اشرف غنی کی الزام تراشی

اشرف غنی کی الزام تراشی

افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان میں امن اور حالات میں بہتری لانے سے متعلق ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں پاکستان پر انگشت نمائی کرکے ان مساعی کو اپنے ہاتھوں سبو تاژ کردیا جن پر اس کانفرنس میں گفت و شنید اور پیشرفت ممکن تھی۔ روس کا اس مد میں پاکستان کی حمایت پاکستانی موقف و کردار کے اعتراف کے ساتھ خطے میں بدلتے حالات کی نوید بھی ہے۔ افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کی مالی امداد کی بجائے اپنے ملک سے یعنی پاکستان سے مبینہ طور پر افغانستان دہشت گردوں کی آمد و رفت کو روکے۔ حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو افغانستان کو اپنی سرحدوں کی حفاظت اور دہشت گردوں کی پاکستان آمد روکنے کی ضرورت ہے۔ افغان صدر سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ کیا دہشت گردی کی ابتداء ان کے ملک سے ہونے کے بعد سے خطہ مشکلات میں نہیں گھرا۔ افغانستان میں کمزور حکومت کے باعث دنیا بھر سے دہشت گرد ان کے ملک میں اکٹھے ہوئے اور جب ان کے خلاف عالمی اتحاد نے کارروائی شروع کی تو دہشت گردوں کے حامیوں نے پاکستان میں بھی سر اٹھایا۔ ان کی ساری قیادت اور کنٹرول اب بھی افغانستان میں موجود ہے۔ پاکستان میں بلا شبہ ایک دور مشکلات سے بھرپور گزرا ہے لیکن پاک فوج نے تطہیری آپریشن کرکے قبائلی علاقہ جات کو دہشت گردوں سے پاک کیا مگر مشکل یہ ہے کہ افغانسان میں اب بھی دہشت گردوں کے نہ صرف مراکز موجود ہیں بلکہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت مولوی فضل اللہ کی سربراہی میں آج بھی افغانستان میں پناہ لی ہوئی ہے جن کے خلاف پاکستان کی جانب سے بار بار کارروائی کے مطالبات کے باوجود افغان حکام کارروائی کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ اگر افغانستان بھی پاکستان کی طرح اپنے علاقے سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کی سنجیدہ سعی کرے تبھی خطے سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوگا اور قیام امن کی راہ ہموار ہوگی۔ افغانستان پاکستان کو عالمی سطح پر مطعون کرنے کا تو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا الزام تراشی اور تہمت لگانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جاتا لیکن جب پاکستان کی جانب سے ٹھوس تجاویز کے ساتھ سرحدی انتظامات کی بہتری کی بات کی جاتی ہے تو افغان حکمران اسے منفی انداز میں ہی نہیں لیتے بلکہ طورخم سرحد پر گیٹ کی تعمیر اور سرحد عبور کرتے ہوئے جب مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کی پابندی کرانے کا طریقہ رائج کرنے کی سعی کی جاتی ہے تو افغان فوج پاکستان پر حملہ آور ہونے سے بھی دریغ نہیں کرتی ۔ یہ الگ بات کہ بعد میں افغانستان ہی کے ناک رگڑنے کی نوبت آجاتی ہے۔ ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں افغان صدر کی ہرزہ سرائی کے باوجود پاکستان کے مشیر خارجہ نے سفارتی آداب کا خیال رکھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ 3سال میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں جو دنیا کے کسی ملک نے نہیں کیے۔سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ اب ہم انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اپنے تجربات دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ بانٹ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تنازعات کا پر امن حل علاقائی تعاون اور رابطوں کو فروغ دے گا، کشیدگی کے باوجود کانفرنس میں شرکت افغانستان اور خطے کے پائیدار امن کیلئے پاکستان کا عزم ظاہر کرتی ہے۔وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے افغان صدر کو الزام تراشیوں سے گریز کا مشورہ بھی دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اشرف غنی علاقائی تعاون کو بہتر بنانے کیلئے مثبت اقدامات پر توجہ دیں۔مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں پاکستان پرالزامات لگانے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی ایک ملک پر الزام لگانے کے بجائے ایک مقصد اور متفقہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کا مسئلہ اس کے عوام کی خواہشات کے مطابق مذاکرات سے حل کیا جانا چاہیے۔ادھر امرتسرمیں پاکستانی صحافیوں سے گفتگو میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ساری قیادت افغانستان میں ہے اور پاکستان یہ امید کرتا ہے کہ کابل سمیت دیگر ممالک طالبان کے مراکز ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پر الزام تراشی سے تشدد کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک افغانستان کی حکومت معاملات کو سمجھنے' معروضی صورتحال کے مطابق پالیسیاں بنانے 'پڑوسی ممالک کے ساتھ اعتماد کے تعلقات بنانے اور خطے کے ممالک کو ساتھ لے کر حالات میں بہتری لانے کی مشترکہ کوششیں نہ کرے یا پھر افغانستان از خود اس قابل ہو جائے کہ وہ اپنے سیکورٹی کے داخلی مسائل پر قابو پاسکے۔ تب تک افغانستان میں قیام امن کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔

متعلقہ خبریں