حالات اور حکمت عملی کا پرنالہ

حالات اور حکمت عملی کا پرنالہ

ہم جس تہذیب اور ثقافت کاحصہ ہیںاس کا جدید مغربی جمہوریت سے کوئی واسطہ نہیں رہا ۔ہمارے ماضی میں جمہوری انداز کے حکمران کی داستانیںبہت کم موجود ہیں ۔اس تاریخ میںیا توخالص سپہ سالار کو اہمیت رہی ہے یا پھر ایسے حکمران کو جس کے اندر ایک بہادر سالار اور بہترین سپاہی کی خو بو موجود رہی ہو ۔ہماری تاریخ نے بھی ایسے کرداروں کورول ماڈل اور روشنی کے مینار بناکر پیش کیا ہے ۔مسلم برصغیر کا ایک بچہ اپنی تاریخ کے انہی بہادر کرداروں اور سپہ سالاروں کی کہانیاں سن سن کرشعور کو پہنچتا ہے ۔یوں اس کے ذہنی سانچوں میںسپاہی اور سپہ سالار ایک منفر دمقام و مرتبے کا حامل ہوتا ہے ۔مغربی جمہوریت نے ابھی تک مسلمان دنیا کو سیاسی اور تہذیبی استحکام اور بالادستی نہیں دی ۔ اس لئے ابھی تک یہ نظام مسلمان معاشروں میں زیادہ پرکشش بن سکا نہ اس نظام سے وابستہ لوگ معاشروں کا عمومی رول ماڈل بن سکے ۔یہی سوچ ہے کہ جب خلیج کی پہلی جنگ میں صدام حسین وردی پہن کر مکا لہراتا اور لبوں پر مسکراہٹ بکھیرتا ہوا تصویر بنواتا ہے تو بغداد کی وادیوں سے دور اسلام آباد ،کراچی اور پشاور حتیٰ کہ دہلی تک میں یہ پوسٹرگرم کیک کی طرح فروخت ہوتی ہیں۔تب انہیں اس وردی کے اندر سے اپنا شاندار عسکری ماضی اور تابناک مستقبل جھانکتا نظر آتا ہے ۔ اس لئے یہ بات ہماری گھٹی میں پڑی ہے کہ ہمیں حکمران کا فوجیانہ ،سپاہیانہ،بہادرانہ سٹائل بھاتا ہے ۔ہم نے ذوالفقار علی بھٹو کو اس وقت ٹوٹ کر چاہا جب یہ اندازہ ہوا کہ یہ وہ بہاد رشخص ہے جو عالمی استعمار ی سازشوں کے مقابل مسلمانوں کا الگ بلاک بنانے کی راہ پر چل رہا ہے ۔ہم نے شاہ فیصل سے بھی ان کی سوچ کی تہہ میں موجود استعمار دشمن جذبات کی بنا پر محبت کی اورامام خمینی بھی ہمارے دلوں کو اسی وقت بھاگئے تھے جب انہوں نے وقت کی بڑی استعماری طاقت کو ''شیطانِ بزرگ'' قرار دے کر للکارا تھا ۔اب طیب اردووان کی باتوں میں بھی ہمیں ماضی کے کسی بہادر کردار کی جھلک ملتی ہے ۔اپنی اس نفسیات اور مزاج سے دامن چھڑانا ہمارے لئے آسان نہیں کیونکہ یہ بہرحال ہمارا اجتماعی ماضی ہے ۔ جنرل راحیل شریف نے جب تیزی سے خانہ جنگی،دہشت گردی اور بکھرتے ہوئے سول سٹرکچر کے حامل ملک میں کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا تو منظر تیزی سے بدلنے لگا۔ ان کا سٹائل اور مقبولیت ان کے کام کے دائرے اور گنجائش کو بڑھاتا چلا گیا ۔شاید یہی وجہ ہے اس بار بات''جانے کی باتیں جانے دو'' کی عبارت پر مشتمل راولپنڈی کی سڑکوں پر آویزاں پراسرا ر بینروں تک محدود نہیں رہی عوام کے اندر کچھ لوگ ان کے قیام کو طوالت دینے کے خواہش مند دکھائی دینے لگے مگر وہ رخصت کیا ہوئے کہ ملک میں ایک طبقہ ان کی حکمت عملی ،سٹائل اور شخصیت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے جنرل قمر باجوہ کو ان پالیسیوں سے گریز کرنے کا مشورے دینے لگا ۔یہ وہی طبقہ تھا جس کے خیال میں ایک حاضر سروس جنرل کچھ کرے یا نہ کرے اس کی مقبولیت کے لئے ایک ٹویٹر اکاونٹ اور جنرل عاصم باجوہ کی صورت ایک ایڈمن کی ضرورت ہوتی ہے ۔بس پھر کیا ہے پاکستان کے بھولے بھالے عوام اس جنرل کے'' ٹویٹر سرامیج'' پر مر مٹنے میں لمحوں کی تاخیر نہیں کرتے ۔یہ بیانیہ فروخت ہونے سے پہلے ہی اس وجہ سے مسترد ہوا کہ امن کے نئے ادوارسے آشنا ہونے والے اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ فوجی آپریشنوں سے پہلے ملک کے حالات کیا تھے اور اس کے بعد منظر کس طرح بدلتا چلا گیا؟۔فوج کے نئے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے عہدہ سنبھالنے کے دوسرے روز ہی شمالی وزیر ستان کا دور ہ کیا اور اس کے بعد ان کی اگلی منزل کنٹرول لائن ٹھہری ۔فاٹا میں جنرل قمر جا وید باجوہ کا یہ جملہ خصوصی اہمیت کا حامل رہاکہ اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنا اہم ذمہ داری ہے ۔اسی طرح کنٹرول لائن کے دورے کے موقع پر ان کی جو گفتگو جاری ہوئی اس کے مطابق جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ قیام امن کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کیا جانا چاہیے ۔دور کی کوڑی لانے والے اسے سیاسی بیان اورملک کی داخلی سیاسی ''کنٹرول لائن'' عبور کرنے کی کوشش قرار دینے کو تیار بیٹھے ہوں گے ۔حیرت ہے کہ ابھی تک ایسا کیوں نہیں ہوا؟جنرل قمر جاوید باجوہ کا چیف آف دی آرمی سٹاف کا عہدہ سنبھالتے ہی وزیر ستان کا دورہ کرنا اندرونی اور کنٹرول لائن کا دورہ کرنا بیرونی دشمن کے خطرے کو بیک وقت اہمیت دینے کی غمازی کرتا ہے ۔اندرونی اور بیرونی دونوں خطرات الگ نہیں یہ ایک ہی دشمن کے دو الگ انداز اور منصوبہ بندی ہے ۔اس لئے کسی ایک خطرے کا ڈھول پیٹ کر اس کا ادراک اور مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ۔بہت سوں کی خواہش تھی کہ پاکستان بیرونی خطرات کے تصورات کو ہمیشہ کے لئے ترک کرتے ہوئے صرف اندرونی دشمن کے تعاقب میںدوڑتا چلا جائے ۔اندازہ ہورہا ہے کہ جنرل راحیل شریف رخصت ہوچکے ہیں مگر پاکستان کے حالات اور ان کے سٹائل کا پرنالہ اپنی جگہ موجود ہے۔جب تک خطرات اور حالات کی دلدل سے باہر نہیں آتا پاکستان کو اسی زمینی حقیقت کے ساتھ چلتے چلے جانا ہے ۔

متعلقہ خبریں