جان مک کین! اِدھر کچھ اور اُدھر کچھ

جان مک کین! اِدھر کچھ اور اُدھر کچھ

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ واشنگٹن کے بعد امریکی سینیٹ کی آرمڈ فورسز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان مک کین سینیٹ کے ارکان کے ایک وفد کے ہمراہ پاکستان آئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ (کشمیر کے تنازع کے بارے میں مودی ٹرمپ مشترکہ پریس کانفرنس میں کوئی ذکر نہ ہونے پر پاکستان میں مایوسی کا اظہار کیا جارہا تھا) انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں پر مظالم کے حوالے سے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقے کا دورہ بھی کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں اور قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکہ کا اتحادی ہے۔ البتہ وہ موسم کی خرابی کے باعث لائن آف کنٹرول کا دورہ نہ کر سکے جہاں وہ بھارتی فوج کے تقریباً روزانہ کے حملوں کی زد میں آنے والے مکانات کو دیکھ سکتے اور ان لوگوں کے عزیزوں سے بھی مل سکتے جو بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہو چکے ہیں ۔

جان مک کین کے جنوبی وزیر ستان کے دورے سے چند گھنٹے پہلے ایک واقعہ پیش آیا جس میں امریکی ڈرون کے ایک گاڑی پر حملے میں چار افراد مارے گئے جن میں سے ایک کے بارے میں کہا گیا کہ اس کا نام پیر آغا تھا اور وہ داعش کا کمانڈر تھا۔ اس کے باوجود امریکی سینیٹ کے ارکان نے جنوبی وزیر ستان کا دورہ کیا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کی نظر میں بھی پاک فوج کی نظر میں بھی آپریشن ضرب عضب کے بعد حالات معمول پر ہیں اور علاقے میں تحریک طالبان پاکستان کے بعد داعش کا اگر کوئی وجود ابھرا ہے تو وہ اِکا دُکا عناصر کی حد تک محدود ہے۔ جن کے بارے میں یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ موصل میں داعش کی حالیہ ہزیمت کے بعد فرار ہو کر جنوبی وزیرستان آئے ہوں۔ اس ساری روداد سے لگتا ہے کہ سینیٹر جان مک کین اور ان کا وفد دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں سے مطمئن ہو کر افغانستان روانہ ہوا۔ یہ سب کچھ دہرانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ جان مک کین جب اسلام آباد سے کابل پہنچے تو ان کا لب و لہجہ اور گفتگو یکسر بدل گئی۔ انہوں نے ایک بار پھر پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان پر یہ واضح کر دیا ہے کہ ہم پاکستان سے توقع رکھتے ہیں کہ خاص طور پر حقانی نیٹ ورک کے خلاف اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف تعاون کرے یہ تو امریکی پہلے بھی کہتے رہے ہیں لیکن سینیٹر جان مک کین نے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ملاقات کے بعد کہا کہ اگر وہ (پاکستان) اپنا رویہ نہیں بدلیں گے تو ممکن ہے امریکہ کو پاکستان کے بارے میں بطور ریاست رویہ تبدیل کرنا پڑے۔ جہاں تک حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کی بات ہے جنرل قمر جاوید باجوہ یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب کے دوران تمام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور پاکستان میں کسی دہشت گرد تنظیم کا وجود نہیں ہے۔اِکادُکاروپوش عناصر کے خلاف آپریشن ردالفسا د کے تحت کارروائی جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اگر حقانی نیٹ ورک کا کوئی وجود باقی ہے تو یہ افغانستان ہی میں کہیں ہے۔ افغانستان میں اگر تحریک طالبان پاکستان کے ہزاروں عناصر پناہ لے سکتے ہیں اور بھارت کی ایجنسی را ان کی کفالت اور اسلحہ بندی جاری رکھ سکتی ہے۔ اگر گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی سالہا سال اقوام متحدہ کی پابندیوں اور امریکی اور افغان حکومت کی مخالفت کے باوجود افغانستان میں قائم رہ سکتی ہے ، افغانستان میں داعش اور افغان طالبان کی جھڑپیں اس بات کی گواہ ہیں کہ داعش کا وجود بھی افغانستان میں ہے۔ دیگر دہشت گرد تنظیموں کے عناصر بھی افغانستان میں موجود ہیں تو حقانی نیٹ ورک افغانستان میں کیوں نہیں ہو سکتا۔ اگر امریکی انٹیلی جنس جنوبی وزیرستان میں پیر آغا ایسے داعش کے معمولی رکن پر نظر رکھ سکتی ہے اور اسے نشانہ بنا سکتی ہے تو حقانی نیٹ ورک کو کیوں تلاش نہیں کر سکتی؟ افغانستان اس لیے دہشت گرد تنظیموں کی جنت ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام ہے۔ یہ عدم استحکام ان بین الاقوامی مافیاز کے لیے ضروری ہے جو منشیات' اسلحہ اور معدنیات کی سمگلنگ کرتی ہیں اور اس کے لیے افغان وار لارڈز اور بااثر افراد کو خوش رکھنے کا بندوبست کرتی ہیں۔ جان مک کین نے پاکستان کے بارے میں یہ سخت لب و لہجہ اس وقت اختیار کیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر دفاع میٹس کو افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد میں اضافے کی اجازت دے دی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی نیٹو کی 13ہزار فوج میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اشرف غنی کہتے ہیں کہ پاکستان کی امداد و حمایت کے بغیر افغان طالبان دو ماہ تک بھی اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتے۔ ان حالات میں یہ خدشہ دورازکار نہیں ہے کہ افغانستان میں ایک بار پھر خونریزی ہوسکتی ہے جس کا اثر ظاہر ہے کہ پاکستان پر براہِ راست پڑے گا۔ اس لیے پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے قدم کے طور پر پاک افغان سرحد کی باڑھ بندی کا کام جس قدر جلد ممکن ہو مکمل کیا جائے۔ تاکہ افغانستان میں کسی کارروائی کے نتیجے میں ایک بار پھر افغان مہاجر پاکستان کا رخ نہ کریں۔ اس کے بعد امریکہ کو یہ مشورہ دیا جانا چاہیے کہ افغانستان میں چارفریقی انتظام کے تحت قیام امن کی کوشش کی جانی چاہیے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بااختیار اور بااثر لوگوں کا نفوذ ختم کرنے کی سفارش کی جانی چاہیے کیونکہ اس عنصر کی موجودگی میں افغانستان میں امن تادیر قائم نہیں رہ سکے گا۔

متعلقہ خبریں