وفاقی حکومت احتجاج کی نوبت نہ آنے دے

وفاقی حکومت احتجاج کی نوبت نہ آنے دے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی اور بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے فنڈزاچانک روک لئے ہیں جس کی وجہ سے صوبے بھر میں ترقیاتی سکیموں پر کام بھی جمود کا شکار ہوا ہے اور عوامی اہمیت کے بیشتر منصوبے ادھورے رہ گئے ہیں۔ طویل عرصہ سے دہشت گردی اور غربت و پسماندگی سے دو چار صوبے کے ساتھ اس طرح کا طرز عمل وفاق کو زیب نہیں دیتا بلکہ ہمیں اپنے وسائل پوری فراخدلی کے ساتھ اور وقت سے پہلے ملنے چاہئیں اس لئے وفا ق کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر آئندہ ایک دو ہفتوں میں ہمارے فنڈ واگزار نہ کئے تو ہم مجبوراً اسلام آباد میں دھرنا دینے پر مجبور ہونگے۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے ان گلے شکوئوں اور وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کی حکومت اور عوام سے سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھنے سے قطع نظر خود صوبائی حکومت کا مقامی حکومتوں سے روا سلوک بھی وفاقی حکومت کے صوبے کے سلوک سے زیادہ مختلف نہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے گزشتہ سالوں کے ترقیاتی فنڈ کے عدم استعمال پرمقامی حکومتوں کو رواں مالی سال میں فنڈ دینے سے انکار کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ صوبے کی تمام ضلعی،تحصیل اور ویلج و نیبر ہڈ کونسلیں جب تک گزشتہ سالوں کے جاری شدہ فنڈ کو استعمال نہیں کرتیں اس وقت تک مزید فنڈ جاری نہیں کیا جائیگا۔صوبائی حکومت کی جانب سے مقامی حکومتوں کو فنڈز کے عدم اجراء کی بڑی وجہ پہلے سے جاری کردہ فنڈز کا ہنوز عدم استعمال بتایا جاتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان فنڈز کا استعمال کیوں نہیں کیاجاسکا اور صوبائی حکومت اور محکمہ خزانہ نے اب تک اس بارے میں کیا اقدامات کئے ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ مقامی حکومتوں کی جانب سے آئے روز فنڈز کی عدم فراہمی کا رونا رویا جاتاہے مگر اعداد و شمار کے برعکس صورتحال کی نشاندہی ہوتی ہے۔ فنڈز کے استعمال میں ناکامی صوبائی حکومت کا بھی بڑا مسئلہ رہا ہے۔ معلوم نہیں حکومتی منیجروں کو رقم کے استعمال کا سلیقہ کیوں نہیں آتا۔ ابتداء میں تو طریقہ کار اور ضوابط طے کرنے کو تاخیر کا سبب گردانا گیا مگر اب تو چار سال سے زائد کاعرصہ بیت چکا مگر پھر بھی موجودہ حکومت ترقیاتی فنڈزکو استعمال میں لانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ گوکہ اس کمزوری کو وفاقی حکومت کی جانب سے جواز بنانے کا کوئی جواز نہیں لیکن بہرحال اس کی جانب اشارہ اور طنز ممکن ہے جس سے قطع نظر وفاقی حکومت صرف موجودہ نہیں بلکہ ہر دور میں مرکز کی جانب سے صوبوں بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے جس کے باعث خیبر پختونخوا میں احساس محرومی تو ہے لیکن اس کی سطح بلوچستان کی نہیں جہاں بلوچوں کی ناراضگی او رریاست کے خلاف کھڑے ہونے کی ایک بڑی وجہ احساس محرومی کا برداشت کی حدوں سے باہر ہوجانا بھی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مضبوط فیڈریشن کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہونا چاہئے کہ وہ صوبوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرے۔ مضبوط فیڈریشن مضبوط ملک کی بنیاد اسی وقت ہی بن سکتا ہے جب صوبوں کو ان کے حقوق اور واجبات کی حتی الوسع ادائیگی کی سعی کی جائے۔ خیبر پختونخوا کو نہ صرف مرکز کی جانب سے فنڈز کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں میں بلا وجہ رکاوٹ کا سامنا رہتا ہے بلکہ بجلی کے خالص منافع کی ادائیگی میں تعطل و تاخیر اور کم ادائیگی کے باعث خیبر پختونخوا کے پورے میزانئیے کا توازن ہی بگڑ جاتا ہے جسے پورا کرنے کے لئے صوبائی حکومت کو ترقیاتی فنڈز کو غیر ترقیاتی مدات پر خرچ کرنے کی نوبت ہے جس کے باعث صوبے کا مجموعی مالیاتی توازن بگڑ جاتا ہے۔ اس ساری صورتحال میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا سخت لب و لہجہ اور احتجاج کی دھمکی ہی صرف کافی نہیں بلکہ اگر اس سے وفاق حسب دستور ٹس سے مس نہ ہو جائے تو صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ اسلام آباد کے گھیرائو سے دریغ نہ کیا جائے۔ ہمارے تئیں صوبے اور مرکز میں الگ الگ سیاسی جماعتوں کی حکومت ہونے سے معاملات کی ہم آہنگی پر اثر ضرور پڑتا ہے اور الگ الگ خیالات کی حامل حکومتوں میں اختلافات فطری امر ہے لیکن ان اختلافات کو کسی صوبے کے عوام کے مجموعی مفادات کو متاثر کرنے کی حد تک بڑھانے کی کسی طور گنجائش نہیں۔ صوبے کی حکومت پر مرکز سے اچھے تعلقات اور حکمت و بصیرت سے صوبے کے حقوق کے حصول کی سعی کی ذمہ داری ضرور آتی ہے لیکن مرکز کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ صوبے کے عوام کو محروم کردینے والے عوامل سے اجتناب کرے۔ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) کی سیاسی مخاصمت سڑکوں اور الیکشن کے مواقع پر ضرور ہوں لیکن دو حکومتوں کے درمیان تعلقات اور خاص طور پر عوامی وسائل کو عوام کے مفاد کے لئے بروئے کار لانے کے مواقع پر بالکل ہی اس کا اظہار سامنے نہ آئے۔ مرکزی حکومت کو اس امر کا ادراک ہونا چاہئے کہ صوبے کے عوام پاکستان کے عوام ہیں اور پاکستان کے عوام کا ملکی خزانے پر یکساں حق ہے۔ اگر اس میں محروم کرنے پر مبنی اقدامات ہوں گے تو پھر صوبے کے عوام کا خواہ صوبے میں جس کسی کی بھی حکومت ہو بلا امتیاز اپنے حقوق کے حصول کے لئے صوبائی حکومت اور صوبے کی قیادت سے ہم آواز ہو کر آواز بلند کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔ گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو مشترکہ طور پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزارت خزانہ سے اس ضمن میں بات چیت کرکے معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی سنجیدہ سعی کرنی چاہئے۔ مرکزی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ صوبے کے عوام کے حقوق پر پائوں رکھنے کی بجائے خوش دلی کے ساتھ خیبر پختونخوا کو اس کے حصے کے ترقیاتی فنڈز کی فراہمی میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے تاکہ کسی احتجاج کی نوبت ہی نہ آئے۔

متعلقہ خبریں