وزیر اعلیٰ کا ریپڈ بس منصوبے بارے عزم کا اعادہ

وزیر اعلیٰ کا ریپڈ بس منصوبے بارے عزم کا اعادہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے ریپڈ بس منصوبے کی بروقت تکمیل کے حوالے سے عزم کے حوالے سے کسی شک و شبے کے اظہار کی گنجائش نہیں لیکن میڈیا پر ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ صوبائی حکومت ریپڈ بس منصوبے پر کام کا آغاز یکم اگست کی بجائے اگست کے اواخر یا ستمبر میں شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وزیر اعلیٰ اگر بروقت تکمیل کے عزم کے اظہار کے ساتھ اس کی وضاحت کرتے تو شکوک و شبہات کی گنجائش باقی نہ رہتی۔ ریپڈ بس منصوبہ ایک مشکل' پیچیدہ اور صوبے کی تاریخ کا اہم ترین صوبائی منصوبہ ہے جس کا سہرا موجودہ حکومت کے سر اس وقت ہی بندھ سکتا ہے جب صوبائی حکومت اس کی تکمیل کو یقینی بنائے گی۔ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لئے بروقت اور منصوبے کے مطابق کام کا آغاز ضروری ہے۔ اولاً اس منصوبے پر کام کا آغاز جولائی سے ہونا تھا پھر اگست کی تاریخ دی گئی۔ اب ستمبر کی شنید ہے مدت تکمیل کے حوالے سے بھی وزیر اعلیٰ چھ ماہ کی مدت میں چاہتے ہیں جبکہ ٹینڈر اور دیگر کاغذات میں ایک مرتبہ آٹھ ماہ لکھا گیا تو وزیر اعلیٰ نے برہمی کا اظہار کیا اس طرح ممکن ہے درون خانہ اس ضمن میں صورتحال مزید مختلف ہو۔ ہمارے تئیں اس منصوبے پر کام کا آغاز کرنے کی ایک دن کی بھی گنجائش نہیں کیونکہ یہ امر اس کی بروقت تکمیل کے لئے تو ضروری ہے ہی عوام بھی اس منصوبے پر کام کے آغاز کے شدت سے منتظر ہیں۔ لہٰذا اس منصوبے کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پنے اعلان کے مطابق ترجیح اول ہی نہ رکھیں بلکہ اس منصوبے پر کام شروع کرانے میں تفصیلات اور جزئیات سے خود کو مسلسل با خبر رکھیں۔ جب تک اس د رجے کی دلچسپی اور نگرانی نہیں رکھی جائے گی اس کا بروقت آغاز اور بروقت تکمیل یقینی نہیں ہوسکتا۔
محفوظ پولیو مہم کیلئے ،وسیع تر عوامی تعاون کی ضرورت
خیبر پختونخوا میں پولیو وائرس کی روک تھام کیلئے مسلسل مہمات کے سلسلے کے طور پر صوبے کے حساس اضلاع میںانسداد پولیو مہم کے سلسلے میں 10جولائی سے11اضلاع بشمول پشاور میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے اور ایک سال تک کی عمر کو انجکشن لگانے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔ مقام اطمینان یہ ہے کہ گزشتہ سالوں کی نسبت امسال کی پہلی شش ماہی کے دوران صوبے اور اس سے متصل فاٹا کی ایجنسیوں اور ایف آرز میں پولیو کاایک بھی کیس سامنے نہیں آیا۔ بچوں کو پولیو قطرے پلوانے سے انکار کا رویہ مسلسل درد سر ہے۔ تمام تر کوششوں کے باوجود بعض والدین اب بھی اس پر تیار نہیں صرف یہی نہیں بلکہ پولیو ٹیموں کو نشانہ بنانے پر مبنی مذموم اقدامات بھی ہوتے رہے ہیں اس وقت جبکہ پولیو مہم شروع ہونے جارہی ہے ایک مرتبہ پھر اس طرح کی صورتحال سامنے آئی ہے۔ پولیو مہم کے دوران قتل و فائرنگ کے واقعات کے پیش نظر ہمیشہ سے مثالی حفاظتی اقدامات کئے جاتے ہیں۔ مگر کہیں نہ کہیں دشمن عناصر کو موقع مل جاتا ہے ۔ محولہ صورتحال کے پیش نظر ایک مرتبہ پھر تمام اضلاع میں پولیو ورکرز کی حفاظت کے لئے نہ صرف برموقع اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ ابھی سے ان علاقوں میں مشکوک عناصر کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ نگرانی کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ جن علاقوں میں خطرات زیادہ ہوں وہاں پولیو مہم کے آغاز سے قبل باقاعدہ تطہیری آپریشن اور تلاشی کی کارروائیاں کرنے کی ضرورت ہے جبکہ دیگر علاقوں سے ان مقامات کی طرف دہشت گردوں کی مراجعت کے امکانات کو بھی معدوم کرنے کو یقینی بنانا ہوگا۔ صوبائی دارالحکومت پشاور کے مضافاتی علاقوں شیخ محمدی' بڈھ بیر اور خیبر ایجنسی سے متصل علاقوں اور ایف آرز میں خاص طور پر تطہیری اقدامات کئے جائیں۔ پولیو مہم کے دوران جہاں پولیو ورکروں کے ڈیوٹی کے مقامات کے ارد گرد اور ان کو گارڈز کی فراہمی پر توجہ ضروری ہوگی وہاں اس روز اور اس سے قبل پورے صوبے میں خاص طور پر ہائی الرٹ کی صورتحال رکھ کر ہی پولیو مہم کی بحفاظت تکمیل ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ اس موقع پر عمائدین علاقہ اور عوام کا انتظامیہ سے تعاون خاص طور پر ضروری ہے۔ جب تک معاشرے سے پولیس کو مکمل سپورٹ نہیں ملے گی اور مشکوک عناصر کی نشاندہی کا فریضہ خوش دلی اور قومی فریضہ سمجھ کر انجام نہیں دیا جائے گا اس وقت تک مکمل طور پر محفوظ پولیو مہم ممکن نہ ہوگی۔

متعلقہ خبریں