پھر وہی ہم ہیں وہی تیشئہ رسوائی ہے

پھر وہی ہم ہیں وہی تیشئہ رسوائی ہے

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ، اس کا اطلاق دونوں جانب ہوتا ہے ، نسلی عصبیت کے زعم میں مبتلا اس خوش فہم شاعر نے پختونوں کے خلاف اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے جو مغلظات بکی ہیں ، ان سے اس کے علاوہ پی ٹی وی کے مشاعر ے میں بیٹھے ہوئے سامعین اور مشاعر ے کو ٹی وی پر نشر یہ کے وقت بھی مزید کچھ لوگوں نے یقینا حظہ تو اٹھا یا ہوگا اور شاید پختونوں کے خلاف تو ہین آمیز الفاظ پر ان کے دل میں تسکین کے جذبات بھی امڈ آئے ہوں گے مگر چند لمحوں کی خوشی سمیٹنے اور خود پر واہ واہ کے ڈونگرے برستے دیکھنے والے کو شاید اپنے الفاظ کے نتائج کا علم ہی نہیں تھا کیونکہ اس مشاعرے کے پی ٹی وی جیسے قومی ادارے سے آن ائیر ہونے کے بعد پختونوں نے پوری دنیا سے جس قسم کے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا پر یہ احتجاج اسی طرح جاری ہے ، حالانکہ اب تو یہ خبر یں بھی سامنے آچکی ہیں کہ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے بھی اس پروگرام کا سخت نوٹس لے کر انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور پشتونوں کی دل آزاری کرنے والے شاعر پر تاحیات پی ٹی وی کے پروگراموں میں شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ جبکہ متعلقہ پروڈیوسر کو چارج شیٹ کرنے کا حکم دے دیا ہے ، تاہم میں صرف ایک شخص کی گھٹیا حرکت کا ذکر کرتے ہوئے اس کے جن نتائج کا تذکرہ کر رہا تھا وہ یہ کہ سوشل میڈیا پر اس قوم کو رگیدا جارہا ہے جس کے ساتھ تعلق رکھنے والے مسخرے اور بھانڈنما شاعر نے بنا سوچے سمجھے خواہ مخواہ پختونوں کی رگ حمیت کو چھیڑنے کی مذموم حرکت کر کے خود اپنی قوم کی توہین کا سامان کر لیا ۔ اس لئے تو میں اس قوم سے کہتا ہوں کہ یہ شخص تو یکے از دشمنان قوم ہی ہو سکتا ہے جس کی نازیبا حرکت سے اس کی پوری قوم کو توہین آمیز الفاظ کے ساتھ یاد کیا جارہا ہے ۔ اس شخص کو صرف ایک بات یاد کرانا ضروری ہے کہ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت ہم پر واضح ہوتی ہے کہ دنیا میں فاتح قوموں نے ملکوں کو فتح کرنے کے بعد مفتوح قوموں کے ساتھ کیا سلوک کیا ، مردوں کو غلام بنایا ، بوڑھوں کو تہ تیغ کیا ، بچوں کو یا تو قتل کر دیا یا انہیں بھی مستقبل کے غلاموں میں شامل کر کے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو متیع قوم کے مردوں کے ساتھ روا رکھا اور عورتوں کو لونڈیاں بنا کر ان کی خرید و فروخت کی منڈیا ں قائم کیں ۔ یہ تاریخ کا جبر بھی ہے اور تلخ حقیقت بھی ۔ اس لئے اس شخص کو ، جس نے اپنی شاعری سے پختونوں پر طنز و تشنیع کے تیر چلائے یہ بات ضرور ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ اگر بقول اس کے یہ جاہل ،اجذاور نسوار کھانے والے پختون اپنی نسلوں کی قربانی دے کر روسی استعمار کو واپس دریائے آمو کے پار واپس نہ بھجواتے تو ان کا اگلا پڑائو دریائے سندھ کو پار کر کے اپنی حدود کو وسیع کر کے وہاں اپنے لئے عشرت کدے بنا کر نہ جانے کتنی نسلوں کو پراگندہ کرنا تھا ۔ اس لئے اس بھانڈ کو پختونوں کا شکر گزار ہونا چاہیئے جن کی لازوال قربانیوں نے دریائے سندھ کے اس پار گرم پانیوں تک پہنچنے کی حسرت دل میں لئے ہوئے واپس دریائے آموسے گزر کر اپنی شکست پر آٹھ آٹھ آنسو بہانے والوں کو اپنے لئے عشرت کدوں کی تعمیر کا خواب چکنا چور ہوتے دیکھا ۔ ایک پختون شاعر مرحوم مقبول عامر نے کیا خوب کہا تھا 

پھر وہی ہم ہیں وہی تیشئہ رسوائی ہے
دودھ کی نہر تو پرویز کے کام آئی ہے
ابتداء میں جو مصرعہ لکھ کر میں نے گزارش کی تھی کہ اس کا اطلاق دونوں جانب ہوتا ہے تو اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایک شخص کی حماقت یا بے وقوفی سے جس صورتحال نے جنم لیا اور سوشل میڈیا پر پختونوں نے اپنے شدید جذبات کا اظہار کرتے ہوئے پشتو اور اردو میں جن الفاظ بشمول شاعری سے محولہ شاعر کی نسل کشی شروع کر دی تھی وہ بھی نامناسب بلکہ ناجائز کے زمرے میں آتا ہے ۔ اس لئے کہ ایک شخص کی خباثت کی سزا اس کی پوری نسل کو برے الفاظ سے یاد کر کے نہیں دی جاسکتی ۔ اس لئے یہ سلسلہ مزید موقوف ہونا چاہیئے اور وفاقی وزیر اطلاعات کے ان اقدامات کا انتظار کرنا چاہیئے جن کا اعلان سامنے آیا ہے ۔احتجاج کے حوالے سے گزشتہ روز پختون اہل قلم نے پشاور پریس کلب کے سامنے جس سنجید ہ طرز اظہار کا راستہ اپنایا وہی درست طریقہ ہے ، تاہم افسوس سیاسی قیادت پر ہے کہ اس اہم مسئلے پر بھی ماسوائے میاں افتخار حسین اور سینیٹر الیاس بلورکے علاوہ کسی بھی دوسری جماعت کا کوئی رہنما ء پختونوں کی نسلی توہین کے وقت سامنے آیا ، نہ ہی اس حوالے سے کوئی بیان ہی سامنے آیا جبکہ محترمہ ستارہ ایاز نے سینیٹ میں اس حوالے سے تحریک التواء جمع کر ادی ہے ،دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ملکی میڈیا نے بھی اس مسئلے کو وہ اہمیت نہیں دی اور ایک آدھ کے علاوہ کسی بھی میڈیا چینل یا اسلام آباد ، لاہور ، کراچی کے اخبارات نے اس حوالے سے کوئی خبر چھا پی ہے ، اگر یہ صورتحال سندھی بولنے والوں کے حوالے سے ہوتی تو پیپلز پارٹی کی قیادت قومی اسمبلی اور سینیٹ میں طوفان کھڑا کر دیتی اور ٹی وی چینلز بھی اب تک لا تعداد پروگرام کر چکے ہوتے ۔ مگر ہمارے ہاں صرف مشرق ٹی وی نے ہی اس پر پروگرام نشر کیا جس میں پی ٹی وی کے چیئر مین عطاء الحق قاسمی کو بھی اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیا ۔ بہر حال دیکھنا یہ ہے کہ ایک سرکاری سر پرستی میں چلنے والے ادارے پی ٹی وی پر کیوں ملک کی ایک اہم نسل کی کردار کشی کی گئی ۔اس سے پہلے لاہور کے ایک چینل کے مزاحیہ پروگرام میں ایک پختون کردار کو شامل کر کے پختونوں کی مسلسل دل آزاری کا سامنا کیا جاتا تھا جس پر راقم نے اپنے کالم میں شدید اعتراضات اٹھا ئے تھے تاہم شکر ہے کہ اب پروگرام سے وہ کردار ختم کر دیا گیا ہے ، اس لئے دیکھتے ہیںکہ پی ٹی وی کے ان ذمہ داروں کے خلاف کیا اقدام کیا جاتا ہے جو اس توہین کے براہ راست ذمہ دار ہیں ۔

متعلقہ خبریں