کردار و عمل کا قومی تضاد

کردار و عمل کا قومی تضاد

آپ نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے سنا ہوگا کہ زندہ رہو تو حسین کی طرح اور جان دو تو حسین کی طرح لیکن میں نے آج تک کوئی ایک مسلمان بھی ایسا نہیں دیکھا جو حسین کی طرح جیتا اور اسی کی طرح موت کو گلے لگاتا ہو۔ حق بات کرتے ہوئے لوگوں کی جان جاتی ہے تو حق کے لئے موت کو گلے لگانے کاکیا سوال؟اسی طرح لوگ اللہ کے نبیۖ سے زبانی کلامی محبت کا تو بہت دعویٰ کرتے ہیں لیکن اس کی طرح کوئی بھی زندگی گزارنے کو تیار نہیں۔

اللہ غریق رحمت کرے سید عطا اللہ شاہ بخاری کا ذوق یہ تھا کہ لوگوں کو قرآن سنا کر انہیں دین کی طرف مائل کیا جائے۔شاہ صاحب کی خوبی یہ تھی کہ جب قرآن سناتے تو لوگوں پر وجد طاری ہو جاتا،اور انہیں ایسا لگتا جیسے کائنات کی ہر شے ساکن ہو کر قرآن سن رہی ہو۔ دو دو لاکھ کے مجمعے میں خاموشی اور ادب کا یہ حال ہوتا کہ اگر ایک سوئی بھی گرتی تو اس کی آواز سنائی دیتی۔اور یہ ایک دو برس کی بات نہیں پورے پچاس برس کا قصہ ہے۔حتیٰ کہ پاکستان بننے کا نقارہ بجتا ہے۔شاہ صاحب اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان آ جاتے ہیں۔ بڑھاپا طاری ہوتاہے اور پھر رفتہ رفتہ ضعیفی۔ضعف بڑھتا ہے تو شاہ صاحب بستر سے جا لگتے ہیں۔ غالب امکان کہ 1957کا زمانہ ہے ۔شاہ صاحب اپنے پروردگار سے ملاقات کے آرزومند ہیں کہ ایک روز اخبار کا رپورٹر ان کے گھر کا پتہ پوچھتے پوچھتے دروازے پر آ موجود ہوتا ہے۔آمدن بر سر مطلب کے بعد اسے اس کمرے میں لے جایا جاتا ہے جہاں شاہ صاحب محو استراحت ہیں۔ضعف کی وجہ سے شاہ صاحب کو بولنے میں دشواری ہے مگر وہ یہ کہہ کر مہمان کا دل نہیں توڑتے کہ تم بہت دیر سے آئے ہو۔اس کے بجائے کہتے ہیں جو پوچھنا ہے پوچھو،وہ ظالم پہلے ہی مرحلے میں دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر پوچھتا ہے، پچاس سالوں کی ریاضت میں کیا پایا؟شاہ صاحب متعجب ہو کر کہتے ہیں کون سے پچاس سال؟ رپورٹر کہتا ہے وہ پچاس سال جن میں آپ نے ہندوستان کے مسلمانوں کو رات رات بھر جاگ کر قرآن سنایا؟کتنا اثر ہوا ان کے دلوں پر؟ایک آہ سرد شاہ صاحب کے منہ سے یوں نکلی جیسے دم نکل رہا ہو۔ الفاط کا چنائو مشکل ہوا۔اعلیٰ پائے کا مقرر،اپنے وقت کا بے بدل خطیب بولا تو یوں لگا آواز اس کے منہ سے نہیں کسی گہرے کنویں سے نکل رہی ہے۔ '' کچھ بھی بدلا نہ دل پھرے،ہاں مگر کبھی سوچتا ہوں اگر یہی قرآن اٹھا کر کسی پہاڑ کے دامن میں جا نکلتا،اور پچاس سال ان پتھروں کو خدا کا یہ کلام سناتا تو وہ سنگ گراں اللہ کی خشیت اور ہیبت سے ریزہ ریزہ ہو گئے ہوتے''۔ایک شخص کو میں نے دیکھا،بات کرتا تو درویش لگتا۔سب کچھ تھا مگر حلیہ فقیروں جیسا،قرآن کی ایک ایک آیت میں چھپے مفہوم و معنی کو سمجھنے والا،حدیث شناس، امام ابو حنیفہ کا مقلد مگر معاملات کا کھوٹا۔ایک وقت میں زبان پر قرآن اور حدیث اور دوسرے وقت میںزبان پر گالی یانازیبا کلام۔جھوٹ بولتا بھی اور دوسروں سے بلواتا بھی۔لوگ اس کے شر کی وجہ سے اس کی عزت کرتے لیکن اسے نہ تو کبھی اپنی بدکلامی پر شرمندگی ہوئی نہ جھوٹ بولنے پر ندامت۔ ایسے ہی '' نابغوں '' سے پاکستان بھرا پڑا ہے ۔کوئی آٹھ برس ہوتے ہیں۔میں ان دنوں ایک قومی اخبار میں بڑی پر کشش پوسٹ پر کام کر رہا تھا۔انٹر کام کی بیل بجی تو دوسری طرف چیف ایڈیٹر تھے۔ کہا میرے آفس آئیے کچھ ضروری بات کرنی ہے ۔ میں گیا تو کہنے لگے ایک بہت ہی نازک ذمہ داری آپ کے سپرد کرنی ہے۔ پھر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بولے کراچی سے حمید ہارون کا فون آیا تھا۔وہ اپنے ایک دوست کے توسط سے پاکستان آئے ایک اٹالین صحافی کو میرے پاس بھیج رہے ہیں جسے اسلام آباد پر ایک رپورٹ بنانی ہے۔ اس اٹالین صحافی کو ایک گائیڈ کی ضرورت ہے جو قابل اعتماد ہو۔ میں نے ہامی بھر لی۔ اس اٹالین کا نام رابرتو دی کارو تھا۔ بلا کا ذہین آدمی تھا۔ ایک ہفتے تک میری معیت میں اسلام آباد گھومتا رہا۔ درجنوں لوگوں سے بات کی، ان میں علمائ، صحافی،تاجر،این جی اوز کے مردوزن الغرض ہر شعبہ زندگی کے لوگ تھے۔ فلموں کی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز بیچنے والے ایک دکاندار سے سی ڈی خریدتے ہوئے پوچھا، آپ پاکستان میں کون سا نظام چاہتے ہو ،دکاندار نے جھٹ سے کہا اسلام۔رابرتو نے اسی لمحے شیلف میں لگی ایک سی ڈی پرچھپی نیم برہنہ انگلش ایکٹریس کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، پھر یہ سب کیا ہے؟ دکاندار نے بلا کسی شرمندگی کے کہا '' دس از مائی بزنس'' رابرتو نے جھٹ سے کہا '' ڈو یو مین اسلام اینڈ بزنس آر ٹو سیپاریٹ تھنگز'' دکاندار نے کہا ، یس۔ رابرتو نے مجھے متوجہ کیا، '' میں کچھ عرصہ پہلے جنگ زدہ افغانستان گیا۔ وہاں میں نے کئی لوگوں سے اسلام کے بارے میں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ مسلمان کی تجارت، معاشرت ہر شے اسلام کے تابع ہے۔ وہاں میں نے بہت کم دوغلا پن دیکھا،تمہارے ہاں تو ہر شخص ہی دوہرے معیار کا شکار ہے۔تم اپنے اخبار میں آرٹیکلز لکھو۔ میڈیا کے ذریعے اسے جھنجوڑو، ورنہ یہ برباد ہ جائے گی۔ میں نے گردن ہلائی لیکن دل میں کہا مسٹر رابرتو بات لکھنے لکھانے سے بہت آگے نکل چکی ہے۔
ڈھیر سارے واقعات ہیں اور بہت ساری ان کہی کہانیاں۔شکل مومناں ، کرتوت کافراں پر مبنی دل دہلا دینے والے قصے جن کے جیتے جاگتے کردار آج میرے اور آپ کے ارد گرد ہی موجود ہیں۔ یار زندہ صحبت باقی۔

متعلقہ خبریں