امرتسر کا نفرنس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

امرتسر کا نفرنس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی تھیم اگرچہ قلب ایشیا کے علاقے میں سیکورٹی کو لاحق خطرات کے مقابلے کیلئے باہمی تعاون میں اضافہ کرنا تھی تاہم کانفرنس کے آغاز سے پہلے ہی یہ اندازے تھے کہ افغانستان اور بھارت پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کریں گے اور ہوا بھی یہی۔ کانفرنس علاقے میں سلامتی کو لاحق خطرات سے عہدہ برآ ہونے کیلئے کوئی لائحہ عمل مرتب کرنے کی بجائے الزام تراشی تک محدود ہوگئی۔ افغانستان کے صدر نے کہا کہ پاکستان کی مدد کے بغیر طالبان ایک ماہ سے زیادہ نہیں پنپ سکتے۔ کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بڑے پیمانے کی پرتشدد کارروائیوں کے ذمہ دار طالبان، داعش اور اس سے ملحقہ تنظیمیں، حقانی نیٹ ورک،القاعدہ ، لشکر طیبہ ، جیش محمد اور تحریک طالبان پاکستان ہیں۔ اشرف غنی اور نریندر مودی کی پاکستان کو دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام دینے کی کوشش کے باوجود مشترکہ اعلامیہ ان کی الزام تراشی کا پول کھولتا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف پاکستان کی فوج نے دو سال آپریشن ضرب عضب جاری رکھا اور اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کیا۔ لشکر طیبہ ، جیش محمد پاکستان میں کالعدم تنظیمیں ہیں۔حقانی نیٹ ورک کے اڈے افغانستان میں ہیںاورپاکستان کی اعلان کردہ پالیسی یہ ہے کہ دہشت گردی کا صفایا بلاامتیاز کرنا ہے۔ کوئی اچھے طالبان یا برے طالبان نہیں ہیں، داعش کے خودساختہ حامیوں کے خلاف پاکستان میں کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں تاہم داعش کا تنظیمی وجود پاکستان میں دریافت نہیں ہوا۔ افغان طالبان افغانستان میں منظم ہوئے انہوں نے پاکستان میں اپنے نقطہ نظر کے مطابق کاروبار حکومت چلانے کی کوشش کی، امریکہ کی بھرپور جنگی کارروائی کے باوجود وہ افغانستان میں فعال ہیں اور ان کا اعلان کردہ ایجنڈا بھی افغانستان کا قومی ایجنڈا ہے۔ وہ افغانستان کو غیر ملکی مداخلت سے آزاد د یکھنا چاہتے ہیں جبکہ امریکہ کا اپنا افغانستان ایجنڈا ہے جس کی بناء پر تین دہائیوں سے افغانستان میں شورش برپا ہے۔ عام افغان باشندہ غربت اور افلاس کا شکار ہے۔ افغان حکومت کی رٹ اپنے ہی ملک کے بیشتر حصے میں نہیں ہے۔ اگر افغان حکومت جو انتخابات کے نتیجے میں برسر اقتدار ہے مقبول عام حکومت ہوتی تو سارے ملک میں اس کی رٹ ہوتی ، اس کے ادارے کامیاب ہوتے، جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افغان باشندے پاکستان آئے اور تیس سال سے یہیں بے گھری کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ دوسری طرف افغانستان کے حکمرانوں اور وار لارڈز کی دولت کا انت شمار نہیں۔ حکومت کے ادارے بھی ہیں اور عہدیدار بھی ہیں لیکن تقسیم دولت کا کوئی نظام نہیں۔ حکمران، وار لارڈز اور افغانستان کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے والے بین الاقوامی عناصر افغانستان میں عدم استحکام اور بدامنی سے بھاری فائدے اٹھا رہے ہیں۔ افغانستان کی یہی صورتحال ان کے فائدے میں ہے اس لئے افغانستان سیاسی استحکام اور قیام امن کیلئے باہمی تعاون پر حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش کی بجائے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس الزام تراشیوں تک محدود کر دی گئی۔ افغانستان کے مسائل کی ایک بڑی وجہ اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔ گزشتہ تیس سال کے دوران روسی حملے، طالبان تحریک کے قیام، طالبان کی حکومت، امریکی حملے، دس سال تک امریکی فوج کی موجودگی اور افغانستان کی حکومتوں کے تجربات سے دنیا کی بڑی طاقتوں پر یہ واضح ہوچکا ہے کہ افغانستان پر قبضہ کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ آج ساری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ افغانستان میں جمہوری استحکام آجائے۔ افغان حکمرانوں کو اس عالمی اتفا ق رائے سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں افغان امن و استحکام کی طرف آنا چاہیے تاکہ افغانستان کے وسائل جن میں محل وقوع بھی شامل ہے افغان عوام کی فلاح و بہبود کے کام آئیں۔ افغانستان میں عدم استحکام اور بدامنی کی ایک بڑی وجہ افغانستان میں دنیا کی 85 فیصد افیون کی پیداوار ہے جس میں سے 45 فیصد پاکستان کے ذریعے سمگل ہوتی ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعدادو شمار ہیں۔ اس تجارت پر سمگلر مافیا اور افغانستان کے وار لارڈز کا قبضہ ہے۔ اس سے عام افغان کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ گزشتہ سالہاسال سے ایسے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں کہ اچانک افغان فورسز نے پاکستان کی کسی نگران چوکی پر گولہ باری شروع کر دی، جوابی کارروائی ہوئی اور چند گھنٹے کے بعد سکون ہوگیا۔ ان مختصر کارروائیوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ پاکستانی چوکیوں کی توجہ حملہ پر مرکوز کرکے سمگلروں کو محفوظ راستہ دینا ہوتا ہے۔یہ افیون آخر جاتی کہاں کہاں ہے۔ ایک حالیہ مطالعہ کے مطابق بھارت کی دوا ساز کمپنیوں کی کثیر تعداد میں ایسی دوائیاں تیار کی جاتی ہیں جن میں افیون استعمال ہوتی ہے جبکہ بھارت میں افیون کی کاشت نہیں ہوتی۔ افغانستان سے افیون کی باقاعدہ تجارت کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میںافغانستان کی افیون کی تجارت پر افغان حکومت اور افغان عوام کی ملکیت کے بارے میں سوچا جانا چاہیے تھا لیکن اشرف غنی اور نریندر مودی نے افغانستان میں استحکام کے بارے میں تعاون کی طرف بڑھنے کا ایک موقع جان بوجھ کر ضائع کر دیا۔ اشرف غنی کو شکایت ہے کہ دہشت گرد پاکستان سے جاکر افغانستان میں پرتشدد کارروائیاں کرتے ہیں تو افغانستان کی اولین ترجیح پاک افغان سرحد کے موثر انتظام کی ہونی چاہیے لیکن افغانستان، پاک افغان سرحد کے انتظام کی کوششوں کی مزاحمت کرتا ہے۔ کیوں؟ افغانستان کی شکایت اگر صحیح ہے تو پاکستان کی طرف سے دی جانے والی پچاس کروڑ ڈالر کی امداد کو پاک افغان سرحد کی باڑھ بندی اور نگرانی کے انتظام پر صرف کر دے تاکہ افغان افیون کی غیر قانونی تجارت ختم ہو جائے اور افغانستان اس کی برآمد سے ریونیو بھی کماسکے۔

متعلقہ خبریں