بیروزگاری' اسباب اورتدارک

بیروزگاری' اسباب اورتدارک

یہ بات تو ہم سب کو معلوم ہے کہ ہمارے ملک میں بے روزگاری کی شرح میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ہمارے کالج اور یونیورسٹیاںبڑی تعداد میں ایسے گریجویٹ پیدا کر رہی ہیں جن کے لئے مارکیٹ میں کوئی جگہ نہیں۔ انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز کی فیکٹ شیٹ کے مطابق سال 2014-15ء کے اواخر تک ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 3.6 ملین تھی جس میں روز افزوں اضافہ ہو رہاہے۔ چائنہ پاکستا ن اکنامک کوریڈور (سی پیک ) کے آغاز کے بعد حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ چینی ماہرین اور مزدوروں کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کو بھی اس منصوبے کا حصہ بنائے تاکہ ملک میں بیروزگاری کی شرح پر قابو پایا جاسکے۔ جہاں تک تعلیمی اداروں کی بات کی جائے تو ہمارے ملک میں بھیڑ چال کا رواج عام ہے۔ جب کوئی تعلیمی ادارہ کوئی نیا پروگرام یا ڈگری شروع کرتا ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک ٹرینڈ بن جاتا ہے اور طالب علموں کی بڑی تعداد اس پروگرام میں داخلہ لے لیتی ہے ۔ دوسری طرف اس بات پر توجہ نہیں دی جاتی کہ مذکورہ ڈگری ہولڈر افراد کی مارکیٹ میں کتنی ضرورت ہے۔ مارکیٹ میں محدود آسامیوں کی وجہ سے مذکورہ ڈگری ہولڈر ز کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور صرف چند افراد ہی ملازمت حاصل کرپاتے ہیں جبکہ باقی لوگ ملک میں بیروزگاری کی شرح میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔دوسری جانب اگر ہم چین کی بات کریں تو چین میں تعلیمی پالیسی بنانے والے سالانہ بنیادوں پر اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ملک کے کس شعبے کو کتنی افرادی قوت کی ضرورت ہے جس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ملک کی تمام یونیورسٹیوں کے لئے ایک کوٹہ مقرر کیا جاتا ہے اور چینی یونیورسٹیاں مقررہ کوٹے سے زیادہ طالب علموں کو داخلہ نہیں دیتیں ۔ دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک میں سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے درمیان معیارِ تعلیم میں پائے جانے والا غیر معمولی فرق بھی معاشرتی تفاوت کے ساتھ ساتھ بیروزگاری میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل نوجوانوں کی کھیپ مارکیٹ میں اچھی انگریزی بولنے والوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور بیروزگاری کا شکار ہو جاتی ہے۔اس لئے سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کے نصاب کے درمیان تفریق کو ختم کئے جانے کی سخت ضرورت ہے۔ہمارے ملک میں معاشرے اور والدین کی جانب سے کسی خاص پیشے کے انتخاب کے لئے دبائو ڈالنا بھی ایک عام سی بات ہے جس کی وجہ سے 'جو پیشہ ہم اختیار کرنا چاہتے ہیں' اور 'جو پیشہ ہم اختیار کرتے ہیں' کے درمیان زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے بہت لوگوں کی اپنی ملازمت میں دلچسپی نہیں ہوتی ۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ہر سکول، کالج اور یونیورسٹی میں کونسلر کی تعیناتی لازمی ہونی چاہیے جو سٹوڈنٹس کو ان کے ٹیلنٹ کے مطابق مضامین کا انتخاب کرنے اور ملازمت کے حصول کے لئے رہنمائی کرسکے۔ بدقسمتی کی بات یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں ماسٹر ز کرنے والے شخص کی کوئی اہمیت نہیں اور اس کا اپنا ادارہ بھی ملازمت کے حصول کے حوالے سے اس کی کوئی مدد یا رہنمائی نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر گریجویشن میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے میرے ایک ساتھی کو ہماری اپنی یونیورسٹی کی جانب سے بھی ٹیچنگ کی نوکری نہیں دی گئی۔ جب تعلیمی ادارے ہی اپنی دی ہوئی تعلیم کے بارے میں پُر اعتمادنہیں ہیں تو دیگر اداروں سے ایسی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں کو اپنی دی ہوئی تعلیم پر یقین نہیں ہے ۔ دوسری جانب ایسے بہت سے طالب علم بھی موجود ہیں جو ماسٹر ز کی ڈگری حاصل کرنے کے باوجود بھی اپنے مضمون کے بارے میں بہت کم علم رکھتے ہیں ۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ ایسے طالب علموں کو ڈگری جاری نہ کریں تاکہ پہلے سے موجود لاکھوں ڈگری ہولڈر بے روزگاروں کی تعداد میں مزید اضافہ نہ ہو۔ دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ طالب علموں کا کسی ایک شعبے میں مہارت حاصل کرنے کی بجائے مضمون تبدیل کرتے رہنا بھی بیروزگاری میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے افراد کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جو پری۔ میڈیکل یا پری ۔انجینئرنگ میں انٹرمیڈیٹ کرتے ہیں لیکن میڈیکل اور انجینئرنگ کالج میں داخلہ نہ ملنے کی وجہ سے انہیں گریجویشن میں مختلف مضامین کا انتخاب کرنا پڑتا ہے اور ماسٹرز بالکل ہی مختلف مضمون میں کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ماسٹرز کرنے کے باوجود بھی کوئی مناسب ملازمت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ہمارے ملک میںیونیورسٹیوں سے تجارت کی تعلیم حاصل کرنے والے والے نوجوان بھی نوکری کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد یہ نوجوان اپنا بزنس شروع کریں جو نہ صرف ان کے اپنے بلکہ دوسروں کے لئے بھی روزی کا وسیلہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ تعلیمی اداروںکو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور اخلاقیات پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ بے روزگاری کی وجہ سے معاشرے میں مایوسی اور بداطمینانی پھیلتی ہے جو بہت سی برائیوں کو جنم دینے کا باعث بنتی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انڈسٹریل تنظیمیں، یونیورسٹی پروفیسرز اور حکومتی اہلکار مل کر ایک ایسی پالیسی ترتیب دیں جس سے ملک سے بیروزگاری کا خاتمہ کرنے میں مدد مل سکے۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد )

متعلقہ خبریں