لوگ چوری کرتے ہیں

لوگ چوری کرتے ہیں

چلئے بات پطرس کے مشہور زمانہ مضمون '' مرحوم کی یاد میں'' سے شروع کرتے ہیں۔ ایک روز انہوں نے اپنے دوست مرزا سے کہا۔ مرزا صاحب ایک موٹر خریدنے لگا ہوں۔ مرزا بولے' تم نے کیا کہا؟ کیا خریدنے لگے ہو؟ مرزا کے اس سوال کا انہوں نے برا مانا اور جواب میں کہا۔ اس وقت جو تمہاری ذہنی کیفیت ہے اسے عربی زبان میں حسد کہتے ہیں۔ مرزا کہنے لگے نہیں یہ بات نہیں' میں تو صرف خریدنے کے لفظ پر غور کر رہا ہوں تو میاں خریدنا تو ایک ایسا فعل ہے جس کے لئے روپے وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے' وغیرہ کا بندوبست تو بخوبی ہو جائے گا لیکن روپے کا انتظام کیسے کرو گے۔ سوچنے لگے واقعی یہ نکتہ تو انہیں سوجھا ہی نہ تھا۔ چنانچہ ہمت نہ ہاری اور جواب دیا' میں اپنی کئی قیمتی اشیاء بیچ سکتا ہوں ۔ مرزا نے پوچھا کون کون سی مثلاً؟ کہا ایک تو میں اپنا سگریٹ کیس بیچ دوں گا' مرزا بولے' چلو دس آنے تو یہ ہوگئے' باقی اڑھائی ہزار کا انتظام بھی اسی طرح ہو جائے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ یاد رہے یہ0 3کی دہائی کی بات ہے اس زمانے میں گاڑی کی قیمت ڈھائی تین ہزار روپے ہوتی تھی۔ مرزا کی کٹ حجتی سے بے زار ہو کر خاموش ہوگئے' کافی غور کیا۔ یہ بات مگر سمجھ میں نہ آئی کہ لوگ یہ روپیہ کہاں سے لاتے ہیں آخر اس نتیجے پر پہنچے کہ لوگ چوری کرتے ہیں اس سے انہیں ایک گونہ اطمینان ہوا۔ یہ اقتباس پیش کرنے سے ہماری مراد یہ تھی کہ ہم جب اپنے گرد وپیش میں پھیلے ہوئے کروڑوں روپے کے پلازے دیکھتے ہیں ان میں کروڑوں روپے کی اشیاء پر نظر پڑتی ہے۔ جریبوں پر پھیلی پر آسائش کوٹھیوں' بنگلوں اور فارم ہائوسز کے بارے میں سوچتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ ان کوٹھیوںمیں بیش قیمت چمچماتی گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں یہ لوگ موسمی شدائد سے پناہ لینے کے لئے یورپ کی خوشگوار فضائوں کی طرف نکل جاتے ہیں۔ تو ذہن میں خیال آتا ہے کہ حیات مستعار کے مختصر عرصہ میں حلال کی کمائی سے کیا سب کچھ ممکن ہے؟ ابھی گزشتہ دنوں ایک خاتون پرائیویٹ ٹی وی چینل کے کسی پروگرام میں بڑے فخر سے بتا رہی تھی ہم نے اپنی شادی کی چالیسویں سالگرہ بیرون ملک منانے کا فیصلہ کیا۔ شوہر جس ملک میں جانا چاہتے تھے وہاں کاٹمپریچر شادی کی خوشگوار یادوں کے لئے مناسب نہ تھا۔ چنانچہ ہم نے تمام دنیا کے ممالک کا ٹمپریچر معلوم کیا اور پھر ہمیں بہاما کے جزائر کا موسم موزوں لگا۔ وہاں ایک ماہ کے لئے چلے گئے۔ اسی طبقے کی ایک نوجوان خاتون کا بیان پڑھا۔ انہیں کچھ نفسیاتی عارضے لاحق تھے۔ امراض دماغی کے ماہر نے ان سے پوچھا' آخر تمہارا مسئلہ کیا ہے۔ یہی تو میرا مسئلہ ہے کہ میرا کوئی مسئلہ نہیں۔ ان کا جواب تھا میں چاہوں تو لنچ کے لئے دبئی چلی جاتی ہوں۔ اسی شام ڈنر کے لئے لندن جانے میں کوئی پرابلم نہیں ہوتا' تو پھر؟ پھر یہ کہ ڈاکٹر صاحب مجھے پھر بھی ذہنی سکون حاصل نہیں۔ میرے لئے کوئی مسئلہ تجویز کریں۔ ایسا کوئی کام بتائیں کہ میں کرنا چاہوں اور نہ کرسکوں۔ مجھے بتائو' میں کیا کروں؟ ڈاکٹر اس خاتون کو ان کے حسب حال کوئی مفید مشورہ نہ دے سکا صرف کچھ سکون آور ادویات ہی تجویز کرسکا۔ وہی سکون آور ادویات جو ایک خاتون کے پرس میں پڑی تھیں جب وہ اپنے ذاتی طیارے میں سوار ہونے لگیں تو ائیر پورٹ کے سیکورٹی حکام نے ان سے طیارے میں بیٹھنے سے پہلے ان ٹیبلٹس کا نسخہ طلب کیا جو ان کے پاس موجود نہ تھا۔ فوری طور پر ان کے لئے نسخے کا بندوبست کیا گیا۔ تب جا کر انہیں طیارے کے اڑان کی اجازت ملی۔ یاد رہے کہ وہ خاتون اپنے ایک سوٹ کا کپڑا واپس کرنے کے لئے جو انہیں پسند نہیں آیا تھا دبئی جا رہی تھیں۔ جبھی تو پطرس کو جو اتفاق سے ہماری طرح ایک استاد تھے طبقاتی معاشرے کی اونچ نیچ کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ لوگوں کے پاس بے تحاشا دولت کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ چوری کرتے ہیں۔ چوری ہی نہیں کرتے خست بھی کرتے ہیں۔ چوری کے مال پر ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ چوری کا مال ایسے کونے کھدروں میں محفوظ کردیتے ہیں جن کا ان کے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہوتا۔ جب ان سے اس بے تحاشہ دولت کے بارے میں حساب کتاب طلب کیا جاتا ہے تو ان کے پاس اس کا کوئی تشفی بخش جواب نہیں ہوتا۔ عجیب بات یہ ہے کہ ان میں سے بعض کو اپنے بزرگوں کا آخری دیدار تک بھی نصیب نہیں ہوتا۔ ارب پتی وارث اپنے بزرگ کی میت کو کندھا دینے سے بھی محروم رہتے ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ حرص و لالچ ہی ایک ایسا نامراد ذہنی عارضہ ہے کہ علاج کرنے سے اس میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ وہ پھر بھی چوری سے باز نہیں آتے۔ پطرس جیسے حساس لوگ جب ایسے لوگوں کی دولت کو دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ان کے پاس مال و دولت کے یہ خزانے کہاں سے آئے تو اس سوال کا ان کے پاس یہی ایک جواب ہوتا ہے یہ لوگ چوری کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں