صوابی ' پشتون دوستوں کے سوالات اور شکایات

صوابی ' پشتون دوستوں کے سوالات اور شکایات

بندہ اگر مہمان کسی پشتون دوست کا ہو تو اپنی مرضی و پروگرام کے مطابق واپسی اس کے اختیار میں نہیں رہتی۔ مسافر کے ساتھ یہی ہوا۔ صوابی میں فقط دو تین دن کے قیام کا پروگرام تھا۔ ارادہ یہی تھا کہ پھر دو تین دن پشاور میں رہوں گا۔ دوستوں سے محفلیں جمیں گی۔کچھ سنیں گے اور سنائیں گے۔ مگر دوست عزیز برادرم جہانزیب خان کا حکم صادر ہوا کہ اب آئے ہو تو رہ جائو۔ اس رہ جانے کا سبب ایک تقریب پر سعادت و خیر بھی ہوئی اس لئے دو تین دن کا قیام پورے 10دن پر پھیل گیا۔اس دوران میری صاحبزادی نے فون پر کہا بابا جانی! گھر واپسی کا کوئی پروگرام نہیں؟ جواب دیا' جان پدر مہمان تو بے زبان ہوتا اور اگر میزبان پشتون دوست ہوں تو بالکل بے زبان۔ فاطمہ بولی وہ جو آپ کبھی سید کے مزار والا قصہ سناتے تھے کچھ ایسا تو نہیں ہونے والا؟ بیٹی کی بات میں معصوم سوال پوشیدہ تھا۔ باپ قہقہے لگا کر ہنس پڑا۔ میزبانوں نے وجہ دریافت کی تو سادگی سے پوری بات سنا دی۔ آپ بھی سن لیجئے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ مدتوں قبل پشتونوں کی ایک بستی میں سید زادہ مہمان ہوا۔ بستی والوں نے اپنے سید زادے مہمان کی بساط سے بڑھ کر خدمت کی۔ بارہ پندرہ روز بعد جب مہمان نے اجازت طلب کی تو چند منچلوں نے بندوقیں تان لیں۔ مہمان حیرانی سے میزبانوں کو دیکھنے لگا پھر سوال کیا۔ خیریت کیا ہوا؟ کچھ نہیں شاہ جی' ایک نوجوان بولا ہمارے گائوں میں کسی بزرگ یا سید کا مزار نہیں ہے اس لئے سوچا ہے کہ آپ کو شہید کرکے یہاں مزار بنا لیتے ہیں۔ گائوں میں رونق لگ جائے گی۔ اس کے بعد کیا ہوا۔ راوی خاموش اور قصہ ختم۔ البتہ ہمارے ساتھ ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ مہمان تو میں اپنے تین میزبانوں اور چیف میزبان جہانزیب خان کا تھا مگر دس دنوں کے دوران یہی محسوس ہوا کہ پورے صوابی شہر کا مہمان ہوں۔ وہ تو خدا بھلا کرے بیس سال سے لگی بیماری دل کا جس نے دعوتوں کے سلسلہ ہائے دراز کو قبولیت سے بچائے رکھا۔ مگر یہ ضرور ہوا کہ دن بھر شہر کے باشعور سیاسی کارکنوں اور اہل علم کے علاوہ نئی نسل کے سنجیدہ سوالات سے اٹھے مکالمے میں وقت گزر جاتا۔ ہمیشہ سے یہی کہتا لکھتا ہوں کہ پشتونوں کا سیاسی شعور دیگر اقوام کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ اس کا ہزار ہا فیصد کریڈٹ مرحوم باچاخان' مولانا عبدالرحیم پوپلزئی' سردار عبدالرب نشتر مرحوم کو جاتا ہے۔ صوابی ان دنوں سیاسی طور پر تحریک انصاف کا لاڑکانہ ہے۔ وہی حال ہے جو اصلی لاڑکانہ کا ہے۔ سیاسی کارکن صورتحال پر رنجیدہ ہیں۔ اتنے بھاری مینڈیٹ اور اعلیٰ سطح پر نمائندگی کے باوجود اس شہر کو جس قدر ترقی کرنی چاہئے تھی اس کا دور دور تک امکان نہیں۔ آپ جس سے بھی بات کریں گے وہ شکایات کا دفتر کھول کر بیٹھ جائے گا۔ نوجوانوں کو شکایت ہے کہ روز گار کے مواقع بہت کم ہیں جبکہ تحریک انصاف کی قیادت نے وعدے بہت زیادہ کئے تھے۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال صوابی بارے عمومی رائے یہ ہے کہ یہ ہسپتال کم اور ''ریفرمرکز'' زیادہ ہے۔ ڈاکٹروں اور عملے کے پاس نسخہ کیمیا یہ ہے کہ مریض کو فوری طور پر پشاور ریفر کردیا جائے۔ سکولوں میں قائم کئے جانے والے ''تھیم پارک'' پر اٹھنے والے سرکاری اخراجات پر سوالات ہیں۔ سو اگر لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ تھیم پارک کے لئے جو سامان از خود خریداری کی صورت میں 55ہزار روپے میں دستیاب ہوتا تو وہ کون ہے جس کے لئے فی سکول ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کی منظوری دی گئی۔ وہ بھی یوں کہ رقم ہیڈ ماسٹروں کے اکائونٹ میں ٹرانسفر ہوگی۔ سامان پشاور سے آئے گا ہیڈ ماسٹر کو فقط بل ادا کرنا ہے۔ اسی طرح ایک سوال پینے کے پانی کے لئے لگائے جانے والے ہینڈ پمپ پر اٹھے والے اخراجات (سرکاری طور پر منظور شدہ) کے حوالے سے بھی ہے۔دو لاکھ میں تو بہت زیادہ اخراجات کے ساتھ دو پمپ لگ سکتے ہیں۔ مگر اس رقم سے برسر زمین ایک پمپ لگتا ہے۔ کیا تبدیلی اسی کو کہتے ہیں؟ یہ سادہ سوال ہر شخص نے دریافت کیا اور بہت سارے سوالات اور شکایات ہیں۔ ان پر کئی کالم لکھے جاسکتے ہیں۔ 8ہزار روپے کینال خریدی گئی زمین سرکار کو لاکھوں روپے کینال میں فروخت کرنے کا قصہ اور سپیکر پختونخوا اسمبلی کا نام زبان زد عام ہے۔ تفصیل اس قصے کی پھر عرض کروں گا فی الوقت تو یہ ہے کہ صوابی کے اجلے انسان دوست اور با شعور سیاسی کارکنوں کے درمیان دس دن گزار کر گھر واپس لوٹ آیا ہوں۔ اسد علی یوسفزئی' صفدر علی' معروف ماہر تعلیم مشتاق احمد' صحافی جلیل خان اور دیگر احباب کے ساتھ پر رونق محفلیں لگیں۔ دنیا جہان کے موضوعات پر سوالات تھے اور ایک مہمان۔ ہر سوال کاجواب لازم تھا۔ اپنے مطالعے اور مشاہدے کی بنیاد پر عرض کرتا۔ صوابی میں قیام کے دنوں میں ہی دو جلسوں کی رونق بھی دیکھی۔ پہلا جلسہ تحریک انصاف کا تھا جس سے عمران خان اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے خطاب کیا ' دوسرا جلسہ جمعیت علمائے اسلام(ف) کا جلسہ جواب آ ں غزل کی صورت تھا۔ تحریک انصاف والے دعویٰ کرتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کو خیبر پختونخوا میں عوامی جلسے کرنے کے لئے فنڈنگ شریف خاندان نے کی ہے۔ مولانا کہتے ہیں وہ اسلام کے تحفظ کا مشن لئے عمران خان کا تعاقب کر رہے ہیں۔ اسی دوران امیر حیدر ہوتی نے بھی صوابی میں ایک دو تقریبات سے خطاب کیا اور بلند انداز میں مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا۔ صوابی میں دس روزہ قیام کے دوران پشاور کی طرح چند گھنٹوں کے لئے ہی مردان جا پایا جہاں عزیزم و قاص بٹ ایڈووکیٹ اور ان کے ترقی پسند ساتھیوں سے چند گھنٹے کی نشست رہی۔ مختلف نشستوں میں جاری رہنے والے مکالموں سے طالب علم نے بہت کچھ سیکھا۔ کاش دوسرے صوبوں میں بھی پختونخوا کی طرح سیاسی شعور اجاگر ہوسکتا۔

متعلقہ خبریں