مشرقیات

مشرقیات

حضرت ابوبکر صدیق کا ایک غلام تھا ، جو کما کر لاتا تھا۔ ایک رات وہ آپ کے پاس کچھ کھانا لایا ، آپ نے اس میں سے ایک لقمہ لیا۔ غلام نے کہا کہ : کیا بات ہے ۔ آپ ہر رات سوال کرتے تھے، آج آپ نے سوال نہیں کیا ؟ (کہ یہ کھانا کہاں سے لائے؟) حضرت ابوبکر نے فرمایا: بھوک نے مجھے نڈھال کر رکھا تھا۔ تم بتائو ، کہا ںسے لائے ہو ؟ غلام نے عرض کیا : میں نے زمانہ جاہلیت میں کسی کے لئے تعویذ اور جھاڑ پھونک کیا تھا۔ انہوں نے مجھے کچھ دینے کا وعدہ کیا تھا، آج جب میں ان کے پاس سے گزرا تو ان کے ہاں شادی کا کھانا تیار تھا۔ لہٰذا اس میں سے انہوںنے مجھے بھی دے دیا۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : قریب تھا کہ تو مجھے ہلاک کر دیتا۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور کھایا ہوا قے کرنے لگے ۔ لیکن وہ نکل نہیں رہا تھا۔ کسی نے کہا : یہ پانی سے نکلے گا، آپ نے پانی کا برتن منگوایا اور پانی پی پی کر قے کرنے کی کوشش کرتے رہے ، حتیٰ کہ اس ایک لقمے کو باہر پھینک دیا۔ پھر آپ کو کسی نے کہا : اللہ آپ پررحم فرمائے ، یہ (تکلیف)اس لقمے کی نحوست سے پہنچی ۔ آپ نے فرمایا: اگر یہ لقمہ میری جان لے کر نکلتا، تب بھی میں اس کو نکالتا ، میں نے رسول اکرم ۖ سے سنا ہے ۔ آپ ۖ فرما رہے تھے ۔''ہر جسم جس نے حرام سے پرورش پائی ، جہنم اس کے لئے زیادہ مستحق ہے ''اس سے مجھے خوف ہوا کہیں میرے جسم کی معمولی پرورش بھی اس لقمے سے نہ ہوجائے۔
عام الرمادة میں سیدنا عمر فاروق کی خدمت میں گھی اور روٹی کا چورا بنا کر لایاگیا ۔ انہوںنے ایک بدوی کو بھی اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی ۔ بدوی روٹی کے ساتھ پیالے کے کناروں سے چکنائی حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ سیدنا عمر فاروق نے فرمایا: شاید تو نے عرصہ دراز سے چکنائی نہیں چکھی ۔ اس نے کہا : جی ہاں ! ہم نے مدت سے گھی اور تیل نہیں دیکھا۔ نہ کسی کو گھی اور تیل کھاتے دیکھاہے۔ یہ سن کرسیدناعمر فاروق نے قسم کھائی کہ جب تک سب لوگ خوشحال نہ ہوجائیں گے میں بھی گوشت اور گھی نہیں کھائوں گا۔ سب راوی اس بات پر متفق ہیں کہ سیدنا عمر فاروق نے اپنی قسم پوری کر دکھائی ۔ اس کا ثبوت یہ واقعہ ہے کہ ایک دفعہ بازار میں گھی کا ڈبہ اور دودھ کا کٹورا بکنے کے لئے آیا۔ سیدنا عمر فاروق کے غلام نے چالیس درہم کے عوض یہ دونوں چیزیں خرید لیں اور سیدنا عمر فاروق کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : امیر المومنین ! اللہ نے آپ کی قسم کو پورا کر دیا اور آپ کو اجر عظیم سے نوازا ۔ بازار میں یہ ڈبہ اورکٹورا بکنے کیلئے آیا تو میں نے آپ کے لئے یہ دونوں اشیاء چالیس درہم میں خرید لیں۔ سیدنا عمر فاروق نے فرمایا تو نے یہ چیزیں بہت مہنگی خریدی ہیں۔ لہٰذا ان دونوں کو صدقہ کر دے۔ میں نہیں چاہتا کہ کھانے میں اسراف سے کام لوں پھر فرمایا: مجھے عوام کے احوال کا اس وقت تک صحیح ادراک نہیں ہوسکتا۔ جب تک کہ میں خود انہی جیسے حالات سے نہ گزروں۔(تاریخ الطبری)

متعلقہ خبریں