہر سیاسی اُمیدوار ان کے دربار پر حاضر ہو کر دعا مانگتا ہے تو فائدہ کس کو ملے گا اور ہارنے والے خدانخواستہ کیا عوام کی خدمت کا صحیح جذبہ نہیں رکھتے، اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ ویسے خدا لگتی کہئے کہ حضرت داتا گنج بخش جیسی ہستیوں کی روح الٹا ان پر اظہار افسوس ہی کرتی ہوگی کہ یہ عجیب لوگ ہیں، دنیاوی فوائد کیلئے درگاہوں پر جا کر منتیں مانگتے ہیں اور کامیابی کے بعد انہی عوام کو بھول جاتے ہیں جن کے ساتھ طرح طرح کے وعدے کر چکے ہوتے ہیں اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ بزرگان دین کے درباروں پر حاضری دیتے وقت بعد میں جو وعدہ شکنیاں کرتے ہیں ان وعدہ شکنیوں کا قیامت کے روز اللہ تعالیٰ جل شانہ کے دربار میں حاضری کے وقت کیا تاویلات پیش کریں گے۔ اپنی ان حرکتوں کا انکار تو یہ ویسے بھی نہیں کرسکتے جبکہ اپنے اوپر ان بزرگ ہستیوں کی روحوں کو گواہ بھی بنا لیتے ہیں۔بات صرف انتخابی اُمیدواروں تک ہی محدود نہیں، ابھی کچھ عرصہ پہلے جب ڈاکٹر طاہر القادری اپنے ''اصل'' وطن کینیڈا سے اپنے وطن ''مالوف'' پاکستان تشریف لائے تھے تو جہاز سے اُترنے کے بعد سیدھے داتا دربار پہنچے تھے اور وہیں پر لمبی چوڑی تقریر میں ایک بار پھر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے جاں بحق ہونے والوں کے حق میں اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تھا، وہ ہر بار جب تشریف لاتے ہیں تو ان کی زبان آگ اُگلتی ہے مگر بقول شخصے ان کی دلی مراد بر نہیں آتی، اگرچہ سینہ بہ سینہ چلتی ہوئی خبریں کچھ اور ہوتی ہیں اور مبینہ طور پر ان کی سرگرمیوں کے حوالے سے یہ دعوے کئے جاتے ہیں کہ جب موصوف کا ''پوٹہ'' خالی ہوجاتا ہے تو وہ لاہور کا رخ کرلیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اب کی بار فیس بک پر ایک پوسٹ میں مشورہ دیا گیا تھا کہ شریف خاندان کی جگہ علامہ صاحب کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے تاآنکہ ماڈل ٹاؤن کا مسئلہ حل نہ ہوجائے اور اب تو جناب سراج الحق نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ 11 ستمبر سے شروع ہونے والے احتساب مارچ کا آغاز داتا دربار سے کیا جائے گا۔ اس لئے سوال کیا جاسکتا ہے کہ ان تمام معاملات میں بے چارے داتا صاحب کا کیا قصور ہے اور ہر ایسے موقع پر ان کی روح کو جھنجوڑنے کی بھلا کیا تک ہے؟ بقول امیر مینائی
ابھی مزار پہ احباب فاتحہ پڑھ لیں
پھر اس قدر بھی ہمارا نشاں رہے نہ رہے

متعلقہ خبریں