زوچی سیر اوڑہ اوگٹو

زوچی سیر اوڑہ اوگٹو

ہمارے گائوں کا ایک آدمی محنت مزدوری کے لئے باپ کی اجازت کے بغیر کراچی چلا گیا۔ باپ سے جب کوئی پوچھتا' بیٹا کہاں گیا ہے' باپ منہ بنا کر جواب دیتا' کراچی گیا ہے' جھک مارنے۔ اس شخص نے جھک کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا ہم نے اس کے پشتو جملے کو جھک میں ڈھال کر ایک حد تک بے ضرر بنا دیا ہے۔ اس کا پوتا بھی دادا کے منہ سے یہ جملہ بار بار سنتا رہا۔ ایک روز کسی نے اس سے پوچھا ھلکہ پلار دے سہ شو' باپ کہاں گیا ہے۔ پوتے نے بھی دادا ہی کا جملہ دہرا دیا۔ ہم اپنے کام کو خیر جھک مارنا تو نہیں کہہ سکتے البتہ صبح ناشتے کے بعد لکھت پڑھت کے لئے سٹڈی میں جاتٰے وقت انگڑائی لیتے ہوئے کہتے ہیں ' زوچی اس یو سیر اوڑہ اوگٹو'چلئے اب ایک سیر آٹا کماتے ہیں۔ ہمارے پوتے فرہنگیال خان نے بھی یہ جملہ سن رکھا ہے بلکہ اسے یاد بھی ہوگیا ہے۔ جب ہم سٹڈی جاتے وقت یہ بات بھول جاتے ہیں تو وہ یاد دہانی کے طور پر کہتا ہے' بابا! آپ سیر آٹا کمانے جارہے ہیں؟ابھی کل پرسوں کی بات ہے ایک دوست جب ہم سے ملنے آئے اور انہوں نے پوچھا بابا گھر پر ہے تو ہمارے پوتے کا فوری طور پر یہی جواب تھا' جی ہاں! سٹڈی میں بیٹھے سیر آٹا کما رہے ہیں۔ سچ پوچھئے ہم جو کام کرتے ہیں اس سے سیر آٹا کمانا تو دور کی بات ہے ایک چھٹانک بھی نہیں خریدا جاسکتا۔ خدا کا شکر ہے ہم جس کام میں گزشتہ پچاس سال سے مصروف ہیں اسے ہم نے پیشہ نہیں بنایا۔ پیشہ ہمارا درس و تدریس کا رہا۔ اسی کمائی میں لکھت پڑھت کا شغل بیکاری بھی جاری رہا اگر لکھت پڑھت تک ہی محدود ہو جاتے تو جانے ہمارا کیا انجام ہوتا۔ یہ ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ پشتو میں جس نے بھی قلمکاری کو پیشہ بنایا وہ ہمیشہ مقروض' مقہور اور نہایت ہی تنگ دستی کا شکار رہا۔ اس ضمن میں بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں لیکن میں بوجوہ ان کے نام لے کر پیش کرنے سے احتراز کرتا ہوں۔ ہمارے کئی نامور قملکار ساری زندگی تین یا چار مرلوںکے مکان میں زندگی گزارتے رہے۔ ان کی خود داری کا یہ عالم تھا کہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ دو ایک روز پہلے پیغام ملا پشتو کے ایک نامور محقق کا نام لیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ہم اپنے اخبار کا ایک خصوصی ایڈیشن ان کے نام کا چھاپنا چاہتے ہیں۔ پشتو کے یہ بہت بڑے لکھاری آج کل پشاور کے ایک مضافاتی قصبے میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ ضعیف العمری کی بے شمار بیماریوں میں مبتلا' بے حد کسمپرسی کی حالت کا سامنا ہے۔ ساری زندگی پشتو زبان و ادب کی خدمت میں گزار دی۔ یہی ان کا پیشہ رہا۔ اب ہم ان کی خدمات کے اعتراف میں اخبار کا ایڈیشن چھاپنے والے سے کیا کہتے کہ بندہ خدا' ان کی مالی امداد کے لئے مہم چلائو اور ایڈیشن چھاپنے کے بجائے انہیں زیادہ نہیں لاکھ ڈیڑھ لاکھ کی رقم پہنچا دو کہ تمہارے اخبار کا ایڈیشن ان کی بھوک ختم نہیں کرسکتا۔ اردو کی ہم بات نہیں کرتے' ہمیں اس بات کا بھی زیادہ علم نہیں کہ اردو میں قلمکاری سے پیٹ پالا جاسکتا ہے یا نہیں۔ پشتو کی حد تک تو بس جر کی مستی پر ہی گزارا کرنا پڑتا ہے۔ اس جر کو آپ عرف عام میں داد کہہ سکتے ہیں۔ اپنی کسی ادبی کاوش پر ''جر'' سن کر کچھ وقت کے لئے آنکھوں میں چمک اور چہرے پر سرخی تو ضرور نظر آتی ہے اس سے زندگی آسودہ نہیں ہوتی۔ نشریاتی اداروں یعنی ریڈیو اور ٹیلی وژن پر ادبی پروگراموں میں شرکت کا کچھ تھوڑا بہت معاوضہ ضرور مل جاتا ہے جس سے آمد و رفت کا خرچ بھی پورا نہیں ہوتا۔ یہ اتنا معاوضہ نہیں ہوتا جس سے آپ سیر اوڑہ خرید کر گھرلے جاسکیں۔ یہ جو آپ اخباروں کے ادبی صفحات پر کتابوں کی رونمائی میں پڑھے جانے والے مضامین اور تخلیقی کاوشوں پر تنقیدی نشست کی رودادیں پڑھتے ہیں۔ اطلاع کے لئے عرض کرتا چلوں' ان کے سب شرکاء کو بھی صرف داد ہی ملتی ہے' سیر آٹا نہیں۔ کسی غیر ملکی پشتو چینل پر بھی اگر آپ اپنی گفتگو میں آسمان سے تارے توڑ کر پیش کردیں معاوضہ ککھ نہیں ملتا۔ کچھ سالوں سے ہمارے ایک دوست پشتو کے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے پر پشتو میں تصوف کے موضوع پر گفتگو فرماتے ہیں' پوچھا' کچھ ملتا ہے۔ جی ہاں' ہر پروگرام کے خاتمے' بہت اچھا پروگرام ہوا' کی داد ضرور ملتی ہے۔ اردو کے ادیب اور شاعر اپنی قلمی کاوشوں کا معاوضہ پہلے سے طے کرلیتے ہیں۔ یہ انہوں نے ایک اچھی روایت قائم کی ہے۔ فراق گور کھپوری کے بارے میں ہم نے پڑھا ہے کہ وہ کسی بھی مشاعرے میں شرکت کا معاوضہ پیشگی وصول کرتے۔ کہتے ہیں کہ ایک بار دلی کے ایک مشاعرے میں سٹیج پر بیٹھنے کے فوراً بعد منتظمین سے معاوضہ طلب کیا۔ جواب ملا' مشاعرہ ختم ہونے دیجئے' پیش کردیا جائے گا۔ مشاعرے میں انڈیا کے صدر مہمان خصوصی تھے' فراق صاحب نے ان کے کان میں کہا' حضرت ان لوگوں سے ہمارا معاوضہ دلوادیجئے۔ پھر کلام پیش کروں گا اور اس طرح فراق صاحب نے غزل پڑھنے سے پہلے اپنا معاوضہ وصول کرلیا۔ ہمارے ہاں پشتو میں یہ روایت قائم نہیں ہوئی ہے بلکہ شنید ہے کہ اب تو سرکاری نشریاتی اداروں پر بھی مشاعرہ پڑھنے کا کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ پشتو کے قلمکاروں نے زبان و ادب کی ترقی و ترویج کی ساری ذمہ داری بلا معاوضہ سنبھال رکھی ہے۔ اپنے خرچ پر کتابیں چھاپتے ہیں اور پھر انہیں مفت تقسیم بھی کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر الگ کالم باندھنے کی کوشش کریں گے۔