الفاظ کے زخم

الفاظ کے زخم

شاعر کوئی بھی ہو، کہیں کا بھی ہو،بولتا مگر وہ محبت کی زبان ہے۔اس کی باتوں میں مٹھاس، لفظوں میں جوڑ،انداز میں تاثیر ، کلام میں خوشبو اورپیرائے میں آنے والے زمانوں کا راز چھپا ہوتا ہے۔شاعر اپنے احساسات کو دل میں پال اورجزبات کو لفظوں میں سمو کراپنی مترنم تخلیق کو جنم دیتا ہے۔شاعر کی اپنی مٹی، زبان اور قوم سے محبت اپنی جگہ، مگر کوئی بھی پختہ اور ذی شعور شاعراپنی شاعری میںتعصب، رنگ ونسل، اونچ نیچ اور تفریق کو جگہ نہیں دیتا۔کیونکہ یہ ساری چیزیں نفرت اورتعصب کی پیداوار ہوتی ہیں۔اور اگر کوئی ایسا کرے بھی تو اس کا کلام چند دنوں کا مہمان ہوتا ہے۔اس کا کلام نہ صرف وقتی ہوتا ہے بلکہ ایسا شاعر بہت جلد ایکسپوز ہو کر لوگوں نظروں میں گر جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک نام نہاد شاعرنے چند روز پہلے سرکاری ٹی وی پر بیٹھ کرصوبہ پختونخوا کے باسیوں کے خلاف نہ صرف ہرزہ سرائی کی بلکہ جتنا ہو سکتا تھا اس نے یہاں بسنے والوں کی تضحیک کی۔ نام نہاد شاعر نے جو کچھ کہا ہے وہ میں یہاں اپنے اس معتبر اخبار کے صفحہ پر نقل نہیں کر سکتا۔ اس کے اس فعل کو اگر ذاتی جزبات اور طنز و مزاح بھی مان لیا جائے تو پھر بھی صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ جو لوگ طنز و مزاح والی شاعری کرتے ہیں ان کی بھی کچھ بلکہ بہت زیادہ حدود و قیود ہوتی ہیں۔ وہ طنز کرتے بھی ہیں تو ایسے انداز میں کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔مگر جہاں تک نام نہاد شاعر کی بات ہے تو موصوف نے طنز کیا ہے نہ مزاح، بلکہ سیدھی سادھی تضحیک کی ہے۔ میری حیرت کی انتہا ہے کہ جس وقت موصوف یہ سب کچھ کر رہا تھا تو اس کی عقل پر اتنے موٹے پردے پڑے تھے کہ اس کو اس صوبے کے لوگوں کی ساری برائیاں تو نظر آرہی تھیں مگراس کی کج فہمی ملاحظہ کیجئے کہ جن لوگوں کے بارے میں وہ بات کر رہا تھا ان کی تاریخ سے آشنا تھا نہ روایات سے واقف۔ اور پھر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ کوئی بندہ چند حاضرین کو محظوظ کرنے کیلئے پوری قوم کو نشانہ بنائے۔ موصوف اگر یہ سب کرنے سے پہلے تھوڑی سی زحمت کرتاریخ کے دوصفحے پلٹاتاتو شایدوہ ایسا کرنے سے باز آتا۔مگر یہاں لگتا ہے کہ سستی شہرت کا بھوکا شخص بس صرف چند تالیوں اور پانچ منٹ کی داد کا شوقین تھا۔میں یہ نہیں کہتا کہ پشتون کوئی آسمان سے اتری ہوئی قوم ہے اور نہ یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ یہ ساری عیوب سے پاک اورغلطیوں سے مبرا ہے۔ قطعاََ نہیں۔جس طرح دنیا کی دوسری قوموں میں اچھائیاں اور برائیاں ہوتی ہیں اس طرح پشتونوں میں بھی ہیں۔مگر ہر ایک قوم کی اپنی روایات، تشخص اور پہچان ہوتی ہے۔کچھ چیزیں اچھی ہوتی ہیں تو کچھ بری۔ دنیا میں کوئی بھی ایسی قوم نہیں ہے جو مکمل طور پر اچھی یا مکمل طور پر خراب ہو۔ اور پھر روئے زمین پر جتنی قومیںآباد ہیں وہ سب اپنی روایات،خصائل اور عادات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جہاں تک ہمارے صوبے اور لوگوں کا تعلق ہے تو ہم تعلیم میںبھی پیچھے ہوںگے، غریب بھی ہوں گے اور کلچرل خامیاں بھی ہوں گی مگر اس کاہر گز یہ مطلب نہیںکہ کوئی اٹھے اور چند لوگوں کی کچھ خامیوں کیوجہ سے ساری قوم کو جاہل اور گنوار قرار دے دے۔ بدقسمتی سے ہم پر تنقید کرنے والوں کو ہماری برائیاں تو نظر آتی ہیں، مگر اس مٹی میں پیدا ہونے والے وہ سپوت نظر نہیں آتے جنہوں نے اپنے متعلقہ شعبوں میںتاریخ رقم کی ہے۔ میںاگریہاں ان ناموں کو گنوانا شروع کر دوں تو شاید یہ سطور کم پڑ جائیں۔ مگر پھر بھی تضحیک اڑانے والوں کی خدمت میں کچھ نام عرض کرنا چاہتا ہوں۔ کون ہے جو صوفیانہ شاعری میں حضرت عبد الرحمان بابا کی ہمسری کر سکے۔ کون ہے جو ادب اور شاعری کو وہ جلال بخشے جو آج سے چار سو سال پہلے خوشحال خان خٹک نے بخشا تھا۔ کون ہے جو حمزہ خان شینواری کی طرح غزل کو تا ابد جوانی دے۔ کون ہے جو باچا خان کا ہم پلہ ہوجن کے بارے میں نیلسن منڈیلا نے نوبل ایوارڈ لیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا حقدار میں نہیں بلکہ تیس سال پابندِ سلاسل رہنے والا عبدالغفار خان ہے۔کون ہے جس کے اندرون ملک اور بیرون ملک اتنے شاگرد ہوں جتنے سابق مفتی اعظم مرحوم جناب نظام الدین شامزئی کے تھے۔پاکستان کو سکواش میں لا تعداد مرتبہ چیمپئن بنانے والے جان شیر خان اور جہانگیر خان کون ہیں؟ ۔ پاکستان کیلئے ٹیسٹ میں دس ہزار رنز بنانے والے لیجنڈ یونس خان کہاں کے ہیں؟ ماریہ تورپیکئی کون ہیں؟ ملالہ یوسفزئی کے کارنامے سے کون انکار کر سکتا ہے؟ سابق صدر غلام اسحٰق خان اورپشتو موسیقی کو نیا انداز دینے والے اور نوبل ایوارڈز کی تقریب میں شہرئہ آفاق گیت گانے والے سردار علی ٹکر کہاں کے ہیں؟ ۔ ایکٹنگ کو نیا انداز دینے والے شہنشاء جزبات اور بر صغیر کے سب سے بڑے اداکار یوسف خان( دلیپ کمار) سے آج بھی پشاور کی خوشبو آتی ہے۔ اور رومانس کے بادشاہ شاہ رخ خان بھی تو پشاوری ہی ہیں۔یہ بطورِ مثال چند نام پیش کئے ہیں۔کارناموں کے لحاظ سے اس مٹی کے سپوتوں کا ذکر کروں تو شاید کتابیں چھاپنے کی ضرورت پیش آجائے۔ لیکن بدقسمتی سے تاریخ کی کتابوں میں ہمیں اگر صرف بہادر ی کے وصف سے نوازا جاتا ہے تو ڈراموں اورفلموں میں چوکیدار تک ہی محدود کیا جاتا ہے ۔ ہماری بحیثیتِ قوم حسِ جمالیات، فنونِ لطیفہ اور عجز و انکساری کسی کو دکھائی نہیں دیتی۔بہر حال ہم سب کو پاکستانی بن کر پاکستان کی ترقی کیلئے کام کرنا چاہئے کیونکہ ایک دوسرے کے پیچھے بات کرنے سے اگر ایک طرف لو گو ںکی دل آزاری ہوتی ہے تو دوسری طرف پیارے وطن کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔

متعلقہ خبریں