راستہ نکالنے کی ضرورت

راستہ نکالنے کی ضرورت

محکمہ تعلیم اور نجی سکول مالکان کے مابین جماعت پنجم کے جائزہ امتحانات بورڈ کے ذریعے کرانے پر اختلافات میں شدت اور فریقین کا اپنے اپنے موقف پر ڈٹ جانا نا مناسب بات ہے۔ سرکاری حکام کو جہاں موقف میں نرمی لا کر نجی سکولوں کے مخالفانہ موقف کو سمو دینا چاہئے تھا وہاں نجی سکولوں کو بھی حکومتی عملداری کو چیلنج کرنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم اور تعلم کے عمل میں امتحانات کا بہت ہی اہم رول ہوتا ہے۔ ماہرین تعلیم کے نزدیک امتحان کے ذریعے اساتذہ اپنی پڑھائی کے معیار کو جانچتے ہیں جبکہ طالب علم اپنی لیاقت اور قابلیت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ لیکن ہمارے تعلیمی بورڈوں کے تحت ہونے والے امتحانات سے نہ تو اساتذہ اپنے پڑھانے کے معیار کو جانچ سکتے ہیں اور نہ طلباء اپنی قابلیت کا صحیح اندازہ لگا سکتے ہیں۔ پاکستانی بورڈوں کے متعلق امریکہ کے ماہرین تعلیم ڈاکٹر نیومین اور ڈاکٹر ہیلن 2015ء کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستانی تعلیمی بورڈوں کے تحت ہونے والے امتحانات میں کرپشن اور نقل عام ہے۔ امتحانات غیر معیاری اور پیپر مارکنگ کا نظام بہت کمزور ہے اور یہ نظام صرف بے مقصد رٹا سسٹم کو پروان چڑھا رہا ہے۔ اس لئے یہ قابلیت جانچنے کا صحیح پیمانہ نہیں ہے۔دوسری جانب بد قسمتی سے آج ہمارے پالیسی میکر کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ پرائیویٹ سکولوں میں نرسری سے لے کر جماعت ہشتم تک ایک نصاب نہیں پڑھایا جاتا بلکہ درجنوں نصاب میں سے ہر ادارہ اپنے لئے نصاب منتخب کرتا ہے تو بورڈ کے امتحان میں جماعت پنجم کے لئے پیپر کون سے سلیبس سے بن کر آئیں گے۔ اگر جنرل ٹاپ کے پیپر بنانے ہیں تو یہ ایک اور غلطی ہوگی کیونکہ جماعت پنجم کے طالب علم کی ذہنی سطح جنرل پیپر کے حل کرنے کی نہیں ہوتی۔ انتظامی لحاظ سے بھی یہ تعلیمی بورڈوں کے لئے ایک بے مقصد اضافی بوجھ ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ طرفین کے دلائل اور موقف میں کچھ نہ کچھ وزن ضرور ہے لیکن بجائے اس کے کہ اس پر کوئی اعتدال کا راستہ نکالا جائے ہر ایک کا ڈٹ جانا مسائل کا باعث ہے۔ اس مقصد کے لئے ضروری ہوگا کہ جہاں تعلیمی بورڈوں کا انتظام بہتر بنایا جائے وہاں پورے ملک میں نہیں تو کم از کم صوبائی سطح پر تو یکساں نصاب کا انتظام کیا جائے ۔ بہتر ہوگا کہ حکومت اور نجی سکول مالکان ایک مرتبہ پھر اپنی اپنی مشکلات اور موقف کا جائزہ لیں اور کوئی ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جو فریقین کے لئے قابل قبول ہو۔
تھانیدار کی ہوائی فائرنگ
ڈیرہ اسماعیل خان میں ایس ایچ او کی اپنی شادی کی تقریب میں تھانے کے پولیس اہلکاروں سمیت ہوائی فائرنگ خیبر پختونخوا پولیس کے دامن پر داغ ہے۔ مستزاد ہوائی فائرنگ میں ایک معصوم بچے کاجاں بحق ہونا اجتماعی قتل کے زمرے میں آتا ہے۔ ایک ایسی پولیس سے ہوائی فائرنگ کی روک تھام کرانے کی کسی سنجیدہ سعی کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے جب خود ان کی صفوں میں جنونی موجود ہوں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پولیس میں میرٹ اور رجحان دیکھ کر بھرتی کی بجائے رشوت و سفارش کو بھرتی کا معیار بنانے سے جس قماش کے لوگ پولیس فورس میں شامل ہوچکے ہیں وہ از خود مجرمانہ ذہن رکھتے ہیں جس طرح کا واقعہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آیا ہے اس طرح واقعات معمول ہوں گے مگر خوش قسمتی سے کسی کی جان نہیں جاتی اس لئے میڈیا بھی ان کو سامنے نہیں لاتا۔ صرف ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک پسماندہ علاقے پر کیا موقوف حیات آباد کا پوش علاقہ حال ہی میں شادی کی تقریب کے دوران شدید ہوائی فائرنگ سے گونج اٹھا جس کا کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ہوائی فائرنگ میں کسی بے گناہ جان کے ضیاع پر قتل کے مقدمے کا اندراج کافی نہیں ہوائی فائرنگ کی روک تھام کے سلسلے میں جس قدر سخت اقدامات کئے جائیں وہ مستحسن ہوں گے۔ ہوائی فائرنگ میں کسی کی جان جانے پر قتل کا مقدمہ صرف اس صورت ہی میں ممکن نظر آتاہے جب اس امر کی گواہی ملے اور شواہد سے ثابت کیاجاسکے۔ڈیرہ اسماعیل خان کا وہ ذہنی معذور والد اپنے بیٹے کے خون کا حساب پولیس سے کیا لے گا ان کے لواحقین ابھی سے مقدمہ درج کرنے سے ہچکچا رہے تھے۔ پولیس حکام نے از خود واقعے کے خلاف مقدمہ کا اندراج کرکے احسن کام ضرور انجام دیاہے لیکن اگر اسے انجام تک نہ پہنچایاگیا تو ان کی سنجیدہ اقدام بھی لاحاصل جائے گا اور اسی کا امکان نظر بھی آتا ہے۔ بعض تقریبات میں ہوائی فائرنگ سے جو جانی نقصانات ہوتے ہیں اس میں اکثر صلح صفائی ہی دیکھی جاتی ہے اورجو لوگ اندھی گولی کاشکار ہو کرجان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اس میں فائرنگ کرنے والا نا معلوم ہوتاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہوائی فائرنگ ہی کو ناممکن بنا دیا جائے اور جو بھی ہوائی فائرنگ کرتا ہوا پایا جائے اسے اگر سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے میں سستی کا مظاہرہ نہ کیاجائے تو یہ ایک بہتر اور قابل عمل امر ہوگا۔

متعلقہ خبریں