امریکہ کی ڈومور کی پھر تکرار

امریکہ کی ڈومور کی پھر تکرار

دو روز قبل شمالی وزیرستان کے دورے کے موقع پر اسے نا قابل یقین قرار دینے اور پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرنے والے امریکی سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں پانچ رکنی سینیٹرز کے وفد کا کابل پہنچتے ہی حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی اور پاکستان پر رویہ بدلنے کاکہنے کا بیان غیر متوقع نہیں بلکہ امریکی ہر سر زمین پر قدم رکھتے ہی گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کے لئے معروف ہیں۔ ہر میزبان ملک کا ان سے نیاز برتنا اور ان کے الفاظ کی جادو گری کو نظر انداز کرنا مجبوری ہے یا مصلحت اس راز سے تو حکمران ہی واقف ہوں گے لیکن دنیا کے ممالک کے عوام کم و بیش امریکی حکومت کی پالیسیوں اور ان کے سفارتکاروں و حکمرانوں و سیاستدانوں کے بیانات اعلانات اور اقدامات کو تقریباً یکساں نظر سے دیکھتے ہیں گویا ان کی حقیقت ان کو پہلے سے معلوم ہو یا پھر دنیا کے بیشتر ممالک کے عوام کے تجربات مشترک ہوں۔ جان مکین اور سینٹروں کاوفد اگر وزیرستان کے دورے کے موقع پر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا بیان دیتے اور اس ضمن میں پاکستان کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتے تو یہ ایک سنجیدہ اقدام کے زمرے میں آتا لیکن یہاں پر تو ان کو اطمینان ہوتا ہے اور افغانستان جا کر ان کو یاد آتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک فعال ہے۔ حقانی نیٹ ورک کا وجود ایک معمہ رہاہے۔ اس غیر مرئی نیٹ ورک کا چرچا تو بہت ہوتاہے مگر القاعدہ اور طالبان کے سر گرم لیڈر گرفتار بھی ہوتے ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں مگر حقانی نیٹ کے خلاف ڈرون حملوں میں تو کسی کے مارے جانے کا نیم مصدقہ بیان تو جاری ہوتا ہے مگر ٹھوس شواہد کے ساتھ کوئی موثر کارروائی کم ہی ہوئی ہوگی ۔ پاکستان کی سرزمین پر حقانی نیٹ ورک کا جو غیر مرئی وجود امریکہ اور افغانستان کو کھٹکتا ہے اس کی موجودگی کی اگر نشاندہی اور ٹھکانوں کے بارے میں اگر پاکستان کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرکے ان کی تباہی کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے تبھی امریکہ اور افغانستان کو شاید اطمینان ہو لیکن ایسا کرنے سے وہ خود گریزاں ہیں جبکہ پاکستان کا موقف یہی رہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کا کوئی وجود نہیں اور اگر طالبان کے بھیس میں ان کا کوئی وجود تھا تو وہ کامیاب آپریشن ضرب عضب کے بعد اب مٹ چکا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ اور افغانستان کی حکومت افغانستان میں نہ تو ان کو مطلوب حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کو مطلوب دہشت گرد گروپوں کے خلاف اقدامات کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔ اب جبکہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستان کے ساتھ مشترکہ آپریشن امریکہ کی نگرانی میں کرنے پر اتفاق کاعندیہ دیا گیا ہے۔ جان مکین کا عدم اعتماد پر مبنی بیان از خود اس معاملے کو ناکام بنانے کی دانستہ و نا دانستہ کوشش ہے۔ سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ ایک جانب مشترکہ مساعی پر اتفاق کیاجاتاہے اور دوسری جانب ان مساعی میں شرکت دار ایک اہم فریق پر الزمات عائد کرکے نہ صرف ماحول کو مکدر کیاجاتا ہے بلکہ یہ تاثر بھی دیا جاتا ہے کہ مذکورہ فریق ہی در اصل باعث توجہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ساری صورتحال میں اولاً اعتماد کی فضا کا قیام ہے۔ جب تک امریکہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد کی فضا قائم نہ ہوگی خطے میں قیام امن اور استحکام امن کی مساعی آگے نہیں بڑھ سکتیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان خاص طور پر دو پڑوسی ممالک اور مسئلے سے جڑے اصل فریق ہونے کے ناتے اس امر پر اتفاق کی ضرورت ہے کہ وہ کسی بالا دست فریق کی نگرانی اور منشاء کی بجائے اگر باہم مل بیٹھ کر طریقہ کار وضع کریں اور سرحد کے دونوں جانب اور متصل سرحدی علاقوں میں پوری دیانتداری کے ساتھ فساد کی جڑوں کے خاتمے کی سعی کریں گے۔ پاکستان نے جس طرح قبائلی علاقوں میں مختلف چھوٹے بڑے اور بالآخر حتمی آپریشن کرکے دہشت گردوں کا صفایا کیاتفصیلی اور تطہیری عمل کی تکمیل کے بعد بھی نگرانی کا سخت عمل جاری رکھا ہوا ہے جب تک افغانستان بھی اپنے علاقوں میں اس قسم کے سنجیدہ اور ٹھوس بنیادوں پر مبنی اقدامات نہیں کرے گا افغانستان میں قیام امن خواب ہی رہے گا ۔ چونکہ امریکہ نیٹو اور ایساف فورسز کی موجودگی میں محولہ نوعیت کے اقدامات نہ کئے گئے یا نہ کئے جاسکے اس لئے افغان فوج کے پاس اتنی استعداد ہی شاید نہ ہو کہ وہ اپنے طور پر کوئی بڑی کارروائی کرسکیں اور مشکلات سے بھرپور دور دراز کے مقامات پر پھیلے ہوئے عناصر کا صفایا کرسکیں۔ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں امریکی نگرانی میں آپریشن اگر اعتماد سازی کی سیڑھی کا پہلا زینہ بن سکتا ہے تو اس سے توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں بصورت دیگر یہ بھی لا حاصل ہی گردانا جائے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی مقامات کو کلیئر کرنے کے بعد سرحدوں پر خندقوں کی کھدائی اور باڑ لگا کر نگرانی کے عمل کو موثر بنایا جائے تو کم از کم دونوں ممالک کے درمیان موجود غلط فہمیوں میں کمی آئے گی اور دہشت گردوں کی آمد ورفت بھی آسان نہ رہے گی۔ ہمارے تئیں دونوں ممالک کے لئے سرحدی آمد ورفت باضابطہ بنا کر ہی دہشت گردوں کی روک تھام اور باہمی تعلقات میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ اس ضمن میں امریکہ کو بھی اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ امریکہ ڈو مور کی تکرار کی بجائے معروضی حقائق کا ادراک کرے۔ پاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں کا اقرار کرے اور خود افغانستان میں اپنی نا کامیوں کابھی جائزہ لینے کے بعد افغان حکومت کو بھی اپنے معاملات کے حل میں ناکامی کا جائزہ لینے پر آمادہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

متعلقہ خبریں